آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کامن ویلتھ گیمز 2022: سمرتی مندھانا کی دھواں دار بلے بازی کا راہول ڈریوڈ سے کیا تعلق ہے؟
- مصنف, ودھانشو کمار
- عہدہ, بی بی سی ہندی، سپورٹس
کامن ویلتھ گیمز میں انڈیا نے پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی۔ اس جیت کی ہیرو بلے باز سمرتی مندھانا تھیں۔
انڈیا نے یہ جیت سمرتی کی 63 رنز کی اننگز کی مدد سے حاصل کی۔ ارجن ایوارڈ یافتہ سمرتی مندھانا آج عالمی کرکٹ کا ایک بڑا نام ہیں۔
لیکن ممبئی کی گلیوں سے کھیلتے ہوئے انڈیا کی کپتانی کا سفر ان کے لیے آسان نہیں تھا۔
آئیے ان کے کرکٹ کیریئر کے کچھ منفرد پہلوؤں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
بائیں سے دائیں ہاتھ کی بلے باز کیسے بنیں
سمرتی کی پیدائش ممبئی میں ہوئی، جب وہ چار سال کی تھیں تو انھیں کرکٹ میں دلچسپی پیدا ہوئی اور انھوں نے اپنے بڑے بھائی شراون مندھانا کے ساتھ گھر پر کرکٹ کھیلنا شروع کر دی۔
سمرتی کا شمار آج دنیا کے سٹائلش بائیں ہاتھ کے بلے بازوں میں ہوتا ہے لیکن سمرتی کا دایاں ہاتھ زیادہ مضبوط اور غالب ہے۔ ان کے دائیں ہاتھ کی بلے باز بننے کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔
دراصل سمرتی کے والد تھوڑی کرکٹ کھیلتے تھے اور دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے تھے۔ لیکن جب وہ اپنے بیٹے شراون کے ساتھ گھر میں کھیلتے تھے تو بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چند سال قبل ایک انٹرویو میں سمرتی نے بتایا تھا کہ ان کے بھائی سمجھتے تھے کہ بیٹنگ بائیں ہاتھ سے کی جاتی ہے اور انھوں نے بائیں ہاتھ کا استعمال کیا اور بیٹنگ شروع کردی۔ ان دونوں کو دیکھ کر سمرتی نے بھی بائیں ہاتھ سے بلے کو پکڑا اور مسلسل مشق کے بعد وہ آج اس مقام تک پہنچی ہیں۔
ماں سے مدد
سمرتی کی پیدائش ایک مارواڑی خاندان میں ہوئی جہاں عام طور پر روایتی اقدار کو ترجیح دی جاتی ہے۔
سمرتی کا کہنا ہے کہ ان کے اردگرد کے لوگ اور گھر والے بھی چاہتے تھے کہ سمرتی روایتی انداز میں رہیں لیکن ان کی والدہ چاہتی تھیں کہ سمرتی اپنے بھائی کی طرح کھیل کھیلے۔ شروع میں ان کا ذہن سمرتی کو ٹینس کی تربیت حاصل کروانے کا تھا، لیکن سمرتی کی کرکٹ میں دلچسپی دیکھ کر انھیں کرکٹ بھی سکھائی جانے لگی۔
سمرتی اپنے بھائی کے ساتھ گراؤنڈ پر جاتیں اور ان کی مکمل بیٹنگ کے بعد سمرتی کو 10-15 گیندیں کھیلنے کا موقع مل جاتا۔ رفتہ رفتہ ان کا کھیل بہتر ہوتا گیا چڑھا تو انھیں بھی بھرپور پریکٹس کا موقع ملنے لگا۔ سمرتی نے تیزی سے ترقی کی اور صرف 11 سال میں وہ مہاراشٹر کی انڈر 19 ٹیم میں آگئیں۔
لیکن ان کے گھر والوں کو شکایت تھی کہ لڑکی لڑکا بن کر کرکٹ کھیلتی ہے، سارا دن دھوپ میں رہنے کی وجہ سے رنگ سیاہ ہو جاتا ہے تو شادی کس کی ہو گی۔ ایسی بیہودہ شکایتوں پر اس کی ماں سمیتا ہمت بڑھاتی اور کہتیں کہ تم اپنے کھیل پر توجہ دو، میں ایسے لوگوں کو دیکھوں گی۔
سمرتی نے بھی ہمت نہیں ہاری اور اپنی پہلی محبت کرکٹ کو پورا وقت دیا۔
ڈریوڈ کا بیٹ سمرتی کا خوش قسمت بیٹ بن گیا
17 سالہ سمرتی نے فرسٹ کلاس ون ڈے میچ میں ڈبل سنچری بنائی۔ ویسٹ زون انڈر 19 ٹورنامنٹ میں اس نے 138 گیندوں میں 32 چوکے لگا کر 200 رنز بنائے اور 224 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہیں۔
یہ ایک ریکارڈ سنچری تھی کیونکہ اس سے پہلے کسی بھی انڈین خاتون کرکٹر نے ون ڈے میں ڈبل سنچری نہیں بنائی تھی۔
اپنی فارم کے ساتھ سمرتی نے اس سنچری کا سہرا راہول ڈریوڈ کو دیا۔ دراصل، کچھ سال پہلے سمرتی کے بھائی نے راہول ڈریوڈ سے ملاقات کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
ایک سچے پرستار کی طرح اس نے ڈریوڈ سے ان کے ایک بلے کا مطالبہ کیا۔ ڈریوڈ نے بھی مایوس نہیں کیا اور انھیں کٹ میں سے ایک بیٹ نکال دیا۔ بھائی شراون نے آٹوگراف لیا اور اس بلے پر بہن سمرتی کا نام لکھوایا۔ جب سمرتی کو یہ تحفہ ملا تو وہ بہت خوش تھیں۔ لیکن سمرتی نے یہ بھی دیکھا کہ بیٹ کتنا شاندار ہے۔
انھوں نے کہا، 'واہ، بلے میں کیا زبردست توازن ہے، میں صرف اس سے کھیلوں گی۔' سمرتی نے اسی بلے سے کھیلنا شروع کیا اور بہت زیادہ رنز بنائے جس میں وہ ڈبل سنچری بھی شامل تھی۔ حد تو تب ہو گئی جب سمرتی نے اس بلے سے ساری اننگز کھیلنی شروع کر دیں۔ بعد میں اس کے والد نے سمجھایا کہ اب بلے کو بدل دو، یہ پرانا ہو گیا ہے۔ آج وہ بلا ان کے شو کیس میں سجا ہوا ہے۔
چوٹ نے نقطہ نظر کو تبدیل کر دیا
سمرتی کی شہرت ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی پھیلنے لگی اور انھیں بیرون ملک سے بھی کھیلنے کے آفرز ملنے لگے۔ 2016-17 میں، انھیں آسٹریلیا کی خواتین کی بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ کے لیے کھیلنے کا موقع ملا۔ ہرمن پریت کے ساتھ، وہ پہلی انڈین کرکٹر تھیں جنھیں اس لیگ نے سائن کیا تھا۔
لیکن اس لیگ میں سمرتی کو اپنی پسندیدہ پوزیشن اوپننگ میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ جنوری میں میلبورن کے خلاف کھیلتے ہوئے سمرتی گر گئیں اور گھٹنے کی شدید چوٹ کا شکار ہو گئیں۔
سمرتی کافی عرصے سے کرکٹ سے دور رہیں اور اس دوران وہ صرف یہی دعا کرتی تھیں کہ جون میں ہونے والے ورلڈ کپ تک وہ فٹ رہیں۔
سمرتی کہتی ہیں کہ اس چوٹ نے زندگی کے بارے میں ان کا نظریہ بدل دیا۔
ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے وہ بہت مایوس ہو جاتی تھیں اگر وہ کسی اننگز میں خراب کھیلتی تو اسے اپنی زندگی کا بدترین مرحلہ سمجھتی تھیں۔ لیکن چوٹ کے دوران مجھے احساس ہوا کہ میں اب چل بھی نہیں سکتی، اس وقت میں چل تو سکتی تھی۔
سمرتی کا کہنا ہے کہ وہ سوچتی تھیں کہ انھوں نے کرکٹ کھیلنا شروع کی کیونکہ وہ اس سے لطف اندوز ہوتی تھیں لیکن پروفیشنل کرکٹ میں وہ شاید اس خوشی سے دور ہو رہی تھیں۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سخت محنت کریں گی اور دوبارہ کرکٹ سے لطف اندوز ہوں گی۔لٹ
خود پر اعتماد کے باعث سمرتی ورلڈ کپ تک فٹ ہو گئیں اور پہلے ہی میچ میں انگلینڈ کے خلاف شاندار 90 رنز بنائے۔ انھوں نے اسی ٹورنامنٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سنچری بھی بنائی تھی۔
سمرتی مندھانا آج عالمی کرکٹ کا ایک بڑا نام ہیں۔ پہلے انڈین خواتین کرکٹ میں لوگ متھالی راج یا جھولن گوسوامی کا نام لیتے تھے لیکن آج کے دور میں ہرمن پریت اور سمرتی کسی سے کم نہیں ہیں اور شائقین کے لبوں پر انھی کے نام ہیں۔