وراٹ کوہلی کی میراث: ’کارنرڈ‘ کپتان کے لیے کپتانی چھوڑنا ہی واحد آپشن کیوں تھا؟

وراٹ کوہلی نے انڈین مردوں کی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انھوں نے 68 ٹیسٹ میں انڈیا کی کپتانی کی اور 40 میچ جیت کر ریکارڈ قائم کیا جو کہ تاریخ میں کسی بھی ٹیسٹ کپتان کا چوتھا بہترین ریکارڈ ہے۔ اس رپورٹ میں کھیل کے مصنف سریش مینن نے اُن کی کرکٹ میراث کا جائزہ لیا ہے۔

کوہلی دھکا دیے جانے سے پہلے ہی کود پڑے۔ سنیچر کے روز ٹیم انڈیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتانی کے عہدے سے اچانک دستبردار ہونے پر کچھ لوگوں کو حیرت ہوئی ہو گی، لیکن ٹیم کے جنوبی افریقہ روانہ ہونے سے پہلے ہی اس کے آثار واضح ہو چکے تھے۔

انڈیا میں کسی بھی کپتان نے انڈین بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ (بی سی سی آئی) کو اس طرح نہیں لیا جس طرح سے کوہلی نے لیا، کیونکہ انھوں نے بورڈ کے صدر کو اس وقت واقعتاً جھوٹا قرار دیا جب انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ سورو گنگولی نے کوہلی کو ٹوئنٹی 20 کپتان کے طور پر برقرار رہنے کے لیے کہا تھا، اس وقت جب انھوں نے اس فارمیٹ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بورڈ حکام کی اس حوالے سے طویل یادیں ہیں لیکن کوہلی نے جنوبی افریقہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے خود پر غیر ضروری دباؤ ڈال دیا۔

ماضی کے تجربے سے کوئی بھی یہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ کوہلی کو ان کی حیثیت دکھانے کا کوئی بھی بہانہ جنوبی افریقہ کے دورے کے بعد استعمال کیا جائے گا۔ انڈیا کا ایک کمتر ٹیم سے سیریز 1-2 سے ہارنے کا مطلب بورڈ کو کسی کارروائی کے لیے جواز مل جانا تھا۔ مگر اس سے قبل کوہلی نے خود کو ایک کونے میں دھکیل دیا۔

ابھی بہت زمانہ نہیں گزرا ہے کہ جب کسی میچ کے ڈرا ہونے کو انڈین کرکٹ کے لیے جیت کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ ڈرا نہ ہونے کا دوسرا مطلب شکست ہوتا تھا۔

لیکن پھر زمانہ بدل گیا۔ اب انڈیا سے سب کچھ جیتنے کی امید رہتی ہے۔ اور اس نفسیاتی تبدیلی میں کپتان کوہلی کا اہم کردار رہا ہے۔

کوہلی 68 ٹیسٹ میں 40 فتوحات کے ساتھ (24 انڈیا میں اور 16 دوسرے ممالک کے دورے پر) انڈیا کے سب سے کامیاب کپتان ہیں۔ تاریخ ان کے بارے میں ان کے ہم عصروں سے زیادہ مہربانی کا مظاہرہ کرے گی۔

کسی ایسے شخص کے لیے حیرت کی بات نہیں جس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ عوام کی نظروں میں گزارا ہو اور شدید جذبات کو ہوا دی ہو لیکن کوہلی کے اقدام کی اکثر ضرورت سے زیادہ تشریح کی جاتی رہی ہے۔

جب کوہلی حد سے زیادہ جارحانہ اور خود کو مرکز میں رکھنے والے نوجوان تھے تو یہ کہا جاتا تھا جب تک وہ نرم رویہ اختیار نہیں کرتے، ان کے پاس انڈیا کے لیے کھیلنے کا کوئی امکان نہیں۔ لوگ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ وہ محض اپنی عمر کے حساب سے جی رہے تھے۔

کوہلی کا جواب شاوین (یعنی جارج برنارڈ شا کے ڈرامے کے کرداروں کی طرح) تھا۔ نیشنل ٹیم کے اطوار کو اپنانے کے بجائے کوہلی نے اپنی طبیعت کے مطابق قومی ٹیم کے کلچر کو تبدیل کر دیا۔

ایک ہی نسل میں انڈین ٹیم جارحانہ، خوداعتماد، فتح کے تصور سے منسلک ہو گئی اور وہ کھلاڑیوں کا ایک ایسا گروپ بن گئی جو اچھا ہی کرتی چلی گئی۔ شائقین کے لیے کرکٹ میں کامیابی دوسرے شعبوں میں ناکامی کا بدل تھی۔

اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے، کوہلی نے کہا کہ اپنی کرکٹ میں انھوں نے ’کوئی کسر نہیں چھوڑی۔‘ وہ ذاتی طور پر بھی پیچھے نہیں ہٹے، اور آپ نے جو دیکھا وہ وہی پرعزم، خود اعتماد، اور متاثر کن شخص تھے۔

ان کی جنگجو طبعیت کا نام نہاد ’نیو انڈیا‘ نے خیر مقدم کیا۔ اگر سچن تینڈولکر معاشی طور پر خود اعتماد انڈیا کے پوسٹر بوائے تھے تو کوہلی نفسیاتی طور پر خود اعتماد انڈیا کے پوسٹر بوائے بن گئے۔

کوہلی کی کپتانی کا دور ختم ہو چکا ہے لیکن کوہلی بلے باز ہی رہیں گے اور شاید کپتانی کے اختتام پر ان کے بلے باز کی چمک پھر سے نظر آئے گی۔ انھوں نے دو سالوں میں کوئی بین الاقوامی سنچری نہیں بنائی ہے، اور یہ بات کوہلی کے لیے پریشان کن ہو گی کیونکہ وہ خود اپنے شدید ترین نقاد ہیں۔

کوہلی کے استعفیٰ کے بعد جو دو سوالات پیدا ہوئے ہیں، ان میں سے ایک کا جواب جلد ملنے کی امید ہے جبکہ دوسرے کا جواب وقت آنے پر ہی ملے گا۔

دوسرا سوال پہلے یعنی کوہلی کی میراث۔ کیا انڈیا اسی جذبے اور طاقت کے ساتھ کھیلے گا جس طرح وہ کوہلی کی کپتانی میں کھیل رہا تھا؟

کیپ ٹاؤن میں، بطور کپتان اپنے آخری ٹیسٹ میں، کوہلی نے سٹمپ مائیک پر ریویو سسٹم کے ذریعے میدان سے باہر کیے گئے فیصلے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔

یہ بچگانہ، بددماغ اور غیر مہذب تھا، اور اس کے لیے ان کی سرزنش ہونی چاہیے تھی۔ اس حرکت نے دو دیگر کھلاڑیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہوم ٹیم کے لیے کھیلنے کا الزام لگا کر براڈکاسٹروں کی توہین کریں۔

یہ ان کی میراث کا وہ حصہ ہے جس کے بغیر بھی انڈیا گزارہ کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس کے باوجود، مثبت باتوں کے متعلق بہت کچھ کہا جا سکتا ہے: خود اعتمادی اور جارحیت، ٹیم میں سب کے لیے ایک ہونے کا جذبہ۔ تیز گیند بازی کی میراث جو اب فطری معلوم ہوتی ہے، جسپریت بمراہ سے لے کر قطار میں انتظار کرنے والے عالمی معیار کے تیز گیند کروانے والوں کا ایک تیار گروپ کوہلی کے کردار کا نتیجہ ہے۔

پھر بھی، یہ دلچسپ بات ہے کہ جب کوہلی پہلے ٹیسٹ کے بعد آسٹریلیا سے واپس آئے تو ان کی جگہ کپتانی کے فرائض انجام دینے والے اجنکیا رہانے کی ٹیم کم جنگجویانہ دکھائی دی! خود اعتمادی کبھی کبھی خود کو نقصان پہنچانے والے کُبر تک پھسل سکتی ہے اور ہم جتنا سمجھتے ہیں یہ شاید کپتان کی شخصیت پر اس سے زیادہ منحصر ہوتا ہے۔

فٹنس پر کوہلی کا زور جیسی میراث انڈین ٹیم کی خصوصیت بنی رہنی چاہیے۔ اور دیگر تمام فارمیٹس سے بڑھ کر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ان کی حمایت کی روایت بھی جاری رہنی چاہیے۔

اور اب، پہلا سوال: کوہلی کی جگہ کون لے گا؟ روہت شرما بڑی عمر کے ہیں اور وہ طویل مدتی حل نہیں ہیں۔ پھر بھی مستقبل قریب کے لیے وہ واضح طور پر ان کی جگہ لینے والے آدمی ہیں (انڈیا ان کے دعوؤں کو محض اس لیے نظر انداز نہیں کر سکتا کہ وہ بار بار انجری کا شکار ہوتے ہیں)۔

یہاں اب اہم مقام نائب کپتان کا ہے۔ رشبھ پنت کم عمر ہیں اور تمام فارمیٹس کے لیے وہ واضح انتخاب ہیں۔ شرما کے تحت ان کی مشق ان کے اور انڈین کرکٹ کے لیے بہت اچھا ہو گا۔

اور یہ جاننا بہت کارآمد ہے کہ کوہلی اپنے لڑکوں کے ساتھ کسی کونے میں موجود ہوں گے۔

سوریش مینن انڈیا وزڈن المیناک کے مدیر ہیں