آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پی ایس ایل 7: کراچی کنگز بالآخر پہلا میچ جیت گئی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی پلے آف تک رسائی مشکل
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی کنگز کے لیے پی ایس ایل ضرور ختم ہو گئی ہے لیکن جاتے جاتے وہ لاہور قلندرز کو اسی کے ہوم گراؤنڈ میں 22 رنز کی شکست سے دوچار کر گئی۔
150 رنز کے ہدف کی طرف بڑھتے ہوئے لاہور قلندرز کے قدم 127 رنز پر 9 کھلاڑی آؤٹ پر آ کر رک گئے۔
لگاتار آٹھ میچ ہارنے کے بعد یہ کراچی کنگز کی پہلی کامیابی ہے جبکہ لاہور قلندرز آٹھ میچوں میں تیسری شکست سے دوچار ہوئی ہے۔
اس سے پہلے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، ملتان سلطانز سے اس پی ایس ایل کا سب سے بڑا سکور 245 رنز کرانے کے بعد صرف 126 رنز پر ڈھیر ہو کر 117 رنز سے میچ ہار گئی۔
اس کے پلے آف تک پہنچنے کا معدوم ہوتا ہوا امکان یہی ہے کہ وہ اپنا آخری میچ جیتے اور اسلام آباد یونائٹڈ اپنے دونوں میچ ہار جائے۔ تب بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہو گا کہ کونسی ٹیم پلے آف میں قدم رکھے گی۔
راشد اور زمان کی چار چار وکٹیں
کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور پوری ٹیم 149 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ بابراعظم کے ساتھ اننگز کا آغاز کرنے والے جو کلارک صرف پانچ گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اور 4 رن بنا کر زمان خان کی وکٹ بنے۔
ون ڈاؤن پر آنے والے شرجیل خان محض 2 رن بنا کر شاہین آفریدی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
ہوم گراؤنڈ پر بابراعظم سے ایک بڑی اننگز کی توقعات پوری نہ ہو سکیں اور وہ پانچ چوکوں کی مدد سے 39 رنز بنا کر راشد خان کی گیند پر ڈگمگا گئے اور فل سالٹ نے انھیں سٹمپڈ کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ کراچی میں کھیلے گئے میچ میں بھی بابراعظم کو راشد خان نے آؤٹ کیا تھا۔
راشد خان نے اپنے آخری اوور میں لگاتار گیندوں پر عماد وسیم اور کرس جارڈن کو آؤٹ کر کے اپنی شاندار بولنگ کا اختتام 17 رنز کے عوض 4 وکٹوں کے متاثرکن اعدادوشمار کے ساتھ کیا۔
اس کاری ضرب سے پہلے زمان خان نے روحیل نذیر کو اور محمد حفیظ نے محمد نبی کو واپسی دکھا دی تھی۔
لوئس گریگوری اور عثمان شنواری کی 30 رنز کی شراکت سکور کو 146رنز تک لے گئی۔ اننگز کے آخری اوور میں لوئس گریگوری 28 اور عثمان شنواری 5 رن بنا کر زمان خان کا نشانہ بنے، جنھوں نے ایک بار پھر اپنے باصلاحیت ہونے کا ثبوت صرف 16 رن دے کر 4 وکٹوں کی شاندار کارکردگی دکھا کر دیا۔
کنگز کے بولرز کا بدلتا روپ
وسیم اکرم پچھلے میچ میں اپنے بولرز کی کارکردگی پر قطعاً خوش نہیں تھے۔ غالباً یہ ان کے اسی ردعمل کا نتیجہ ہے کہ بولرز نے اگلے ہی میچ میں اپنا انداز بدل ڈالا۔ لاہور قلندرز کے خلاف کراچی کنگز کی بولنگ میں نہ صرف نظم وضبط نظر آیا بلکہ انھوں نے وکٹیں بھی حاصل کیں۔
دوسرے ہی اوور میں ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب بیٹسمین فخرزمان قابو میں آ گئے۔ وہ صرف ایک رن بنا کر میر حمزہ کی وکٹ بنے، جنھوں نے اپنے اگلے اوور میں عبداللہ شفیق کو بھی آؤٹ کر دیا۔
محمد حفیظ اور کامران غلام کی موجودگی میں لاہور قلندرز نے پاور پلے کا اختتام صرف 31 رنز پر کیا۔ کراچی کنگز کو ان دونوں کو الگ کرنے میں دیر نہیں لگی اور عماد وسیم مستعد قاسم اکرم کے کیچ کی مدد سے کامران غلام کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
عماد وسیم اور عثمان شنواری کی مؤثر بولنگ نے حفیظ اور فل سالٹ کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ یہ اسی دباؤ کا نتیجہ تھا کہ فل سالٹ نے کرس جارڈن کی گیند پر لانگ آن پر بابراعظم کو کیچ تھما دیا۔ یہ چوتھی وکٹ 63 رنز پر گری۔
اگلی ہی گیند پر قاسم اکرم کی ایک اور عمدہ فیلڈنگ نے 33 رنز بنانے والے محمد حفیظ کو رن آؤٹ کر کے لاہور قلندرز کو صحیح معنوں میں مشکلات سے دوچار کر دیا۔
ہیری بروک اور ڈیوڈ ویزے کی شراکت لاہور کی امیدوں کو زندہ رکھے ہوئے تھی۔
عثمان شنواری نے چار اوورز میں صرف 22 رنز دے کر اننگز کے اٹھارہویں اوور کا اختتام کیا تو آخری دو اوورز میں31 رنز درکار تھے۔
19 واں اوور کراچی کنگز کے لیے اہم رہا جس میں میر حمزہ نے ہیری بروک اور ڈیوڈ ویزا کی وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔
حمزہ اس میچ میں چار وکٹیں لینے والے تیسرے بولر بنے۔ ان چار وکٹوں کے لیے انھوں نے 27 رنز دیے۔
آخری اوور میں لاہور قلندرز کو جیتنے کے لیے 25 رنز بنانے تھے لیکن کرس جارڈن کے اس اوور میں صرف 2 رن بن پائے۔ یہ وہی کرس جارڈن ہیں جنھوں نے پچھلے میچ میں پچاس رنز دے ڈالے تھے اور جن کی خراب بولنگ پر وسیم اکرم پر ناخوش تھے۔
سوشل میڈیا ردِ عمل
آج لاہور قلندرز کے مداحوں کو کراچی کے خلاف ایک آسان ہدف کا تعاقب نہ کرنے پر گذشتہ سیزنز کی یاد آ رہی ہے جب لاہور کے لیے کسی بھی صورتحال سے ہارنا معمول ہوا کرتا تھا۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’لاہور نے اب دوبارہ معمول کی کرکٹ کھیلنا شروع کر دی ہے۔‘ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’کراچی کنگز کی یادداشت چلی گئی، لاہور قلندر کی واپس آ گئی۔‘
اسی طرح کچھ لاہور کے مداح جو بابر اعظم کو ہارتا بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے انھوں نے لکھا کہ ’لاہور آج بابر اعظم پر ترس کھا کر ہار گئی۔‘
یہ کراچی کی اس ٹونامنٹ میں پہلی جیت اور وہ جیت بھی لاہور کے خلاف ان کے ہوم گراؤنڈ میں۔ اس پر ایک صارف نے لکھا کہ 'جو ہر کسی سے ہاری ہوئی ٹیم سے ہارے اسے لاہور قلندر کہتے ہیں۔'
245 رنز میں دو سنچری شراکتیں
اب بات کرتے ہیں ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے میچ کی، جس میں ملتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے تین وکٹوں پر 245 رنز بنائے جو اس پی ایس ایل میں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا سکور بھی ہے۔
ملتان سلطانز کی بیٹنگ میں شاندار کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اس پی ایس ایل میں چوتھی مرتبہ 200 سے زائد سکور بنایا اور شان مسعود اور محمد رضوان نے اس ٹورنامنٹ میں تیسری مرتبہ سنچری پارٹنرشپ قائم کی۔
دونوں بیٹسمینوں کو پچھلے میچ میں اپنی سست روی کا احساس تھا لیکن اس مرتبہ وہ کھل کر کھیلے اور 12 اوورز میں 119 رنز کی شراکت قائم کر ڈالی۔ شان مسعود 57 رنز بنا کر واپس لوٹے تو سرفراز احمد کی پریشانی مزید بڑھ گئی اور اس کا سبب رائلے روسو تھے۔
روسو نے اپنے کپتان کے ساتھ مل کردوسری وکٹ کی شراکت میں 103 رنز بنا ڈالے۔
یہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پہلا موقع ہے کہ ایک ہی اننگز میں دو سنچری پارٹنر شپس قائم ہوئی ہیں۔
رائلے روسو نے صرف 20 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ کی زد سے کوئی بھی بولر نہ بچ سکا۔
نور احمد کے تیسرے اوور میں انھوں نے تین چوکے لگائے۔ سہیل تنویر کے ایک اوور میں ان کے لگاتار دو چھکے اور ایک چوکا شامل تھا اور جب نور احمد اپنا چوتھا اوور کرانے آئے تو اس میں بھی رائلے روسو کے دو چوکے اور ایک چھکے نے ان کے بولنگ اعدادوشمار بری طرح خراب کرڈالے۔
رائلے روسونے 71 رنز کی طوفانی اننگز کے لیے صرف 26 گیندیں کھیلیں جس میں نو چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔
کپتان محمد رضوان کی ثابت قدمی بدستور انھیں کامیاب رکھے ہوئے ہے اور وہ سات چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے83 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
محمد رضوان کی اس شاندار پرفارمنس پر صحافی ارفع فیروز نے لکھا کہ ’محمد رضوان نے ملتان سلطانز کو ایک نیا چہرہ دیا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
خوشدل شاہ کریز پر آئے اور نسیم شاہ کو لگاتار دو چوکے لگاتے ہوئے 10 رنز بنا کر واپس بھی لوٹ گئے۔
اگر ملتان سلطانز کی اننگز میں تین نصف سنچریاں بنیں تو کوئٹہ کی طرف سے بھی ان کے تین بولرز سہیل تنویر، نور احمد اور غلام مدثر بھی نصف سنچریوں جتنے رنز اپنی بولنگ پر دے گئے۔
شاہنواز دھانی کو علیم ڈار بھی پکڑ نہ پائے
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے توقعات سے کہیں زیادہ جلدی حوصلہ اور میچ ہارا۔ وہ سولہویں اوور ہی میں 128 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کرکٹ تجزیہ کار ساج صادق نے لکھا: ’کوئٹہ کی 117 رنز سے شکست پی ایس ایل کی تاریخ میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی شکست ہے۔‘
جیسن روئے نے جس اعتماد سے اننگز شروع کی تھی اس سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ڈگ آؤٹ میں امید نظر آ رہی تھی لیکن ان کے 38 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد صرف عمر اکمل ہی اعتماد سے بیٹنگ کر پائے۔ انھوں نے نصف سنچری سکور کی جس میں دو چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔
کپتان سرفراز احمد صرف 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ول سمیڈ، افتخار احمد اور احسان علی ڈبل فگرز میں ہی نہ آ سکے۔
صارف فاطمہ محسن نے گلیڈی ایٹرز کی اس ناکامی کا ذمہ دار کپتان سرفراز احمد کو ٹھراتے ہوئے لکھا کہ کوئٹہ کو پی ایس ایل 8 میں ان کی جگہ محمد نواز کا انتخاب کرنا چاہیے۔
وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹیں ملتان سلطانز کے کھلاڑیوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتی رہی۔
اس پوری صورتحال میں سب سے زیادہ خوش فاسٹ بولر شاہنواز دھانی تھے جنھوں نے اپنی دونوں وکٹیں حاصل کرنے کے بعد مخصوص انداز میں جشن تماشائیوں کی طرف بھاگ کر جاتے ہوئے آداب بجاتے ہوئے منایا۔
دوسری مرتبہ جب وہ بھاگنے لگے تو امپائر علیم ڈار نے ازراہ تفنن انھیں پکڑنے کی کوشش کی لیکن دھانی بچ کر نکل گئے۔