آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پی ایس ایل 7 میں ملتان سلطانز بمقابلہ پشاور زلمی: لوونگ سٹون کو قابو کر کے ملتان سلطانز لگاتار چھٹا میچ جیت گئی، شان مسعود کے 68 رنز
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
مقام بدلا، ماحول بدلا، شائقین بدل گئے لیکن اگر کچھ نہ بدلا تو وہ نتیجہ ہے۔
ملتان سلطانز نے پاکستان سپر لیگ کے لاہور مرحلے کا آغاز اسی شاندار کارکردگی سے کیا جو انھوں نے کراچی میں دکھائی تھی۔ قذافی اسٹیڈیم میں اس کی زد میں آنے والی پہلی ٹیم پشاور زلمی بنی جسے اس نے 42 رنز کی شکست سے دوچار کر دیا۔
یہ پی ایس ایل7 میں ملتان سلطانز کی مسلسل چھٹی کامیابی ہےجبکہ پشاور زلمی چھ میں سے یہ تیسرا میچ ہاری ہے۔
اس کامیابی کے بعد ملتان سلطانز پاکستان سپر لیگ 7 کے پلے آف مرحلے میں پہنچنے والی اکلوتی ٹیم بن چکی ہے۔
پشاور زلمی کی جانب سے ٹاس جیت پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت کے بعد ملتان سلطانز نے سات وکٹوں پر 182 رنز بنائے۔ جواب میں پشاور زلمی کی پوری ٹیم 140رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی اور وہ کسی بھی موقع پر اس پوزیشن میں نظر نہیں آئی جو ملتان سلطانز کے لیے خطرہ بنتی۔
پُراعتماد آغاز لیکن مڈل آرڈر ناکام
رضوان اور شان مسعود نے پہلے اوور ہی سے سکور بورڈ کو تیزی سے بڑھانا شروع کر دیا۔
شان مسعود نے اپنی عمدہ فارم جاری رکھی اور ان کی بیٹنگ میں خوبصورت ٹائمنگ نظر آئی جس کے نتیجے میں انھیں چوکے ملتے رہے۔
محمد رضوان، جو اننگز کے آغاز سے سر چڑھتا طوفان بن جاتے ہیں، نے شان مسعود کے تیز انداز کو دیکھتے ہوئے ُپرسکون انداز اختیار کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں بیٹسمین اسی حکمت عملی کے تحت پاور پلے میں اسکور کو 53 تک لے گئے جس میں 39 رنز شان مسعود کے تھے۔
شان مسعود نے اپنی نصف سنچری 34 گیندوں پر آٹھ چوکوں کی مدد سے مکمل کی۔ یہ اس پی ایس ایل میں ان کی تیسری نصف سنچری ہے اور اس سے قبل وہ 83اور 88 رنز کی دو قابل ذکر اننگز کھیل چکے ہیں۔
اسپنرز لیئم لوونگ اسٹون اور شعیب ملک کے بولنگ اٹیک میں آنے کے بعد رنز بننے کی رفتار تھم گئی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اننگز کے دوران 28 گیندوں کا وقفہ آیا جہاں ایک بار بھی گیند باؤنڈری کے پار نہیں گئی۔
محمد رضوان 34 رنز کے انفرادی اسکور وہاب ریاض کی گیند پر اپنی وکٹ بچانے میں ناکام رہے حالانکہ انھوں نے ایل بی ڈبلیو فیصلے پر ریویو بھی لے لیا لیکن ڈی آر ایس نے امپائر احسن رضا کے فیصلے کو درست قرار دے دیا۔
یہ اس پی ایس ایل میں وہاب ریاض کی پہلی وکٹ تھی۔
شان مسعود اور محمد رضوان کی شراکت میں 98 رنز بنے۔ یہ اس پی ایس ایل میں ان دونوں کی تیسری قابل ذکر شراکت تھی اور اس سے قبل یہ دونوں 150 اور 85 کی شراکت بھی جوڑ چکے ہیں۔
اس ُپراعتماد آغاز کے باوجود یہ بات خاص طور پر محسوس کی گئی کہ اس میں جارحانہ مزاج کا فقدان رہا۔ پچھلے میچوں میں پانچ چھکے مارنے والے محمد رضوان کے کھاتے میں اس بار کسی چھکے کا اضافہ نہ ہوسکا۔
شان مسعود نے سلمان ارشاد کی گیند کو چھکے کی شکل دکھائی لیکن اگلی ہی گیند پر وہ وہاب ریاض کو کیچ دے بیٹھے ان کی68 رنز کی اننگز میں آٹھ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
ملتان سلطانز کی اننگز میں پہلا چھکا 14ویں اوور میں ٹم ڈیوڈ نے مارا اور پھر جہاں بھی انھیں موقع ملا انہوں نے یہ عادت ترک نہیں کی۔
شائقین کا جوش و خروش اسوقت بڑھ گیا جب انہوں نے ٹم ڈیوڈ کو ثاقب محمود کی لگاتار دو گیندوں کو باؤنڈری کے باہر پہنچاتے دیکھا۔وہ صرف 18 گیندوں پر تین چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 34 رنز بناکر وہاب ریاض کی دوسری وکٹ بنے۔
وہاب ریاض کی پی ایس ایل میں مجموعی وکٹوں کی تعداد 96 ہوگئی ہے اور ٹم ڈیوڈ اس ٹورنامنٹ میں ابتک سب سے زیادہ 18چھکے مار چکے ہیں۔
رائلی روسو صرف سات گیندوں کے مختصر قیام میں دو چھکوں کی مدد سے 15رنز بنا کر واپس لوٹ گئے جبکہ خوشدل شاہ، انور علی اور عباس آفریدی بھی آئے اور گئے۔
ملتان سلطانز آخری پانچ اوورز میں چھ وکٹوں کا نقصان پر صرف 57 رنز کا اضافہ کر سکے۔
ملتان سلطانز کے سکور کو ناقابل تسخیر حد تک پہنچنے سے روکنے میں پشاور زلمی کے اسپنرز کا کردار بہت اہم رہا۔ لوونگ اسٹون اور شعیب ملک کے چھ اوورز میں صرف 43 رنز بنے۔
زلمی کی امیدیں لوونگ اسٹون سے مگر۔۔۔
پشاور زلمی کے لیے اس سے زیادہ مایوس کن بات اور کیا ہوسکتی تھی کہ 182 رنز کے تعاقب میں دونوں اوپنرز اننگز کے دوسرے ہی اوور میں چل دیے۔
یہ زمبابوے کے فاسٹ بولر بلیسنگ موزارابانی کا اوور تھا جس میں انھوں نے پہلے کامران اکمل کو شاہنواز دھانی کے ہاتھوں کیچ کرایا اور پھر حیدرعلی کو بولڈ کر دیا۔
پشاور زلمی کے یہ دونوں بیٹسمین اس ٹورنامنٹ میں نصف سنچری بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ۔
ایک کا تجربہ ساتھ چھوڑتا دکھائی دے رہا ہے اور دوسرے کا ٹیلنٹ نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے۔
موزارابانی شعیب ملک کی وکٹ بھی حاصل کرلیتے اگر مڈ وکٹ پر ٹم ڈیوڈ غفلت نہ برتتے۔
اس سے قبل شاہنواز دھانی کی گیند پر مڈ آن پر عباس آفریدی نے لوونگ اسٹون کو کیچ کرنے کا آسان موقع گنوادیا۔
لیئم لوونگ اسٹون کو چانس دینے کا مطلب فیلڈنگ سائیڈ کو بھاری قیمت چکانا ہوتا ہے لیکن یہ ملتان سلطانز کی خوش قسمتی تھی کہ عباس آفریدی نے اپنے پہلے ہی اوور میں انھیں رضوان کے ہاتھوں کیچ کراکر اپنے ڈراپ کیچ کی تلافی کردی۔
لوونگ اسٹون سے زلمی ہی نہیں شائقین کو بھی بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ اس کی وجہ ان کی وہ بیٹنگ تھی جس میں انھوں نے گذشتہ سال پاکستان کے خلاف ٹرینٹ برج کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نو چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 103 رنز بنائے تھے۔
پشاور زلمی پاور پلے کے اختتام پر 42 رنز پر تین وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔
حسین طلعت کو بولڈ کرکے شاہنواز دھانی کا جشن منانے کا انداز دیکھنے والوں کو بھا گیا۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
شعیب ملک اور شرفین ردرفرڈ نے عمران طاہر اور عباس آفریدی پر اٹیک بھی کیا لیکن ہر اوور کے ساتھ رن ریٹ بھی بڑھتا جارہا تھا اور یہ اسی دباؤ کا نتیجہ تھا کہ ردرفرڈ 21 رنز بنا کر موزا رابانی کی گیند پر ٹم ڈیوڈ کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔
شعیب ملک کی مزاحمت 44 رنز پر جواب دے گئی ۔شان مسعود کے کیچ نے بولر عمران طاہر کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھیر دی۔
چھٹی وکٹ 102رنز پر گرنے کا مطلب یہ تھا کہ زلمی کو 35 گیندوں پر81 رنز درکار تھے۔
وہاب ریاض اور محمد عمر کی وکٹیں گرنے کے بعد بین کٹنگ نے شاہنواز دھانی کے ایک اوور میں دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 17 رنز سمیٹے لیکن خوشدل شاہ نے انھیں 23 رنز پر آؤٹ کرکے اس ٹورنامنٹ میں اپنی وکٹوں کی تعداد 12 تک پہنچادی جو شاداب خان کی 14 وکٹوں کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔
اس میچ میں خوشدل شاہ اور موزارابانی تین تین وکٹوں کی زبردست بولنگ کے ذریعے زلمی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے بولرز تھے۔
’سلطانز کو آسٹریلیا ہی آ کر ہرائے تو ہرائے‘
مسلسل چھٹی کامیابیوں کے بعد ملتان سلطانز نے بظاہر پی ایس ایل کی تمام دیگر ٹیموں اور اُن کے حامیوں پر اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔
جس طرح آسٹریلوی ٹیم کو دنیا کی خطرناک ترین کرکٹ ٹیموں میں شمار کیا جاتا ہے، اب ویسا ہی کچھ سوشل میڈیا پر ملتان سلطانز کے لیے بھی کہا جا رہا ہے۔
ٹوئٹر صارف حیدر سلطان ہنجرا نے لکھا: 'ملتان سلطانز کو آسٹریلیا ہی آ کر ہرائے تو نہیں پتہ، پی ایس ایل کی ٹیموں کے بس کی بات تو نہیں لگ رہی۔'
اور آج کے میچ میں خوشدل شاہ کی بولنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ آج کل خوشدل شاہ بھی 'الہٰ دین کا چراغ' بنے ہوئے ہیں، جب بھی رگڑو، ایک دو وکٹیں نکل ہی آتی ہیں۔
کراچی میں پی ایس ایل کے پہلے مرحلے میں فتوحات کی روایت برقرار رکھتے ہوئے جب ملتان سلطانز نے آج بھی فتح حاصل کی تو اُن کے ایک مداح نے لکھا: 'سٹیڈیم بدلا، صوبہ بدلا، شہر بدلا، نہیں بدلا تو ہمارا اندازِ کھیل نہیں بدلا۔'
سید وقار حسین لکھتے ہیں کہ اُنھوں نے سوچا تھا کہ لاہور میں ہونے والا میچ 'کراچی کی طرح یک طرفہ' نہیں ہو گا۔ اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس مرحلے کے اگلے میچز زیادہ 'جاندار' ہوں گے۔
اور ملتان سلطانز کی کامیابی پر تبصرے تو اپنی جگہ، مگر پشاور زلمی کے مداح بھی اپنی ٹیم کی ناکامی پر کچھ مایوس سے نظر آئے۔
ایک صارف شیزان عباسی نے لکھا کہ پشاور زلمی کو نیچے سے دوسری پوزیشن حاصل کرنے پر مبارکباد، جب تک زلمی والے کامران اکمل، حیدر علی اور وہاب ریاض میں سے کوئی دو ڈراپ نہیں کرتے، تب تک مار کھاتے رہیں گے۔