سکوبا ڈائیونگ: اردن میں حجاب پہننے والی مسلمان خواتین انسٹرکٹر جنھوں نے سخت روایات کے خلاف جا کر غوطہ خور بننے کا فیصلہ کیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فیبی سمِتھ
- عہدہ, بی بی سی فیچرز
غوطہ خوری کا سب سے خوفناک حصہ ہمیشہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ پانی میں پہلا قدم اٹھاتے ہیں۔ اندھیری، لامتناہی لہروں میں گھورتے ہوئے، ڈائیونگ گیئر کے وزن سے لدے ہوئے آپ اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں، خاص طور پر اگر آپ نے میری طرح رضاکارانہ طور پر سب سے پہلے بحری جہاز سے چھلانگ لگائی ہو۔
میں غرب اردن میں عقبہ کے ساحل سے بالکل دور بحیرۂ احمر کے اُوپر کھڑی خوف کی اسی عمومی کیفیت سے گزر رہی تھی۔ میں نے چند سال پہلے ہی غوطہ خوری کے اپنے خوف پر قابو پا لیا تھا۔ ایک دہائی قبل ایک بیک پیکر کے طور پر غوطہ خوری کے ایک خراب تجربے کے بعد اب میں ایک پی اے ڈی آئی (پروفیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائیو انسٹرکٹرز) کے ایک پیشہ ورانہ درجے کی تربیت لے رہی تھی۔
لیکن پھر بھی میں اندر سے ڈری ہوئی تھی اور محسوس کر رہی تھی کہ جیسے کوئی کہہ رہا ہے کہ مجھے چھلانگ نہیں لگانی چاہیے اور اسی لیے میرے لیے چھلانگ لگانا مشکل ہو گیا۔
مگر پھر میں نے وعد المعايطۃ کو دیکھا۔
وہ پہلی بار غوطہ خوروں کے ایک گروپ کی قیادت کر رہی تھیں۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ یہ ایک مصنوعی کیمیائی مرکب سے بنا ہوا غوطہ خوری کا لباس (نیوپرین ہُڈ) ہے جو اس نے اپنے سر پر پہن رکھا تھا۔ لیکن پانی میں چھلانگ لگانے اور اسے دیکھنے کے بعد جب میں نے شعاعوں اور چمکدار رنگ کی ریف مچھلیوں کے درمیان نرم مرجانوں میں اُسے تیرتے دیکھا تو میں نے محسوس کیا کہ وہ تو دراصل اپنے حجاب میں غوطہ خوری کر رہی تھی۔
اور نہ صرف وہ غوطہ خوری بلکہ ’پی اے ڈی آئی‘ (PADI) کے تربیتی کورس مکمل کرنے کے بعد انسٹرکٹر بننے والے طلبا کے ایک گروپ کی رہنمائی کر رہی تھی اور انھیں تربیت دے رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPhebe Smith
جب میں واپس ڈیک پر پہنچی اور پوچھا کہ وہ کون ہے؟ تو ڈائیونگ کمپنی ’گو عقبہ‘ کے مینیجنگ ڈائریکٹر خالد قناوی نے کہا ’وعد بہت خاص ہے۔ وہ اردن میں غوطہ لگانے والی پہلی خاتون انسٹرکٹر تھیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ انھوں نے ہمارے ساتھ کام کیا۔‘
اردن کے شہر الکرک میں کافی سخت مسلم کمیونٹی میں پرورش پانے والی وعد کو آؤٹ ڈور (گھر سے باہر) سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی، خاص طور پر ایسی کوئی بھی چیز جسے ’مہم جوئی‘ سمجھا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن سنہ 2013 میں اکاؤنٹنگ اور آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد غوطہ خوری کا سامان فروخت کرنے والی ایک دکان میں نوکری نے ان کی پوری زندگی بدل دی۔
جب ہم کشتی پر بات کر رہے تھے تو انھوں نے مجھے بتایا کہ ’ایک غوطہ خور انسٹرکٹر نے پوچھا کہ کیا میں غوطہ خوری کی کوشش کرنا چاہتی ہوں۔ یہ وہ چیز تھی جس کے بارے میں، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے کرنا چاہیے یا میں یہ کر بھی سکتی ہوں۔ میری کمیونٹی کی خواتین ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔‘
ان کے خدشات کے باوجود کہ لوگ کیا کہیں گے انھوں نے عملی طور پر ایک غوطہ خور بحری جہاز کے پیچھے سے چھلانگ لگانے جیسا بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اس کام نے ان کی زندگی کا پورا نقطہ نظر ہی بدل دیا۔
’جب میں نے پانی میں اندر جا کر زیرِ آب زندگی کو دیکھا اور مچھلیوں کو اپنے قریب آتے دیکھا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ مجھے اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کہ اب کوئی کیا سوچے گا، میں اس وقت صرف بس پُرسکون اور خاموش ماحول میں ڈوب گئی۔ میں جانتی تھی کہ میں اس کیفیت اور تجربے کے بارے میں مزید جاننا چاہتی ہوں۔‘
وعد صرف تفریح کے لیے مزید غوطہ خوری کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھیں۔ انھیں یقین تھا کہ وہ پیشہ وارانہ طور پر اس کام کو لے کر ایک انسٹرکٹر بننا چاہتی ہے تاکہ وہ دوسروں کو بھی پانی کے اندر کی آبی حیات کی تلاش کی خوشی کے بارے میں بتا سکیں۔ لیکن اس سے قبل انھیں اپنے گھر والوں کو یہ سب بتانا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNASh Photography
جب ہم نے مزید غوطہ خوری کے لیے پانی میں اترنا شروع کیا تو اُس نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ 'میں پریشان تھی، لیکن میری کمیونٹی کے کچھ لوگوں کے کہنے کے باوجود کہ یہ وہ کام نہیں ہے جو ایک عورت کو کرنا چاہیے، میرے والدین نے میری حوصلہ افزائی کی، اس طرح میں نے یہ عزم کیا کہ میں لوگوں کو بتاؤں گی کہ دیکھو کچھ مختلف کام عورتیں بھی کرسکتی ہیں۔‘
ہمارے ایئر سلنڈرز کو اپنی پیٹھ پر اٹھاتے ہوئے اس نے اگلے غوطہ کی جگہ کو بیان کیا جس کی طرف ہم جا رہے تھے، ایک ڈوبا ہوا فوجی ٹینک، سمندری زندگی کے لیے ایک مصنوعی چٹان کی مانند وہاں پڑا ہوا تھا۔ جب ہماری کشتی ہمیں داخلے کے مقام تک لے گئی، اس نے غوطہ خور بننے کے اپنے فیصلے کے ساتھ اپنی اندرونی لڑائی کے بارے میں بات کی۔
'مجھے اس بات کی فکر تھی کہ لوگ ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں اور وہ میرے بارے میں کیا سوچیں گے، اور وہ میرے والدین کے بارے میں کیا سوچیں گے۔ اگرچہ ہماری کمیونٹی میں ناپسندیدہ تبصرے تھے، لیکن اگر میں غوطہ خور بننا چاہتی ہوں تو میرے پاس موقع تھا۔ مجھے بہادر بننا تھا۔ اب میں ایک انسٹرکٹر ہوں، اور مجھے لگتا ہے کہ میں نے لوگوں کو خواتین کی غوطہ خوری اور اس طرح کی سرگرمیوں کے بارے میں مختلف سوچنے پر مجبور کیا ہے۔‘
وعد انکساری کے ساتھ اپنی باتیں بتا رہی تھیں۔ نہ صرف انھوں نے اردن میں خواتین کو اس جانب راغب کیا اور انھیں تربیت دی بلکہ یہ کہ عورتوں کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے کے بارے میں کئی لوگوں کی رائے بدل دی ہے۔ یہاں تک کہ وہ کئی سال بعد ایک اور خاتون کے لیے اس ماحول میں مددگار ثابت ہوئی تھیں جو اُن سے اتنی متاثر ہوئی کہ وہ دوسری خاتون بھی سکوبا ڈائیونگ انسٹرکٹر بن گئی جو اب ملک میں ایک اور ساحل پر ایک اور غوطہ خور مرکز میں کام کرتی ہے۔
ایک بار پھر ہم نے زیرِ آب دنیا کو دریافت کرنے کے لیے پانی میں قدم رکھا۔ شیر مچھلیاں (سمکۃ الاسد) ڈوبی ہوئی فوجی ٹینک کے تاریک کونوں میں چھپی ہوئی تھیں، جب کہ برین سفنج کہلانے والی آبی نوع نے چھت کے قریب اپنی رہائش گاہیں بنا لی تھیں۔
وعد نے آبی انواع کی ایک قِسم کی نشاندہی کی جس میں چھوٹے جھینگے، متعدد ستارہ مچھلیاں اور دھات کے کام میں دراڑوں سے نکلنے والی چھوٹی چھوٹی لیکن رنگین لمبی ، مخاطی ، مخروطی کانٹوں والی نسل کی پَر دار مچھلیاں شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہاں سے ہم سیون سسٹرس سائٹ کی طرف روانہ ہوئے، جس کا نام سمندر کے فرش سے اوپر اٹھنے والے متعدد چٹانوں (مرجان کے اُبھرے ہوئے حصوں) کے لیے رکھا گیا ہے، جہاں پیلی اور سفید تتلی مچھلی خوبصورتی سے ہمارے چشموں(گوگلز) کے سامنے سے گزرتی ہیں، اور ایک ڈیم سیلفش کا برقی نیلا دھاری دار مچھلیوں کے جُھنڈ کے درمیان تیز بہاؤ میں گزرتے ہیں جب وہ پانی کے اندر کے بلند ستونوں کے ارد گرد چکر لگا رہے ہوتے ہیں۔
جب ہم پانی میں گزر رہے تھے تو میں نے سوچا کہ میں نے دنیا بھر میں ڈائیونگ کرنے والی چند خواتین انسٹرکٹرز سے ملاقات کی ہے۔ 'پی اے ڈی آئی' (PADI) کے مطابق، اس کام پر فی الحال مردوں کا غلبہ ہے۔ عالمی سطح پر 128,000 انسٹرکٹرز میں سے، صرف 20 فیصد انسٹرکٹرز (تمام درجوں پر ملا کر) فی الحال خواتین ہیں۔
یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 16 فیصد رہ گئی ہے اور زیادہ تر مسلم ممالک میں یہ تعداد مزید گرتی ہے، بحرین، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، عمان قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات میں یہ تعداد 10 فیصد سے بھی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جب میں نے 'پی اے ڈی آئی' (PADI) سے پوچھا کہ کیا تعداد میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے، تو انھوں نے کہا کہ کووڈ کی وبا کی وجہ سے واضح طور پر جواب دینا مشکل تھا، لیکن انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ 'عمومی طور پر، 'پی اے ڈی آئی' (PADI) پروفیشنلز خواتین کی صفوں میں اضافہ کرنے کا موقع ہے، اور خواتین ’پی اے ڈی آئی‘ (PADI) کی دنیا بھر میں طلب بڑھ رہی ہے۔
اس تنظیم نے اس شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے، خاص طور پر ایسی جگہوں پر جہاں انھیں باہر کے علاقوں میں فعال ہونے کی ترغیب نہیں دی جاتی، جیسے کہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں۔ انھوں نے ایک'ایمبیسیڈر ڈائیور' (AmbassaDiver) پروگرام شروع کیا ہے جہاں وہ اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا چینلز کا استعمال کرتے ہوئے ان خواتین کی کہانیاں نشر کرتے ہیں۔
ان میں سعودی عرب سے ماسٹر سکوبا ڈائیور ٹرینر نوف العصیمی شامل ہیں، پہلی سعودی خاتون ٹیکنیکل غوطہ خور، جنھوں نے پنک ببلز ڈائیور (ایک خواتین ڈائیونگ کمیونٹی جو خواتین کو سمندر سے جڑنے کی ترغیب دیتی ہے) کی بنیاد رکھی۔ اور اہداء البروانی جو عمان کی پہلی خاتون 'پی اے ڈی آئی' (PADI) انسٹرکٹر ہیں اور صرف خواتین کے لیے غوطہ خوری کے کورسز چلاتی ہیں۔
ایک بات یقینی ہے کہ سنہ 2018 میں جب سے وعد نے 'گو عقبہ' میں شمولیت اختیار کی ہے اردن میں خواتین غوطہ خوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ خالد کے مطابق، اب ان میں سے پانچ عقبہ میں سکوبا ڈائیونگ سکھا رہی ہیں، اور انھوں نے خواتین کسٹمرز کی تعداد میں اضافہ دیکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہDoaaAkeel
خالد نے کہا کہ ’ہمارے پاس ہر سال 20 جولائی کو 'پی اے ڈی آئی' (PADI) خواتین کے لیے غوطہ خوری کا مخصوص دن ہوتا ہے۔ سنہ 2020 میں وبائی مرض کووڈ کے بعد عقبہ دوبارہ کھلنے والا اردن کا پہلا شہر بن گیا اور ہمیں اس دن عقبہ میں غوطہ خوری کی کوشش کرنے کے لیے 100 خواتین کے باہر آنے پر حیرت اور خوشی ہوئی۔‘
جب ہم نے دوبارہ کام شروع کیا تو میں نے وعد سے پوچھا کہ کیا وہ مردوں کی نسبت خواتین غوطہ خوروں کو غوطہ خوری پر لے جانے کو ترجیح دیتی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ انھیں ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں صرف نئے غوطہ خوروں کو تیار کرنے اور بعد میں ان کے چہرے دیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہوں - میں صرف یہ بتا سکتی ہوں کہ انھوں نے اس تجربے سے کتنا لطف اٹھایا ہے۔ ایک بار جب ہم پانی میں ہوں گے تو ہم سب ایک جیسے ہیں۔‘
وعد سے ملاقات کے بعد سے نئی ڈائیو کرنے والی جگہوں پر جاتے میرا خوف کم ہو گیا ہے۔ اس جگہ جب بھی کوئی پانی کے خوف کی حد کو توڑتا تھا وہ ثقافتی حدوں کو بھی توڑ رہا ہوتا ہے۔ اور اگر وہ ایسا کر سکتی ہیں اور ترقی کر سکتی ہیں تو میں یقینی طور پر اپنی حدوں کی جست لگا سکتی ہوں۔











