آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز ون ڈے سیریز: ملتان کا گرم موسم کرکٹرز پر کیا اثر دکھائے گا؟
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
گرد، گرما، گدا، اور گورستان کے شہر ملتان کا نام آتے ہی ذہن میں انتہائی گرم موسم کا خیال آ جاتا ہے اور یہ غلط بھی نہیں ہے کیونکہ ملتان پاکستان کے گرم ترین موسم والے علاقوں میں سے ایک ہے اور جب بات ہو کرکٹ کی تو یہ سوچ کر ہی ہوش اُڑجاتے ہیں کہ کرکٹ میچ اور وہ بھی ملتان کے اس موسم میں جب سورج سوا نیزے پر ہو۔
یہ خیال اس وقت بھی ذہنوں میں آیا جب پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کی میزبانی کے لیے قُرعہ فال ملتان کے نام نکلا تھا۔
سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اس سخت ترین گرمی میں کھلاڑیوں کا کیا حال ہوگا اور وہ خود کو اس صورتحال میں کس طرح محفوظ رکھ سکیں گے؟ اس سے بھی اہم سوال یہ تھا کہ آخر اس ون ڈے سیریز کے لیے ملتان ہی کا انتخاب کیوں کیا گیا؟
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والی یہ ون ڈے سیریز دراصل راولپنڈی میں ہونا تھی لیکن عمران خان کے لانگ مارچ اور وفاقی دارالحکومت کی سیاسی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا کہ وہ اس سیریز کو کسی دوسرے شہر میں منتقل کردے۔
چونکہ قذافی سٹیڈیم لاہور اور نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں نئی پچوں کی تیاری کا کام جاری ہے لہٰذا ان میچوں کو ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ ون ڈے سیریز گذشتہ سال ویسٹ انڈیز کے دورۂ پاکستان کا حصہ تھی لیکن اس ٹیم کے متعدد کھلاڑی کووڈ میں مبتلا ہوگئے تھے جس کی وجہ سے یہ دورہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد ختم کردیا گیا تھا اور دونوں کرکٹ بورڈز نے ون ڈے سیریز جون میں کھیلنے پر اتفاق کیا تھا۔
کھلاڑیوں کو گرمی سے کیسے بچایا جائے؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ کا حصہ ہے اس لیے اس سیریز کا انعقاد ہرحال میں ضروری تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز اور ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ دونوں سے اس سیریز کے اس موسم میں انعقاد کے بارے میں پوچھا گیا تھا اور دونوں جانب سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا تھا لہٰذا یہ سیریز باہمی صلاح مشورے کے بعد کھیلی جارہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کھلاڑیوں کو گرم موسم کے اثرات سے بچانے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ تینوں ون ڈے انٹرنیشنل میچز شام چار بجے شروع ہوں گے۔ اُس وقت تک موسم بہتر ہوچکا ہوگا۔ اس کے علاوہ میچ کے دوران پانی کے اضافی وقفے رکھے گئے ہیں اور کھلاڑی خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے آئس کالر کا استعمال بھی کریں گے۔
ملتان سے تعلق رکھنے والے صحافی ندیم قیصر کا کہنا ہے کہ چونکہ ملتان میں کافی عرصے کے بعد بین الاقوامی سیریز ہورہی ہے لہٰذا شائقین میں دلچسپی تو بہرحال موجود ہے لیکن تقریباً 45 ڈگری کی سخت گرمی ان شائقین کے لیے کسی امتحان سے کم نہ ہوگی۔
سٹیڈیم کے سٹینڈز پر چھتیں ضرور ہیں لیکن اگلی نشستوں پر دھوپ پڑتی ہے جیسا کہ مشتاق احمد سٹینڈ جہاں کا ٹکٹ تین سو روپے ہے۔
50 درجہ حرارت میں ٹیسٹ میچ
کرکٹ اور موسم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مختلف ممالک میں مختلف موسموں میں کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔ سری لنکا میں بارشیں اپنا اثر دکھاتی ہیں تو انگلینڈ کے سورج کا اپنا انداز ہے۔
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والی یہ ون ڈے سیریز غیرمعمولی گرم موسم میں ہونے والی پہلی سیریز نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
سنہ 2002 میں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم شارجہ میں آسٹریلیا کے خلاف دونوں اننگزمیں 59 اور 53 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی تو اُس وقت درجہ حرارت پچاس ڈگری کو چھو رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
سنہ 2002 میں ہی جب انضمام الحق نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے کریئر کی سب سے بڑی اننگز کھیلتے ہوئے ٹرپل سنچری بنا رہے تھے تو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں موجود شائقین چلچلاتی دھوپ کو بھی محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے تھے۔
اس گرمی کی شدت سے خود انضمام الحق بھی محفوظ نہ رہ سکے تھے اور انھیں کریمپ پڑ گئے تھے۔
سنہ 1986 کے آسٹریلیا اور انڈیا کے ٹائی ٹیسٹ کو بھلا کون بھول سکتا ہے جب چنئی کی طوفانی گرمی میں ڈین جونز نے ڈبل سنچری اسکور کی تھی اور بیٹنگ کے دوران ان کی طبعیت خراب ہوگئی تھی اور اننگز کے بعد انھیں اسپتال لے جایا گیا تھا۔
سنہ 2017 میں آسٹریلیا اور انڈیا کی ٹیمیں کولکتہ کے مشہور ایڈن گارڈنز میں دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں مدمقابل ہوئیں تو اس وقت درجہ حرارت 43 ڈگری تھا۔