آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان اور انڈیا ویمنز ٹیم کا ورلڈ کپ میچ جس سے پہلے کوئی سنسنی نہیں
انڈیا اور پاکستان کی کرکٹ ٹیمیں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گی۔ یہ مقابلہ دونوں ممالک کی خواتین کرکٹ ٹیموں کے درمیان 12ویں ویمنز ورلڈ کپ کے دوران نیوزی لینڈ میں ماوئنٹ ماوئنگانوئی میں ہونے والا ہے۔ سپورٹس رائٹر شاردا اگرا نے دونوں ملکوں میں خواتین کرکٹ کے ارتقا کا جائزہ لیا ہے۔
سرپرائز۔۔۔ سرپرائز۔۔۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ورلڈ کپ میچ ہو، لیکن کوئی ڈرامہ نہیں، کوئی جنونی میڈیا کوریج نہیں اور نا ہی کرکٹ کے شائقین کو ’فیصلہ کن دن‘، ’فائنل سے پہلے فائنل‘ یا ایک بڑے اور سنسنی خیز مقابلے جیسی خبریں پہنچائی جا رہی ہیں۔ شاید اس لیے کہ یہ میچ خواتین کے درمیان ہے۔
اب تک نیوزی لینڈ میں ماوئنٹ ماوئنگانوئی سے آنے والی بڑی خبر یہ ہے کہ اس میچ میں ریویو سسٹم استعمال کیا جائے گا اور یہ کہ سٹار انڈین بلے باز سمرتی مندھنا گزشتہ اتوار کو ایک وارم اپ میچ میں چوٹ لگنے کے بعد اب مکمل طور پر فٹ ہو چکی ہیں۔
انڈیا اور پاکستان کی خواتین اور مردوں کی ٹیم میں ایک مشترک چیز یہ ہے کہ ان کا مقابلہ بھی صرف آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ہی ہوتا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ 2005 کے ایشیا کپ میں ہوا تھا۔
دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کی وجہ سے خواتین کرکٹ ٹیموں کو بھی ایک دوسرے سے کھیلنے کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔
مردانہ ٹیموں کے ریکارڈ کے برخلاف خواتین کرکٹ میں انڈیا کا پلڑا بھاری ہے۔ انڈیا کی ٹیم نے اب تک پاکستان کے خلاف 10 ایک روزہ میچ کھیلے ہیں اور سب ہی جیتے ہیں۔ دوسری جانب 11 ٹی ٹونٹی میں پاکستان ٹیم نے صرف ایک میچ جیتا ہے۔
دونوں کے درمیان اب تک کوئی ٹیسٹ میچ نہیں ہو سکا جس میں ظاہر ہے کہ کھلاڑیوں کا کوئی عمل دخل نہیں۔
مردانہ ٹیموں کے درمیان بھی گذشتہ کافی عرصے سے ٹیسٹ میچ نہیں ہوئے اور نا ہی کوئی دو طرفہ سیریز ہو سکی لیکن ان کے درمیان دہائیوں پرانی تاریخ ضرور موجود ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب کبھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے تو مردانہ ٹیموں کو ایک دوسرے سے کھیلنے اور شائقین کو سنسنی خیز مقابلوں سے محظوظ ہونے کا موقع بھی ملا۔ فطری طور پر ان مقابلوں نے کئی داستانیں رقم کیں جو آج بھی دہرائی جاتی ہیں۔
دوسری جانب اگر خواتین کی کرکٹ سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیل کے میدان میں خواتین کو اپنی کارکردگی سے منفرد کہانیاں بنانے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔
انڈیا اور پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیموں کے ماضی میں کوئی قدر بھی مشترک نہیں اور دونوں کے درمیان لاتعلقی کا ایک سلسلہ ہے جس میں انڈیا کی خواتین کرکٹ ٹیم اور پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کا اپنا اپنا راستہ رہا ہے۔
انڈیا میں خواتین کرکٹ کا باقاعدہ آغاز 1970 کے ابتدائی سال میں ہو چکا تھا جب کہ پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کی موجودگی کا احساس تقریبا دو دہائی بعد ہوا۔
مصنفہ کاملہ شمسی نے پاکستان میں خواتین کی کرکٹ کی شاندار تاریخ لکھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کیسے موت کی دھمکیوں کے سائے تلے کراچی کی دو بہنوں، خان سسٹرز، شائزہ اور شرمین نے خواتین کرکٹ کی بنیاد رکھی۔
یہی وجہ تھی کہ جب پاکستان میں خواتین کا پہلا کرکٹ میچ منعقد کیا گیا تو تماشائی ندارد تھے۔ سیکیورٹی کے لیے 8000 پولیس اہلکار اس میچ پر تعینات کیے گئے تھے جسے دیکھنے والا کوئی نہیں تھا۔
دوسری جانب انڈیا کی خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے سب سے بڑا خطرہ وسائل اور فنڈز کی کمی رہی۔ یہ کمی تو 2006 میں بورڈ آف کنٹرول فور کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) میں خواتین کرکٹ ضم ہونے کے بعد ختم ہو گئی لیکن انڈیا میں خواتین کرکٹ کو اب بھی وہ توجہ حاصل نہیں جو مرد ٹیم کو ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر انڈیا اور پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیمیں بھی وہی راستہ چنیں گی جو دونوں ملکوں کی مردوں کی ٹیموں کی تاریخ کا حصہ رہا؟
کیوں کہ کرکٹ کی دو طرفہ تاریخ پہلے ہی ایک ایسا ماحول قائم کر چکی ہے کہ اب خواتین کے لیے اس سے باہر نکلنا مشکل ہی ہو گا۔
دوسری جانب کرکٹ کی زبان میں دیکھیں تو دونوں ٹیموں میں زمین آسمان کا فرق ہے اور مقابلے کی زیادہ گنجائش نہیں۔ لیکن اگر یہ ٹیمیں دو سال میں ایک بار آمنے سامنے ہوں گی تو پھر ان کی مقابلے کی صلاحیت کے بارے میں کچھ زیادہ کہا بھی نہیں جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیے
سنہ 2017 کے خواتین ورلڈ کپ میں انڈیا کی ٹیم فائنل تک جا پہنچی تھی جہاں انگلینڈ سے بہت کم مارجن سے شکست ہوئی لیکن اس مقابلے نے انڈیا میں خواتین کرکٹ کا نقشہ بدل دیا۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی ٹیم ایک بھی میچ نہیں جیت سکی تھی۔
اس ورلڈ کپ کے بعد پانچ سال میں انڈیا کی ٹیم نے 40 ایک روزہ میچ کھیلے جن میں سے 19 جیتے اور 21 میں اسے شکست ہوئی۔ پاکستان کی ٹیم نے 34 میچ کھیلے، 11 جیتے اور 21 ہارے۔
اگر آئی سی سی کی تازہ ترین رینکنگ کو دیکھیں تو انڈیا کی ٹیم چوتھے جب کہ پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔ لیکن پانچ میچ کھیلنے والی بنگلہ دیش کی ٹیم اگر چھٹے نمبر پر ہے تو پھر واضح ہے کہ یہ رینکنگ صلاحیت کا پیمانہ نہیں۔
گذشتہ ورلڈ کپ کے بعد سے اب تک پاکستان کی ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے فتح حاصل کی، ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی اچھی کارکردگی دکھائی اور ورلڈ کپ کے وارم اپ میچ میں میزبان نیوزی لینڈ کو حیران کن شکست دی اگرچہ کہ کیوی ٹیم کے تمام مضبوط کھلاڑی اس میچ میں شامل نہیں تھے۔
دوسری جانب انڈیا کی ٹیم نے پہلے وارم اپ میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف 244 رن کے ہدف کا بمشکل دفاع کیا۔ لیکن اگلے میچ میں باآسانی ویسٹ انڈیز کو شکست دے دی۔
انڈیا کی ٹیم نے زیادہ میچ کھیلے ہیں اور توقع یہی کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو اس مقابلے میں شکست ہو گی۔ لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ اس میچ میں پاکستان کی ٹیم کس جوش اور جذبے سے کھیلتی ہے کیوں کہ اس سے طے ہو گا کہ باقی ٹورنامنٹ میں وہ کیسا کھیلیں گے۔
نتیجہ جو بھی ہو، اتوار کو پاکستان اور انڈیا کی خواتین کرکٹ ٹیموں کے درمیان مقابلے سے پہلے کئی ایسی باتیں ہوئی ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کی طرح بی سی سی آئی میں خواتین ونگ موجود نہیں۔ رواں ہفتے کے آغاز پر ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے اگلے سال خواتین کی پاکستان سپر لیگ کے انعقاد کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی سی سی آئی نے بھی خواتین کی آئی پی ایل شروع کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن سیکریٹری جے شاہ نے بہت جلد کہنے کے علاوہ کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی۔
اتوار کو یہ میچ ایک ایسے وقت میں شروع ہو گا جب دونوں ملکوں کی مردانہ ٹیمیں ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہوں گی۔ انڈیا اس وقت سری لنکا جب کہ پاکستان کئی سال بعد اپنی سرزمین پر آسٹریلوی ٹیم کی میزبانی کر رہا ہے۔
اس کے باوجود خواتین کا یہ میچ توجہ کا مرکز بنے گا۔ صرف اس لیے کہ انڈیا اور پاکستان کے میچ میں سنسنی نا ہو، یہ ہو نہیں سکتا۔
پاکستان ٹیم کی کپتان بسمہ معروف، جو اپنی چھ ماہ کی بیٹی کے ساتھ نیوزی لینڈ میں موجود ہیں، نے اس میچ کو روایتی انداز سے ہٹ کر پیش کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ میچ ایک بہترین موقع ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی لاکھوں بچیوں کو کرکٹ بطور پیشہ اپنانے پر ابھارا جا سکے۔‘