پاکستان بمقابلہ نیدرلینڈز پر سمیع چوہدری کا کالم: شاداب خان کی اننگز نے لاج رکھ لی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
ٹام کُوپر کے کریز سے باہر نکلنے میں اک خاص سی ادائے بے نیازی تھی۔ یہ جارحیت کا ایک غیر معمولی مظاہرہ تھا کہ وہ خود سے کہیں تگڑے اور نامی گرامی بولرز کو خاطر میں نہیں لا رہے تھے اور گیند کو پے در پے باؤنڈری کی سیر کروا رہے تھے۔
جس عزم سے کُوپر اس ہدف کے تعاقب میں گامزن تھے، یکبارگی ڈچ ڈریسنگ روم میں امیدوں کے چراغ سے جل اٹھے اور پاکستانی کیمپ پر ایک بدحواسی سی طاری ہوئی۔
پاکستان کی یہ بدحواسی بالکل بجا تھی کیونکہ پچ بیٹنگ کے لیے سازگار تھی، گیند کھل کر بلے پر آ رہا تھا اور اس وکٹ کے اعتبار سے پاکستان کا مجموعہ 30, 35 رنز کم تھا۔
مگر بالآخر حارث رؤف کوپر کو مات دینے میں کامیاب ٹھہرے لیکن کُوپر کے کریز سے رخصت ہونے کے بعد بھی ایسا ہرگز نہیں ہوا کہ بابر اعظم کی سانس میں سانس آ گئی ہو بلکہ کپتان سکاٹ ایڈورڈز میدان میں اترے اور جارحیت کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں سے کوپر نے منقطع کیا تھا۔
اگر یہاں وکرمجیت سنگھ کی اننگز ایسی سست روی سے دوچار نہ ہوتی تو شاید آخری اوورز میں مطلوبہ رن ریٹ قدرے کم ہوتا اور ایک غیر متوقع اپ سیٹ پاکستان کا مقدر رہتا مگر بھلا ہو شاداب خان اور فخر زمان کی اننگز کا، کہ اس خطرے کو ٹال گئے۔
فخر زمان کے لیے گزشتہ چند مہینے خاصے صبر آزما رہے ہیں۔ ون ڈے کرکٹ کے فقدان اور ٹی ٹونٹی میں اپنے بیٹنگ آرڈر سے ہٹ کر کھیلنے کے سبب، وہ اپنی شہرت سے انصاف نہیں کر پائے مگر روٹرڈیم کی وکٹ ان کی بلے بازی کے انداز سے گہری مطابقت رکھتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPCB
فخر زمان ہائی بیک لفٹ سے کھیلتے ہیں اور جہاں وکٹ میں قدرے باؤنس زیادہ ہو، وہاں ان کے لیے بازو کھولنے کا پورا پورا موقع میسر ہوتا ہے۔ یہاں کلاسن جیسے تجربہ کار بولر سے محروم ڈچ بولنگ اٹیک کے خلاف انھوں نے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنے کرئیر کی ساتویں سینچری جڑ کر پاکستان کے مجموعے کو کسی قابلِ قدر حیثیت تک پہنچایا۔
مگر پاکستان کے لیے بابر اعظم کی قائدانہ اننگز اور فخر کی یہ کاوش بھی کم پڑ جاتی اگر شاداب خان کی ’آتش بازی‘ شاملِ حال نہ ہوتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آخری اوورز میں جب پاکستان کے لیے 300 کا ہندسہ چھونا دشوار ہو رہا تھا، وہاں شاداب خان کی آل راؤنڈ صلاحیت نے پاکستان کے لیے میچ بنا دیا اور ایسا ہدف تشکیل دیا جو بعد ازاں نسیم شاہ اور حارث رؤف کے لیے قابلِ دفاع ثابت ہوا۔
مگر ان چند قابلِ ذکر پرفارمنسز کے سوا، بحیثیتِ مجموعی یہ پاکستان کے لیے قطعی کوئی قابلِ رشک میچ نہیں تھا اور یقیناً یہ ٹیم بھی اس کارکردگی کو دہرانا نہیں چاہے گی۔
جس طرح سے کیچز ڈراپ کیے گئے اور رن آؤٹ کے بے شمار مواقع ضائع کیے گئے، ان سے عیاں ہے کہ فیلڈنگ کوچ کو ایشیا کپ سے پہلے پہلے بہت کچھ کر گزرنا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہPCB
بابر اعظم کو جب ون ڈے ٹیم کی کپتانی سونپی گئی تھی، تب انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ مثبت اور جارحانہ ماڈرن کرکٹ کھیلیں گے مگر روٹرڈیم کی یہ پرفارمنس کسی بھی لحاظ سے مثبت، جارحانہ یا ماڈرن نہیں تھی اور پاکستان کے لیے مڈل آرڈر کا عقدہ ابھی بھی وہیں کا وہیں ہے۔
اگر دونوں ٹیموں کی استعداد اور صلاحیت کو اس سکور لائن سے منہا کر دیا جائے تو شاید یہ پاکستان کے لیے تسلی بخش کارکردگی ہو لیکن اگر دونوں ٹیموں کی رینکنگ کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو سنہ 2022 کی ون ڈے گیم میں ایسا سست آغاز کسی بھی طور سے قابلِ توجیہہ نہیں۔
مزید برآں جب اس منظرنامے میں وکٹ کی تیزی اور ڈچ بولنگ کی ناتجربہ کاری کے عوامل بھی شامل کیے جائیں تو ابھرنے والی مجموعی تصویر پاکستان کے لیے خاصی پریشان کن نظر آتی ہے۔
اگرچہ حتمی نتیجے میں فاتح پاکستان ہی ٹھہرا مگر اس امر کا بابر اعظم کو بھی بخوبی ادراک ہو گا کہ شاداب خان کی جارحانہ اننگز نے ان کی لاج رکھ لی ورنہ یہاں ہزیمت خارج از امکان ہرگز نہیں تھی۔










