آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
رضوان کی اننگز نہ ہوتی تو پھر کیسی سنسنی؟
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
ٹی ٹونٹی کرکٹ میں میچ جب رات کا ہو تو کھیل کے محرکات کافی بدل جاتے ہیں۔ اور اگر موسم کے طفیل اوس پڑنے کا خدشہ بھی ہو تو دوسری اننگز کی بولنگ مشکل اور بیٹنگ آسان تر ہو جاتی ہے۔
جوں جوں رات پلتی ہے، اوس بڑھتی جاتی ہے اور آؤٹ فیلڈ کی نمی دھیرے دھیرے گیند کو بولرز کے لیے ناقابلِ گرفت کرتی جاتی ہے۔ سپنرز کے لیے تو مشکلات جو ہوں سو ہوں، فاسٹ بولرز کے لیے بھی زندگی دشوار ہو جاتی ہے۔
کلاسن نے جب ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تو ان کے ذہن میں یہی تھا کہ دوسری اننگز میں بیٹنگ آسان تر ہو گی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو سکور بورڈ پہ ایک بڑا مجموعہ جڑنا ضروری تھا۔
بابر اعظم وہ بلے باز ہیں جو پاور پلے میں ہی اپنے سہل اور سادہ سٹروکس کی بدولت میچ حریف کے منہ سے اچک لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن جب وہ جلدی آؤٹ ہو جائیں تو پاکستانی بیٹنگ کی مشکلات آشکار ہو جاتی ہیں۔
بدقسمتی سے اس سیریز کے لیے پاکستان کو مڈل آرڈر میں محمد حفیظ کی خدمات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ ایسے میں جب بحران سر اٹھاتا ہے تو نوآموز بلے باز دباؤ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر بابر اعظم جلد آؤٹ نہ ہوتے تو پاکستان اس وکٹ پہ 190 کے لگ بھگ مجموعہ تشکیل دینے میں کامیاب رہتا۔ اور بیٹنگ کے لیے سازگار اس وکٹ پہ یہی ایک مسابقتی ہدف تصور ہوتا۔ لیکن بابر اعظم کے رن آؤٹ نے سارا سکرپٹ ہی بدل دیا۔
مڈل آرڈر میں پاکستان کو درپیش چیلنجز یہاں بخوبی آشکار ہوئے۔ اگر یہیں جنوبی افریقہ اس نوآموز اٹیک کی بجائے اپنی پوری قوت سے کھیل رہا ہوتا تو پاکستان کا مڈل آرڈر بہت بری طرح ایکسپوز ہو سکتا تھا۔
مگر محمد رضوان کی بہترین فارم اور تجربہ یہاں کام آیا جنہوں نے کوئی جلد بازی کیے بغیر وکٹ پہ جم کر دھیرے دھیرے اپنی اننگز تعمیر کی اور جب حالات سے ہم آہنگ ہو گئے تو خوب ہاتھ کھولا اور یقینی بنایا کہ ان کے بولرز کے پاس دفاع کرنے کو کوئی قابلِ قدر مجموعہ موجود ہو۔
کلاسن کی ٹیم اگرچہ ٹیلنٹ سے بھرپور تھی مگر تجربے کی کمی بہرحال اپنا اثر دکھاتی ہے۔ اگر تجربے کی کمی شاملِ حال نہ ہوتی تو یہ ہدف یقینی طور پہ قابلِ حصول تھا۔ اس وکٹ میں بہت سے رنز موجود تھے اور اوس پڑتے وقت رنز کا حصول اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔
دونوں ٹیموں کی بولنگ کا موازنہ کیا جائے تو پاکستانی اٹیک صلاحیت اور قوت میں بلاشبہ جنوبی افریقی حریف سے بہتر تھا مگر اوس پڑنے کے بعد گیند کو خشک رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
پاکستان کی جیت میں یہاں بنیادی کردار محمد رضوان کی اننگز کا تھا۔ ان کی اننگز کی عظمت اس امر سے اور بڑھ جاتی ہے کہ انہیں دوسرے اینڈ پہ کسی بھی بلے باز سے کوئی نمایاں مدد نہیں ملی۔
بابر اعظم کی کپتانی کی داد دینا ہو گی کہ پریشر کے باوجود اوسان خطا نہیں ہونے دیے اور صحیح وقت پہ بولنگ میں تبدیلیاں کی۔ جب جنوبی افریقی اننگز مومینٹم پکڑنے کو تھی، تب عثمان قادر کا سپیل کروایا جس نے مخالف بلے بازوں کا سارا ردھم توڑ ڈالا۔
پاکستانی فاسٹ بولرز اگرچہ یہاں مشکلات کا شکار دکھائی دیے مگر اس میں کنڈیشنز کا عمل دخل زیادہ تھا۔ فی الوقت پاکستان کو اپنے مڈل آرڈر کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگلے میچز میں بھی کلاسن کی ٹیم کوئی تر نوالہ ثابت نہیں ہوگی۔
جنوبی افریقی ٹیم اپنی ناتجربہ کاری کے باوجود جس ہمت سے لڑی اور جس طرح اس میچ کو آخری گیند تک لے کر آئی، وہ بہر حال قابلِ ستائش ہے کہ اس کے بغیر ایسا جاندار، سنسنی خیز مقابلہ ممکن نہ ہو پاتا۔
لیکن پاکستان کے لیے اطمینان کی وجوہ بھی بہت ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ پاکستان نے اس دورے کا جو فاتحانہ آغاز کراچی میں کیا تھا، وہ لاہور کے اس میچ تک برقرار رکھا۔ اور اس کا کافی کریڈٹ ایک بار پھر محمد رضوان کو جاتا ہے کہ اگر ان کی اننگز اس مجموعے میں شامل ںہ ہوتی تو پھر کیسا میچ ہوتا اور کہاں کی سنسنی۔