آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شان مسعود: ’تینوں فارمیٹس کھیل سکتا ہوں، امید ہے جلد پاکستان ٹیم میں دوبارہ جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاؤں گا‘
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
یہ اگست 2020 کی بات ہے کہ پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ کھیل رہی تھی جس میں اوپنر شان مسعود نے پہلی اننگز میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 156رنز سکور کیے تھے۔ یہ ان کی ٹیسٹ کرکٹ کی اننگز میں لگاتار تیسری سنچری تھی۔
وہ اس سے قبل سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف بھی سنچریاں بنا چکے تھے۔
یہ وہ وقت تھا جب کوئی بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ شان مسعود ٹیم سے باہر ہو سکتے ہیں، لیکن کرکٹ اُتار چڑھاؤ اور بے یقینی کا کھیل ہے۔ 156 رنز کی اننگز کے بعد اگلی ہی اننگز میں وہ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے لیکن ان کے کریئر کا اہم موڑ اس وقت آیا جب نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں وہ لگاتار تین اننگز میں صفر پر آؤٹ ہو گئے، جس کی وجہ سے انھیں پاکستانی ٹیم سے باہر ہونا پڑا۔
شان مسعود ٹیم سے باہر ہونے پر مایوس نہیں ہوئے۔ اس کے بعد انھوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار پرفارمنس دی اور اب پاکستان سپر لیگ میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انھیں یقین ہے کہ وہ دوبارہ پاکستانی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
شان مسعود کی ٹیم میں واپسی کے لیے غیرمعمولی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے نیوزی لینڈ سے واپس آنے کے بعد قائداعظم ٹرافی کے چار میچ کھیلے جن میں انھوں نے 105، 102، 70 اور 190 کی شاندار اننگز کھیلیں۔
پی ایس ایل 7 میں وہ اب تک 83 اور 88 رنز کی دو قابل ذکر اننگز کھیل چکے ہیں۔
’ناکامی سے نہیں گھبراتا‘
شان مسعود بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ’اتار چڑھاؤ کھیل کا حصہ ہے اور آپ جتنا جلد اسے سمجھیں گے اتنا ہی آپ کے لیے بہتر ہو گا۔ ناکامی کوئی بُری چیز نہیں ہے، بلکہ اس سے آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ میرے کریئر میں جب بھی مشکل وقت آیا ہے میں اس سے نہیں گھبرایا بلکہ سیکھنے کی کوشش کی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اپنے کھیل میں بہتری کی جو بھی گنجائش نظر آتی ہے، اس کے لیے کوشش کرتا ہوں۔ میں ٹیم سے باہر ہونے کے بارے میں بہت زیادہ نہیں سوچ رہا ہوں۔ مجھے جہاں بھی کرکٹ، جس فارمیٹ میں بھی کھیلنے کو مل رہی ہے میں وہ کھیل رہا ہوں تاکہ جب میں دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ میں جاؤں تو میری کارکردگی میں مستقل مزاجی نظر آئے۔ʹ
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’کسی ایک فارمیٹ کا بیٹسمین نہیں‘
شان مسعود کا کہنا ہے ʹمیں ان باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتا کہ میں صرف ٹیسٹ کا بیٹسمین ہوں۔ میرا اپنا یقین یہ ہے کہ میں تینوں فارمیٹس کھیل سکتا ہوں۔‘
’میں کوشش کرتا ہوں کہ تینوں فارمیٹس میں جو بھی بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضے ہیں اس طرف اپنے آپ کو لے جاؤں۔ آپ کا جو یقین ہوتا ہے وہی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے لہذا میں یہ ہرگز نہیں سوچتا کہ میں کسی ایک خاص فارمیٹ کا ہی بیٹسمین ہوں۔ʹ
مار دھاڑ والی بیٹنگ کے بغیر بھی کامیاب
شان مسعود نے پاکستان سپر لیگ کے رواں سیزن میں جس عمدگی سے بیٹنگ کی ہے اس نے اس تاثر کی نفی کر دی ہے کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں صرف وہی بیٹسمین کامیاب رہتے ہیں جو مار دھاڑ سے بھرپور جارحانہ بیٹنگ کرتے ہیں۔
شان مسعود اس بارے میں کہتے ہیں کہ ʹہر بیٹسمین کا اپنا سٹائل ہوتا ہے۔ ہمیں دور دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر میں اپنے اردگرد نظر ڈالوں تو بابر اعظم اور محمد رضوان کی شکل میں دو ایسے بیٹسمین ہیں جو تینوں فارمیٹس میں ایک ہی سٹائل میں بیٹنگ کرتے ہوئے بھی کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔‘
’میری کوشش یہی ہے کہ جب آپ کے قریب ایسی مثالیں موجود ہوں تو پھر میں کھیل کی بنیادی باتوں کو مضبوط رکھوں اور درپیش صورتحال کے مطابق کھیلنے کی کوشش کروں۔‘
شان مسعود نے لاہور قلندرز کے خلاف 83 رنز کی اننگز 50 گیندوں پر کھیلی، جس میں چودہ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، اسی طرح کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف ان کی 88 رنز کی اننگز صرف 58 گیندوں پر مشتمل تھی، جس میں چھ چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔
ٹیم کی واپسی کتنی چیلنجنگ ہے؟
شان مسعود کا کہنا ہے ’صحت مندانہ مقابلہ کسی بھی ٹیم کی اچھی نشانی ہوتی ہے۔ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ اس وقت پاکستانی ٹیم میں ہر شعبے میں کھلاڑیوں میں مقابلہ ہے۔ جہاں تک میری ٹیم میں واپسی کی بات ہے میں اس وقت آگے نہیں دیکھ رہا ہوں، فی الحال میری توجہ پی ایس ایل پر مرکوز ہے۔‘
’جس طرح کی ملتان سلطانز کی کارکردگی رہی ہے ہم چاہ رہے ہیں کہ لگاتار دوسرے سال ٹائٹل جیتنے والی پہلی ٹیم بنیں۔ آگے کا جب وقت آئے گا تب دیکھیں گے۔‘
شان مسعود کی اس گفتگو کے تناظر میں اگر ہم ان کے ٹیم سے باہر ہونے کے بعد پاکستانی اوپنرز کی ٹیسٹ میچوں میں کارکردگی کا جائزہ لیں تو اس عرصے میں عمران بٹ اور عابد علی نے 20 اننگز میں ایک ساتھ بیٹنگ کی جن میں وہ صرف ایک سنچری پارٹنرشپ قائم کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
اس کے بعد بنگلہ دیش کے دورے میں عابد علی کے ساتھ عبداللہ شفیق کو موقع دیا گیا۔ جنھوں نے تین اننگز میں دو سنچری اور ایک نصف سنچری کی شراکت قائم کی تھی۔