آصف اقبال: حیدرآباد دکن کا نوجوان جو ’مین آف کرائسس‘ کے طور پر پہچانا گیا

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

یہ ذکر ہے 1967 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اوول میں کھیلے گئے تیسرے اور سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے آخری دن کا۔

جب پاکستانی ٹیم کی آٹھویں وکٹ صرف 65 رنز پر گری تو وہاں موجود کرکٹ کی دنیا کے دو بڑے صحافیوں جان ُوڈ کاک اور عمر قریشی کے درمیان ہونے والا مکالمہ اہمیت اختیار کر گیا۔

جان وڈ کاک کہنے لگےʹ65 پر 8 وکٹیں گرنے کے بعد اب پاکستان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔‘

عمر قریشی نے مختصر سا جواب دیا۔ ʹابھی آصف اقبال کی بیٹنگ باقی ہے۔ʹ اس کے بعد اوول کے میدان میں جو ہوا، وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

نویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے آصف اقبال نے صرف تین گھنٹے دس منٹ کی بیٹنگ میں 146 رنز کی شاندار اننگز کھیل ڈالی جس میں 21 چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

یہ ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی۔ انھوں نے دسویں نمبر کے بیٹسمین انتخاب عالم کے ساتھ نویں وکٹ کی شراکت میں 190 رنز کا اضافہ بھی کردیا جو 31 سال تک ٹیسٹ کرکٹ میں نویں وکٹ کی شراکت کا عالمی ریکارڈ رہا۔ انتخاب عالم نے اس اننگز میں 51رنز سکور کیے تھے۔

اگرچہ پاکستانی ٹیم اوول ٹیسٹ ہار گئی لیکن آصف اقبال کی جرات مندانہ بیٹنگ کی بدولت وہ اننگز کی شکست سے بچ گئی۔

آصف اقبال کس بات پر خفا تھے؟

آصف اقبال 55 سال پرانی یادوں کو بی بی سی اردو کے ساتھ تازہ کرتے ہوتے کہتے ہیں ʹکھانے کے وقفے پر گراؤنڈ میں یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ چونکہ یہ میچ جلدی ختم ہونے والا ہے لہٰذا تماشائیوں کی بڑی تعداد کی مایوسی دور کرنے کے لیے دونوں ٹیموں کے درمیان ایک نمائشی ون ڈے میچ کھیلا جائے گا۔

میں یہ کریڈٹ نہیں لینا چاہتا کہ اس اعلان کی وجہ سے ہی میں وہ یادگار اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوا، لیکن میرے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ ابھی میچ ختم نہیں ہوا تو یہ لوگ اس طرح کا اعلان کیسے کر سکتے ہیں؟ مجھے اسی بات کا غصہ تھا اور میں ان کو غلط ثابت کرنا چاہتا تھا۔ʹ

آصف اقبال اپنی اس اننگز کی وجہ سے دنیا کے سامنے پہلی بار ایک مستند بیٹسمین کے طور پر سامنے آئے۔

اسی سیریز کے لارڈز ٹیسٹ میں بھی انھوں نے نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 76 رنز سکور کیے تھے اور 187 رنز بنانے والے کپتان حنیف محمد کے ساتھ 130 رنز کی اہم شراکت قائم کی تھی۔

جریدے وزڈن المانک نے آصف اقبال کو اس سال اپنے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل کیا تھا اور کینٹ کاؤنٹی نے ان سے کھیلنے کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ وابستگی 14 برسوں پر محیط رہی۔

الیکس بینسٹر نے ان کی صلاحیتوں کا اعتراف مختصراً لیکن ان الفاظ میں کیا تھا ʹناممکن حالات کا اسپیشلسٹ۔ʹ

عمر قریشی نے اوول کی اس اننگز کے بارے میں یہ دلچسپ انکشاف کیا تھا کہ جب آصف اقبال ٹیم کو شکست سے بچانے میں مصروف تھے اس وقت پاکستانی ٹیم کے منیجر آئی اے خان کرکٹ پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے ٹی وی پر ومبلڈن ٹینس کا میچ دیکھنے کا شوق پورا کر رہے تھے۔

مین آف کرائسس!

آصف اقبال کو ایک ایسے بیٹسمین کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے جنھوں نے کئی بار پاکستانی ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے وہ ’مین آف کرائسس‘ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔

1967 کے اوائل میں ایم سی سی انڈر 25 کے خلاف ڈھاکہ میں جب پاکستانی انڈر 25 کو فالو آن کا سامنا کرنا پڑا تو انھوں نے اس موقع پر بڑے اطمینان سے اپنے کوچ مقصود احمد (میری میکس) سے کہا تھا ʹپریشان مت ہوں، مجھ پر چھوڑ دیںʹ اور کریز پر جا کر انھوں نے براؤن، آرنلڈ، پوکاک اور انڈرووڈ پر مشتمل بولنگ اٹیک کے خلاف 117 رنز بنائے تھے۔

1964 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ویلنگٹن ٹیسٹ میں بھی پاکستانی ٹیم اسی طرح کی صورتحال سے دوچار تھی جب اسے جیتنے کے لیے 259 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن صرف 19 رنز پر 5 وکٹیں گر چکی تھیں۔

اس مرحلے پر آصف اقبال نے 81 منٹ کریز پر ٹھہرتے ہوئے 52 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی اور پاکستانی ٹیم کو شکست سے بچا لیا تھا۔ اس اننگز میں بھی ان کا ساتھ انتخاب عالم نے دیا تھا۔

اور پھر 1977 میں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ ٹیسٹ کو کون بھول سکتا ہے جس کی دوسری اننگز میں آصف اقبال نے ناقابل شکست 152 رنز بناتے ہوئے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے اقبال قاسم کے ساتھ آخری وکٹ کی شراکت میں قیمتی 87 رنز کا اضافہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

آصف اقبال کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن کی تیز وکٹ پر بنائی گئی 135 رنز کی اننگز ذاتی طور پر پسند ہے جس میں ان کا سامنا اینڈی رابرٹس، کالن کرافٹ اور جوئیل گارنر جیسے تیز بولرز سے تھا۔

آصف اقبال مشکل حالات میں اس طرح کی بیٹنگ کے بارے میں کہتے ہیں ʹ میں نے اپنی تمام تر کرکٹ اس سوچ کے ساتھ کھیلی کہ گراؤنڈ میں آنے والے شائقین کھیل سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں لہٰذا میں انھیں بہترین تفریح فراہم کرنے پر یقین رکھتا تھا نہ کہ ریکارڈز قائم کرنے پر۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس سوچ میں پیشہ ورانہ تقاضے اس وقت شامل ہوئے جب میں کینٹ کاؤنٹی کے ایک میچ میں میں 70-80 رنز بنا کر ایک غلط شاٹ کھیل کر آؤٹ ہو کر واپس آیا تو کالن کاؤڈرے اور لیزلی ایمس جو مجھے کینٹ کاؤنٹی میں لائے تھے، مجھ سے کہنے لگے کہ یہ کیا کیا، تم سنچری بھی بنا سکتے تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ تماشائی میری اننگز پر خوش ہو کر خوب تالیاں بجا رہے تھے جس پر انھوں نے کہا کہ آپ صرف تماشائیوں کو تفریح فراہم کرنے کے لیے نہیں کھیل رہے ہیں بلکہ آپ ایک پروفیشنل کرکٹر ہیں، آپ پر لازم ہے کہ بہترین کارکردگی دکھائیں کیونکہ اس سے آپ کی ٹیم کو فائدہ ہوگا۔ یہ بات میرے دل کو لگ گئی اور پھر میں نے اپنا پورا کریئر اسی سوچ کے ساتھ کھیلا اور جس اننگز کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ اسی پروفیشنلزم کا نتیجہ ہیں۔‘

انڈیا چھوڑنے کی وجہ؟

آصف اقبال 6 جون 1943 کو انڈیا میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے ماموں آف اسپنر غلام احمد انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ آصف اقبال نے بھی انڈیا میں دو سال رانجی ٹرافی کھیلی۔

1961 میں انڈیا کا دورہ کرنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے خلاف انھوں نے ساؤتھ زون کی طرف سے کھیلتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔ پھر کیا وجہ تھی کہ وہ انڈیا چھوڑ کر پاکستان آ گئے؟

اس حوالے سے آصف اقبال کہتے ہیں ʹیہ بات بالکل غلط ہے کہ میں نے پاکستانی ٹیم کے کپتان فضل محمود کی دعوت پر پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دراصل میں اس وقت طالبعلم تھا، عمر کے اس حصے میں آپ اس طرح کے بڑے فیصلے خود نہیں کر سکتے بلکہ یہ فیصلے خاندان کے بڑے لوگ کرتے ہیں۔

میری فیملی کے بیشتر لوگ پہلے ہی پاکستان آچکے تھے جن میں میرے بڑے بھائی بھی شامل تھے لہٰذا میں بھی اپنی فیملی کے ساتھ انڈیا چھوڑ کر پاکستان آ گیا کیونکہ میری فیملی کا یہ خیال تھا کہ پاکستان میں میرے لیے تعلیم اور کرکٹ دونوں میں زیادہ بہتر مواقع ہوسکتے ہیں۔‘

آصف اقبال کہتے ہیں ʹمجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں ساؤتھ زون سکولز ٹیم کی طرف سے روہنٹن باریا ٹرافی کھیلنے کولکتہ گیا تھا تو ہمیں ایڈن گارڈنز دکھانے کے لیے لے جایا گیا تھا تو میں نے اس وقت اپنے ساتھیوں کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں ایک دن انڈیا کی طرف سے اس گراؤنڈ میں کھیلوں گا۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ آصف اقبال کی یہ خواہش اس طرح پوری ہوئی کہ وہ پاکستان کی طرف سے اپنا الوداعی ٹیسٹ ایڈن گارڈنز میں کھیلے تھے اور جب وہ اپنی آخری اننگز کھیل کر واپس پویلین میں جا رہے تھے تو شائقین ان کو کھڑے ہو کر تالیوں کے ساتھ الوداع کہہ رہے تھے۔

پی ڈبلیو ڈی میں ملازمت

آصف اقبال کہتے ہیں ʹکرکٹ میرا جنون تھا۔ میں تعلیم اس لیے حاصل کررہا تھا کہ اچھی ملازمت مل سکتی ہے جیسا کہ برصغیر میں یہ ایک عام سوچ ہوا کرتی ہے۔ حالانکہ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں میری والدہ مجھے کہتی تھیں کہ ہر وقت کرکٹ کھیلتے رہتے ہو پڑھائی کرو، تو میں کہتا تھا کیوں؟ وہ جب یہ کہتی تھیں کہ پڑھ لکھ کر کوئی اچھی ملازمت مل جائے گی تو میں کہتا تھا کہ میں کرکٹ کو ہی آمدنی کا ذریعہ بناؤں گا۔ حالانکہ اس زمانے میں کرکٹ کے پروفیشنل گیم ہونے کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’کراچی آنے کے بعد میں ایک کلب میچ کھیل رہا تھا جس میں ٹیسٹ امپائر ادریس بیگ امپائرنگ کر رہے تھے۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں کہنے لگےʹمیاں، کل میرے دفتر آ جانا۔ʹ

’ان کی وجہ سے مجھے پی ڈبلیو ڈی میں ملازمت مل گئی اور یوں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رہی۔ اس زمانے کے لحاظ سے تنخواہ بھی بہت اچھی تھی۔‘

شارجہ کرکٹ کیوں متنازع بن گئی؟

آصف اقبال کہتے ہیں ’میں شارجہ کرکٹ کے روح رواں عبد الرحمن بخاطر سے پہلی بار سابق ٹیسٹ کرکٹر حسیب احسن کے توسط سے ملا تھا۔ عبدالرحمن بخاطر شارجہ میں سابق ٹیسٹ کرکٹر حنیف محمد کی خدمات کے اعتراف میں ایک میچ کرانے کے خواہشمند تھے۔ میں نے وہ میچ آرگنائز کروا دیا جو سنیل گواسکر الیون اور جاوید میانداد الیون کے درمیان تھا۔‘

’میچ کے اگلے دن میں بخاطر سے ملنے ان کے دفتر گیا اور یہ تجویز دی کہ اس ایک میچ کی کامیابی کے بعد آپ ہر سال اس طرح کا میچ کروائیں جس کے ذریعے پاکستان اور انڈیا کے ریٹائرڈ کرکٹرز کی مالی مدد ہو سکے جنھیں لوگ بھول چکے ہیں اور جن کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے۔ بخاطر نے کہا کہ میں تیار ہوں لیکن آپ کو اس میں شامل ہونا پڑے گا۔ میں نے فوراً حامی بھر لی اور یہ شارجہ میں کرکٹرز بینیفٹ فنڈ سیریز کی ابتدا تھی۔ʹ

آصف اقبال کہتے ہیں ’لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ میچ فکسنگ سکینڈل شارجہ سے شروع نہیں ہوا تھا بلکہ یہ معاملہ ہنسی کرونیے سے شروع ہوا تھا اور وہ میچز شارجہ میں نہیں بلکہ انڈیا اور جنوبی افریقہ میں ہوئے تھے۔ اصل میں لوگ حسد کرنے لگے تھے کہ ایک تو شارجہ کی کرکٹ کا اتنا بڑا نام ہو گیا تھا اور میں اکیلا پاکستانی اس کی منیجمنٹ میں شامل تھا۔‘

’میں قطعاً یہ کریڈٹ نہیں لوں گا کہ شارجہ میں جو انٹرنیشنل میچز ہوتے تھے وہ میری وجہ سے ہوتے تھے بلکہ اس وقت ایک پوری ٹیم ہوا کرتی تھی جن میں قاسم نورانی، علی انور، مظہرخان وغیرہ شامل ہوا کرتے تھے۔ شارجہ کو بدنام کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن آئی سی سی اور خود عبد الرحمن بخاطر نے بھی ایک انکوائری کمیٹی بنائی تھی جس میں کلائیو لائیڈ بھی شامل تھے اور انھوں نے خود مجھ سے کہا تھا کہ ہم آپ کو انکوائری میں کیوں بلائیں؟ آپ کا ان باتوں سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔‘

آصف اقبال کہتے ہیں کہ ’پاکستان اور انڈیا میں شارجہ کے بارے میں اتنا شور مچایا گیا کیونکہ یہ آسان ٹارگٹ تھا لیکن آئی سی سی اور خود عبد الرحمن بخاطر کی تشکیل دی ہوئی کمیٹی نے بھی تحقیقات کرلیں۔ اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو کسی ایک شخص کو تو سزا ہوتی؟ کوئی ایک میچ تو سامنے آتا؟‘

آصف اقبال کا کہنا ہے ’مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کہہ لے یا ان کے آفیشلز، کسی نے بھی شارجہ کو سپورٹ نہیں کیا حالانکہ یہ سب بینیفشریز تھے۔ اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وہ کرکٹرز جو شارجہ میں آ کر کھیلا کرتے تھے، انھوں نے بھی شارجہ کی حمایت میں آواز نہیں اٹھائی۔‘

آصف اقبال کہتے ہیں ’انڈیا کو یہ غلط فہمی ہو گئی تھی کہ شارجہ کی وکٹیں پاکستانی ٹیم کو مدد دیتی ہیں حالانکہ برصغیر کی وکٹیں دونوں ٹیموں کے لیے برابر مددگار ہوتی ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ شارجہ میں ہونے والی کرکٹ میں ہمیشہ نیوٹرل امپائرز ہوا کرتے تھے۔‘

’مشتاق محمد کو میں نے ڈراپ نہیں کرایا‘

مشتاق محمد نے اپنی کتاب ’ان سائیڈ آؤٹ‘ میں لکھا ہے کہ 1979 میں انڈیا کے دورے کے لیے انھیں ٹیم سے باہر کیے جانے کی سازش ہوئی تھی جس میں سینیئر ساتھی کرکٹرز شامل تھے اور ان میں آصف اقبال پیش پیش تھے جو نائب کپتان تھے اور ترقی پا کر کپتان بننا چاہتے تھے۔

آصف اقبال کہتے ہیں ’دراصل مشتاق محمد نے مجھ سے بات کیے بغیر ہی ٹیم میں سلیکٹ نہ ہونے کا ملبہ مجھ پر ڈال دیا حالانکہ اس معاملے سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔‘

’اس زمانے میں سلیکٹرز ٹیم سلیکٹ کر کے کپتان کے حوالے کر دیتے تھے۔ میں نے ٹیم سلیکٹ کیے جانے سے پہلے بورڈ کے سربراہ کے ایم اظہر اور چیف سلیکٹر وقار حسن سے پوچھا تھا تو انھوں نے مجھے مشتاق محمد کو سلیکٹ نہ کرنے کے بارے میں بتا دیا تھا اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتا۔‘