سمیع چوہدری کا کالم: پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز، پُورن کے چیلنجز میں کرکٹ کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوگا

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

اب وہ دن گزر چکے کہ جب جی میں آئے، کوئی سی بھی دو ٹیمیں، کہیں بھی دوطرفہ سیریز کھیلنے لگیں اور ہفتہ ڈیڑھ کی انٹرٹینمنٹ کے بعد مصافحہ کر کے گھروں کو لوٹ جائیں۔

ماڈرن کرکٹ کیلنڈر اس قدر لبریز ہو چکا ہے کہ دو طرفہ کرکٹ کے لیے مناسب جگہ پیدا کرنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔

حال ہی میں اختتام پذیر ہوئی آئی پی ایل کو ہی دیکھ لیجیے کہ یہ کس خاموشی سے انٹرنیشنل کیلنڈر کے ڈھائی مہینے چاٹ گئی اور ابھی یہ پیشگوئیاں بھی جاری ہیں کہ آئی پی ایل کے سالانہ سیزن کو کچھ اور وسعت دے کر سال کے دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے یعنی ڈیڑھ ماہ ایک 'سیمسٹر' چلے اور پھر گرمیوں کی تعطیلات کے بعد دوسرا راؤنڈ چالو ہو جائے۔

اور پھر ہر ملک کی اپنی اپنی ٹی ٹونٹی لیگ بھی ہے جو اوسطاً سوا مہینہ کے لگ بھگ جاری رہتی ہے۔ اس گھمسان کا شاخسانہ یہ ہے کہ کرکٹ کے فیصلہ سازوں کو سر جوڑنا پڑ رہے ہیں کہ اس ساری مارا ماری میں آئندہ آئی سی سی ورلڈ کپ کیسے ایڈجسٹ کئے جائیں جبکہ بھارت جیسا بڑا سٹیک ہولڈر اب انٹرنیشنل کرکٹ میں کچھ خاص دلچسپی دکھانے پہ آمادہ نہیں ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود اگر کل سہہ پہر ملتان میں پاکستان کی قومی ٹیم ویسٹ انڈیز کی قومی ٹیم کے سامنے، کسی چمچماتی ٹی ٹونٹی لیگ کی شرٹ کی بجائے، اپنی قومی وردی میں نبردآزما ہو گی تو ہم جیسے کہنہ پسندوں کو ذرا سا اطمینان ضرور حاصل ہو گا کہ دوطرفہ کرکٹ ابھی باقی ہے۔

ہوم کرکٹ سے محرومی کے عشرے میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف بہت کرکٹ کھیلی ہے اور اس مسابقت میں اکثر واضح برتری حاصل کی ہے مگر ملتان میں مقابلہ کرکٹ کی مہارت سے سوا ہو گا۔ چیلنج اس موسم سے نمٹنے کا ہو گا۔

اگرچہ بہت سے پاکستانی آج تک 'ہیٹ ویو' جیسی اصطلاحات سے ناواقف تھے مگر حالیہ چند ہفتوں میں ہم سب اس سے بخوبی شناسا ہو چکے ہیں۔ ایسی حدت میں ملتان جیسے شہر میں کرکٹ کھیلنے کی سوچ ہی اپنے اندر تمازت کا احساس لئے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کو البتہ ہوم کنڈیشنز کے علاوہ اس ٹریننگ کا بھی فائدہ حاصل ہو گا جو پچھلے دو ہفتوں سے موسم سے موافقت حاصل کرنے کو جاری رہی ہے۔ ویسٹ انڈیز کو اگرچہ ایسا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہے مگر ہفتہ بھر پہلے نیدرلینڈز کے خلاف فتح نے ان کا اعتماد ضرور بحال کیا ہو گا۔

مگر دوسری جانب اس اعتماد کے پائیدان پہ پاکستان کا قد کہیں اونچا ہے جو آسٹریلیا کے خلاف شاندار سیریز فتح کا تجربہ حاصل کر کے آ رہا ہے۔ بیٹنگ میں جس طرح کی مہارت پاکستانی ٹاپ آرڈر نے دکھائی، وہ ایرون فنچ کے لئے معمہ ہی بنی رہی۔

امام الحق اپنے کیریئر کی بہترین فارم میں ہیں۔ سو، نوجوان کپتان نکولس پورن کو یہ سجھانا ہو گا کہ پاکستان کے ٹاپ تھری بلے بازوں کی یلغار کیسے روکی جائے۔ ان وکٹوں کے اعتبار سے عقیل حسین کی سپن پاکستانی ٹاپ آرڈر میں کوئی دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

برینڈن کنگ اگرچہ نیدرلینڈز کے خلاف اچھی فارم کا مظاہرہ کر چکے ہیں مگر شاہین آفریدی سے نمٹنا یکسر الگ چیلنج ہو گا۔ کیونکہ پاکستان کے لئے یہاں صرف سیریز ہی داؤ پر نہیں ہو گی۔

سیریز میں فتح سے بھی زیادہ اہم یہ ہو گا کہ پاکستان ورلڈ کپ سپر لیگ کے کتنے پوائنٹس حاصل کر پائے گا۔ سپر لیگ کے رواں سائیکل میں دسویں نمبر پہ براجمان پاکستان اب تک بارہ میں سے صرف چھ میچز ہی جیت پایا ہے اور اگر اسے اگلے برس کے ون ڈے ورلڈ کپ میں کوالیفائرز کی نوبت سے بچنا ہے تو یہاں کلین سویپ سے کم نتیجہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہئے۔

نکولس پورن کے لیے چیلنجز بے شمار ہیں۔ اجنبی کنڈیشنز کے علاوہ نہایت تگڑے حریف کا مقابلہ بھی ایک پہاڑ کی مانند ہی ہو گا اور اس پہ نامہرباں موسم کے ستم الگ سے سہنا ہوں گے۔

مگر جس طرح کی کرکٹ انھوں نے اپنی پچھلی سیریز میں کھیلی ہے، وہی جذبہ اگر پاکستان کے خلاف عود کر آیا تو بابر اعظم مشکل میں بھی پڑ سکتے ہیں۔