کیا واقعی لیفٹ آرم سپن بولنگ پاکستانی بیٹسمینوں کی کمزوری ہے؟

رنگانا ہیرتھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کیا اسے محض اتفاق سمجھا جائے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ 2911 رنز بنانے والے کمار سنگاکارا اور 365 کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلنے والے سرگیری سوبرز بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے تھے۔

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے خلاف پہلی تین بڑی انفرادی اننگز کھیلنے والے سرگیری سوبرز، ڈیوڈ وارنر اور مارک ٹیلر بھی لیفٹ ہینڈڈ بیٹسمین ہیں۔

اور کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ مجموعی رنز بنانے والے پہلے پانچ بیٹسمینوں میں سے تین کمار سنگاکارا، الیسٹر کک اور ایلن بورڈر بھی بائیں ہاتھ کے بیٹسمین ہیں۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ بولنگ میں بھی پاکستان کے خلاف بائیں ہاتھ کے سپنرز نے ہمیشہ غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے جس کی سب سے بڑی مثال سری لنکا کے رنگانا ہیرتھ ہیں جو پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ 105 وکٹیں لینے والے بولر ہیں۔

اور اس سلسلے کی تازہ ترین مثال سری لنکا ہی کے نئے لیفٹ آرم سپنر پراباتھ جے سوریا ہیں جنھوں نے گال ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں نو وکٹیں حاصل کیں۔

لیفٹ آرم سپنرز اتنے کامیاب کیوں؟

پاکستانی بیٹسمینوں کے خلاف بائیں ہاتھ کے سپنرز کی شاندار کارکردگی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی۔ اس پر نظر ڈالنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بائیں ہاتھ کے سپنرز پاکستانی بیٹسمینوں کے خلاف ہمیشہ کامیاب رہے ہیں؟

جب میں نے یہ سوال پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق کے سامنے رکھا تو اُن کا جواب تھا کہ ’یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستانی ٹیم جب بھی ہوم گراؤنڈ کے علاوہ دیگر ایشیائی وکٹوں پر کھیلتی ہے تو وہاں سپنرز کا کردار بہت زیادہ ہوتا ہے اور تقریباً تمام ہی ٹیموں کے پاس اعلیٰ معیار کے لیفٹ آرم سپنرز ہوتے ہیں لہذا وہ بہت زیادہ بولنگ کرتے ہیں تو انھیں وکٹیں بھی ملتی ہیں۔‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگرچہ میں اور یونس خان نے رنگانا ہیرتھ کو بڑے اعتماد سے کھیلے ہیں اور ہم دونوں کی بیٹنگ اوسط ہیرتھ کی بولنگ پر پچاس سے اوپر کی ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے ہمارے خلاف وکٹیں لی ہیں۔ دراصل یہ بیٹسمین اور بولر کے درمیان ایک جنگ ہوتی ہے جس میں کبھی بیٹسمین کو کامیابی ملتی ہے کبھی بولر جیت جاتا ہے۔‘

مصباح الحق کہتے ہیں کہ ’سری لنکا اور بنگلہ دیش میں خاص طور پر ایسی وکٹیں بنتی ہیں جن پر لیفٹ آرم سپنرز کو بہت زیادہ نیچرل ویری ایشن ملتی ہے۔ اگر بولر وکٹ ٹو وکٹ گیند کرتا ہے تو گیند شائن والی سائیڈ سے وکٹ پر گر کر اسکڈ کرتی ہے، اسی لیے لیفٹ آرم سپنر زیادہ مؤثر ہو جاتے ہیں۔‘

مصباح الحق مزید کہتے ہیں ’رائٹ آرم سپنر کی گگلی، فلیپراور لیگ بریک کو وہ بیٹسمین آسانی سے کھیلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو بولر کے ہاتھ کو دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ یہ گیند کون سی ہو گی۔ اس کے مقابلے میں لیفٹ آرم سپنر کی ’آرم بال‘ بھی بڑی خطرناک ثابت ہوتی ہے جس پر اسے ایل بی ڈبلیو سے وکٹیں ملتی ہیں۔‘

مصباح الحق نے گال ٹیسٹ میں عبداللہ شفیق اور بابراعظم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں نے پراباتھ جے سوریا کی بولنگ پر بیٹ کو آگے رکھ کر گیند کی لائن میں آ کر بیٹنگ کی اور کامیاب رہے کیونکہ لیفٹ آرم سپنر کو اعتماد سے کھیلنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔

اقبال قاسم
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے سابق لیفٹ آرم سپنر اقبال قاسم پاکستان کی متعدد یادگار فتوحات میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں

سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان لیفٹ آرم سپنرز کی پاکستان کے خلاف قابل ذکر کارکردگی کے بارے میں کہتے ہیں ’مجھے اس کی صرف یہی ایک وجہ نظر آتی ہے کہ لیگ سپن گگلی بولر اور آف سپنر دائیں ہاتھ کے بیٹسمین کو رنز بنانے کا زیادہ موقع فراہم کرتے ہیں، ان دونوں کے برعکس لیفٹ آرم سپنر زیادہ ایکیوریٹ ہوتا ہے لہذا وہ بیٹسمین کو آسانی سے رنز بنانے کے مواقع نہیں دیتا۔‘

پاکستان کے سابق لیفٹ آرم سپنر اقبال قاسم پاکستان کی متعدد یادگار فتوحات میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں جن میں بنگلور ٹیسٹ کی جیت سب سے نمایاں ہے۔

50 ٹیسٹ میچوں میں 171 وکٹیں حاصل کرنے والے اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ ’فاسٹ بولنگ میں آؤٹ سوئنگ کرنے والے بولر اور سپن بولنگ میں لیفٹ آرم سپنر بہت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ دونوں کی گیند دائیں ہاتھ کے بیٹسمین کے باہر نکلتی ہے اور اس پر آؤٹ ہونے کے بہت زیادہ امکانات موجود ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ٹرننگ وکٹ ہو تو ہر ٹیم لیفٹ آرم سپنر کو ضرور کھلاتی ہے۔‘

اقبال قاسم کا کہنا ہے ’لیفٹ آرم سپنر کی ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک ہی ایکشن سے بولنگ کرتے ہوئے گیند کو باہر بھی نکالتا ہے اور آرم بال کی شکل میں گیند کو اندر بھی لاتا ہے۔‘

اقبال قاسم نے حریف بیٹسمینوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ اور پھر پاکستانی ٹیم کے نیٹ پر جاوید میانداد، ظہیر عباس، آصف اقبال اور ماجد خان جیسے ورلڈ کلاس بیٹسمینوں کو بولنگ کی ہے۔

وہ اپنے تجربات کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ ’بیٹسمین دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو کریز میں رہ کر کھیلتے ہیں جیسے ماجد خان تھے دوسری طرح کے وہ بیٹسمین ہوتے ہیں جو کریز سے باہر نکل کر فٹ ورک استعمال کرتے ہیں، جیسے جاوید میانداد۔‘

’جو بیٹسمین کریز میں رہ کر کھیلتے ہیں انھیں آؤٹ کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے کیونکہ آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ کریز سے باہر نہیں نکلیں گے، اسی لیے آپ انھیں ایک ہی لائن پر بولنگ کرتے ہیں لیکن جو بیٹسمین فٹ ورک کا استعمال کرتے ہیں انھیں آؤٹ کرنا مشکل ہوتا ہے، جیسے جاوید میانداد کو آپ باندھ نہیں سکتے۔ اسی طرح سلیم ملک اور انضمام الحق کبھی بھی سپنرز کو ایک جگہ کھڑے ہو کر نہیں کھیلتے تھے۔ ظہیرعباس جب فارم میں ہوتے تھے تو انھیں بھی آؤٹ کرنا مشکل ہوتا تھا۔‘

اقبال قاسم سے سوال تھا کہ آپ کو سب سے مشکل بیٹسمین کون لگا، تو انھوں نے جواب دیا ’جاوید میانداد کو روکنا بہت مشکل تھا۔ گاواسکر کا انہماک غیرمعمولی تھا، جو لیفٹ آرم سپنرز کی گیند پر آخر وقت تک نظر رکھ کر کھیلتے تھے۔‘

اقبال قاسم کہتے ہیں کہ ’لیفٹ آرم سپنر کی حیثیت سے میں بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والوں سے گھبراتا تھا کیونکہ وہ پیر آگے رکھ کر گیند کو مڈ وکٹ پر کھیل دیا کرتے تھے یا سوئپ کر دیتے تھے اس لیے انھیں قابو میں رکھنے کے لیے ایک ہی طریقہ تھا کہ سٹمپ ٹو سٹمپ گیند کریں یا پھر انھیں مجبور کریں کہ وہ کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش میں غلطی پر مجبور ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

لیفٹ آرم سپنرز کی چند مشہور پرفارمنس

ونو منکڈ

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنپاکستانی کرکٹ ٹیم کو سنہ 1952 میں دہلی کے اپنے اولین ٹیسٹ میں ہی لیفٹ آرم سپن کا سامنا کرنا پڑ گیا تھا جب ونو منکڈ نے پہلی اننگز میں آٹھ اور دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو سنہ 1952 میں دہلی کے اپنے اولین ٹیسٹ میں ہی لیفٹ آرم سپن کا سامنا کرنا پڑ گیا تھا جب ونو منکڈ نے پہلی اننگز میں آٹھ اور دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے پاکستانی ٹیم کو اننگز اور 70 رنز کی شکست سے دوچار کر دیا تھا۔

پاکستانی ٹیم نے سنہ 1954 میں جس اوول ٹیسٹ میں تاریخی کامیابی حاصل کی تھی اس میں بھی اسے سب سے بڑا خطرہ لیفٹ آرم سپنر جانی وارڈل سے تھا جنھوں نے پاکستانی ٹیم کی دوسری اننگز میں سات وکٹیں حاصل کر کے انگلینڈ کو جیتنے کا اچھا موقع فراہم کیا تھا لیکن فضل محمود کی شاندار کارکردگی نے پاکستان کو 24 رنز سے یادگار کامیابی دلائی تھی۔

ستر کے عشرے میں جب انگلینڈ میں پچز کو ڈھانپا نہیں جاتا تھا تو بارش کے بعد ہونے والے کھیل میں لیفٹ آرم سپنر ڈیرک انڈرووڈ کی جیسے عید ہو جایا کرتی تھی۔ سنہ 1974 میں انھوں نے لارڈز ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پانچ اور دوسری اننگز میں آٹھ وکٹیں حاصل کر ڈالی تھیں۔

سنہ 1984 میں انگلینڈ کے خلاف کراچی ٹیسٹ کون بھول سکتا ہے جس میں پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لیے صرف 65 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن وہ سات وکٹیں گنوا کر بمشکل جیت پائی تھی اس کا سبب بائیں ہاتھ کے سپنر نِک کک کی شاندار بولنگ تھی جنھوں نے پہلی اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کرنے کے بعد دوسری اننگز میں بھی پانچ بیٹسمینوں کو آؤٹ کر دیا تھا۔

سنہ1987 میں پاکستان نے جس بنگلور ٹیسٹ میں اقبال قاسم اور توصیف احمد کی جادوئی بولنگ کے نتیجے میں تاریخی کامیابی حاصل کی اس میں انڈین لیفٹ آرم اسپنر منندر سنگھ نے میچ میں 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ منندر سنگھ کو اس شاندار کارکردگی کے باوجود بشن سنگھ بیدی کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

منندر سنگھ

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنمنندر سنگھ کو اس شاندار کارکردگی کے باوجود بشن سنگھ بیدی کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا

جب اقبال قاسم نے بشن سنگھ بیدی سے بنگلور ٹیسٹ کے آرام والے دن منعقدہ ایک تقریب میں منندر سنگھ کی بولنگ کی تعریف کی تو بشن سنگھ بیدی نے کہا کہ منندر سنگھ اس وکٹ پر غیر ضروری طور پر گیند کو ٹرن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ یہ ایسی وکٹ ہے جس پر سیدھی گیند بھی خود بخود ٹرن ہو جائے گی۔

اقبال قاسم کے لیے بیدی کی یہ بات جیت کا گُر ثابت ہوئی اور انھوں یہ بات ذہن میں رکھ کر بولنگ کی اور فتح گر بولر بن گئے۔

آخر میں پاکستان کے خلاف سب سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے لیفٹ آرم اسپنر رنگانا ہیرتھ کا ذکر جنھوں نے 2014 کے کولمبو ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 127 رنز دے کر نو وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی زد سے بچ جانے والی واحد وکٹ احمد شہزاد کی تھی۔

رنگانا ہیرتھ نے دوسری اننگز میں بھی پانچ وکٹیں حاصل کر کے میچ میں 14 وکٹوں کی غیرمعمولی کارکردگی سے سری لنکا کو 105 رنز کی جیت سے ہمکنار کیا۔