ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ، انڈیا بمقابلہ پاکستان: وہ ملک جہاں جیت کا جشن آپ کو جیل پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, رجنی ویدیہ ناتھن
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی، جنوبی ایشیا
متحدہ عرب امارات میں جاری ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ مقابلے میں انڈیا اور پاکستان کے پہلے میچ کے دوران دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کی طرح نفیسہ عطاری بھی ٹی وی سکرین پر آنکھیں جمائے بیٹھیں تھیں۔
شمالی انڈیا کے شہر ادے پور سے تعلق رکھنے والی سکول ٹیچر نفیسہ نے پاکستان کو انتہائی ماہرانہ اور زبردست انداز میں 10 وکٹوں سے انڈیا کو شکست دیتے دیکھا۔
مگر اس میچ کے کچھ دن بعد انھیں پولیس تحویل میں لے لیا گیا۔ اُن کا جرم ان کا واٹس ایپ سٹیٹس تھا جس میں انھوں نے پاکستانی ٹیم کی شاندار پرفارمنس کا جشن منایا تھا۔
نفیسہ عطاری نے اپنے واٹس ایپ سٹیٹس میں ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کی تصویر پر 'جیت گئے۔۔۔ ہم جیت گئے' لکھا تھا۔
وہ انڈیا کے ان بہت سے مسلمانوں میں شامل ہیں جنھیں انڈیا، پاکستان میچ کے بعد پاکستان کی مبینہ حمایت کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی گرفتاریوں کے بعد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعویدار ریاست یعنی انڈیا میں اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں نئی تشویش پیدا ہوئی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں برسر اقتدار ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے مسلم اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے ان کے ایجنڈے کا تازہ ترین ہتھیار ہیں۔ بہر حال حکومت سختی سے ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ان کی پوسٹ کو ان کے ایک طالب علم کے والدین نے دیکھا اور دوسرے افراد کو فارورڈ کیا۔
یہ سٹیٹس وائرل ہونے کے بعد نفیسہ عطاری کو اُن کی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا اور تعزیرات ہند کی دفعات میں سے ایک کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ یہ دفعہ ’قومی یکجہتی کے لیے متعصبانہ رویے‘ کو جرم قرار دیتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے اس پر معافی مانگی اور اس دوران وہ بظاہر اس پر پریشان دکھائی دے رہی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’کسی نے مجھے میسج کیا [میرے سٹیٹس کا جواب دیتے ہوئے] اور پوچھا کہ کیا میں پاکستان کو سپورٹ کر رہی ہوں۔ چونکہ پیغام میں بہت سارے ایموجیز تھے اور ایک خوشگوار ماحول تھا، اس لیے میں نے ہاں کہہ دیا۔‘
'اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں پاکستان کی حمایت کرتی ہوں۔ میں ایک انڈین ہوں، مجھے ہندوستان سے پیار ہے۔'
ضمانت پر رہائی کے بعد، وہ اپنے شوہر اور چھوٹے بچے کے ساتھ گھر پر ہیں اور اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا مقابلہ کر رہی ہیں۔
ان کے وکیل راجیش سنگھوی نے کہا کہ ’پولیس نے جو کچھ کیا وہ بالکل غلط ہے۔ اگر کوئی غلطی کرتا ہے یا اگر آپ کسی کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے ہیں، تو یہ کوئی جرم یا ملک مخالف کام نہیں ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ پولیس کا یہ عمل ’آئین اور ہمارے قوانین کے خلاف ہے۔‘
سخت گیر ہندو قوم پرست تنظیم بجرنگ دل کے رکن راجیندر پرمار نے نفیسہ عطاری کی سٹیٹس کی بنیاد پر پولیس میں ان کے خلاف درخواست دی تھی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان لوگوں کو پاکستان جانا چاہیے۔ آپ انڈیا میں رہ رہے ہیں، یہاں کما رہے ہیں لیکن آپ ان کی جیت کا جشن منا رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
مسٹر پرمار نے کہا کہ انھیں شکایت درج کروانے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ ’یہ اُن کے لیے [سبق] ہونا چاہیے۔ وہ ایک سکول میں ٹیچر ہیں۔ وہ وہاں بچوں کو کس قسم کی تعلیم دیں گی؟'
ان کے تبصروں نے انڈیا اور پاکستان میں بہت سے لوگ میں پائی جانے والی روایتی دشمنی کو مزید فروغ دیا ہے۔ یہ دشمنی سنہ 1947 سے جاری ہے جب برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے بعد دونوں ممالک کی تخلیق ہوئی تھی۔
اور تعلقات خاص طور پر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں زیادہ کشیدہ ہوتے ہیں، جہاں 1980 کی دہائی کے آخر سے حکومت ہند کے خلاف شورش جاری ہے۔
کشمیر میں میڈیکل کے طالب علموں کے ایک گروپ پر بھی انسداد دہشت گردی کے سخت قانون کے تحت پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے مبینہ طور پر حمایت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
منظر عام پر آنے والی ایک آن لائن ویڈیو میں مبینہ طور پر بی جے پی کے سابق قانون ساز وکرم رندھاوا کو یہ کہتے ہوئے سُنا جا سکتا ہے کہ ان طلبا کی ’زندہ کھال‘ ادھیڑ دینی چاہیے اور انڈین سرزمین پر پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کے لیے ان کی ڈگریاں اور شہریت منسوخ کر دی جانی چاہیے۔
مسٹر رندھاوا پر پولیس کی طرف سے ’ہیٹ سپیچ‘ یا نفرت انگیز پیغام پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، اور بی جے پی کی طرف سے ان کی سرزنش کی گئی ہے اور ان کی پارٹی نے ان سے ان ریمارکس کے لیے 48 گھنٹے کے اندر معافی مانگنے کو کہا ہے۔
جہاں پارٹی اس طرح کی سخت زبان کے استعمال سے خود کو دور کر رہی ہے وہیں بی جے پی کے دیگر سینیئر ممبران نے پاکستان کی حمایت کرنے والوں کی مذمت کی ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ اسے جرم سمجھا جانا چاہیے۔
سابق انڈین کرکٹر سے بی جے پی کے سیاست دان بننے والے گوتم گمبھیر نے کہا کہ جس نے بھی پاکستان کی جیت کا جشن منایا وہ 'شرمناک' ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے ٹویٹر پر لکھا: ’پاکستان کی جیت پر پٹاخے پھوڑنے والے ہندوستانی نہیں ہو سکتے! ہم اپنے لڑکوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی اور ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیت کی خوشی منانے والے انڈینز پر غداری کا الزام عائد کیا جانا چاہیے۔
انڈیا کا نوآبادیاتی دور کا بغاوت کا قانون حکومت کی تنقید کو جرم قرار دیتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کا استعمال اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
پوڈ کاسٹ ’دی سین اینڈ دی انسین‘ کے میزبان امیت ورما نے کہا: 'ہم یہاں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ بی جے پی کے ایک سیاسی عمل کا حصہ ہے جو مسلمانوں کو 'دوسرے' کے طور پر پیش کر کے ہندو ووٹ کو مضبوط کر رہی ہے۔'
'انھوں نے ایسے مسائل کو ہتھیار بنایا ہے جو ہماری سیاست میں دہائیوں سے غیر فعال ہیں: گائے کا ذبیحہ، ہندو مسلم شادیاں، اور یہاں تک کہ انڈینز کا پاکستان کی حمایت کرنا بھی۔'
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ 'ان میں سے کسی کا بھی ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ صرف مسلم مخالف جذبات کو ہوا دینے والے ایشوز ہیں اور بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہ بڑے پیمانے پر نظر آتے ہیں۔'
لیکن حکومت ہند کے ایک سینیئر ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی کے لیے یہ کہنا 'مضحکہ خیز' ہے کہ مسلمانوں کی بہت کم تعداد کے خلاف کارروائی کرنا ملک میں اس عقیدے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگوں کو سزا دینے کے مترادف ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
وزارت اطلاعات و نشریات کے سینیئر مشیر کنچن گپتا نے کہا: 'وہ [گرفتار ہونے والے] انڈیا کی شکست کا جشن منا رہے تھے۔۔۔ اس طرح کی ہر حرکت 'امن و امان کی صورتحال' کو حرکت میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لہذا اسے ہر طرح سے روکا جانا چاہیے۔'
انھوں نے مزید کہا: 'اگر دو طلبا یہاں اور پانچ طلبا وہاں یا کہیں اور کوئی استاد ایسا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے جو اشتعال انگیز ہے اور اس میں مزید مسائل پیدا کرنے کی صلاحیت ہے، تو اس کی جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔۔۔ اور تفتیش کی جائے گی۔'
حراست میں لیے جانے والے بہت سے لوگوں کے اہل خانہ کا خیال ہے کہ یہ کارروائیاں مکمل طور پر غیر متناسب ہیں۔
اتر پردیش میں بھی سات افراد پر پاکستان کی جیت کا جشن منانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
پولیس نے کہا کہ انھوں نے امن و امان کو خراب کرنے کے لیے انڈین کرکٹ ٹیم کے خلاف توہین آمیز الفاظ اور ملک مخالف تبصرے کا استعمال کیا۔
ان میں سے تین افراد، ارشد یوسف، عنایت الطاف اور شوکت احمد اب بھی جیل میں ہیں۔ یہ تمام آگرہ کے ایک کالج میں انجینئرنگ کے طالب علم ہیں، جنھیں ان کے کالج سے معطل کر دیا گیا ہے انھیں وکیل تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کا سامنا ہے۔
آگرے میں ینگ لائرز ایسوسی ایشن کے صدر نتن ورما نے کہا: 'ہم ان طلبا کو کوئی قانونی مدد فراہم نہیں کریں گے کیونکہ وہ انڈیا میں رہتے ہوئے پاکستان کی جیت کا جشن منا رہے تھے۔‘
’یہ ہمارے ملک کے خلاف اور ملک دشمنی ہے۔ ان کی مخالفت کرنا ہمارا فرض ہے۔ مستقبل میں ایسی حرکتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
یہ پہلا موقع نہیں جب کسی کرکٹ میچ کے تعلق سے اس قدر سخت ردعمل آیا ہو۔
سنہ 2014 میں، اتر پردیش میں 60 کشمیری طلبا پر انڈیا کے خلاف پاکستان کی حمایت کرنے پر بغاوت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں وزارت قانون کے قانونی مشورے کے بعد یہ الزامات واپس لے لیے گئے۔
کرکٹ ہمیشہ سے انڈین نفسیات کا ایک بڑا حصہ رہا ہے، لیکن پیو ریسرچ سینٹر کے ایک حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ ملک میں بالغوں کی اکثریت (56 فیصد) کا کہنا ہے کہ حقیقی انڈین ہونے کے لیے انڈین کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنا ضروری ہے۔
کرکٹ صحافی اور سماجی تبصرہ نگار شاردا اوگر پوچھتی ہیں کہ ’قانون میں مخالف کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنا کب جرم رہا ہے؟‘
'کیا برطانیہ یا آسٹریلیا میں ہندوستانی نژاد لوگوں کو انڈیا کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا جانا چاہیے؟ یہ واضح طور پر ایک دانستہ مذہبی تقسیم ہے جسے دونوں طرف اکسایا جا رہا ہے۔'
سرحد کی دوسری جانب بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔
سنہ 2016 میں انڈین کرکٹ کپتان وراٹ کوہلی کے ایک پاکستانی مداح کو خراج تحسین پیش کرنے اور انڈین پرچم لہرانے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
جب بات کرکٹ کی ہو تو دونوں ممالک میں جوش جذبہ اپنے عروج پر ہوتا ہے، لیکن انڈیا میں ان تازہ ترین گرفتاریوں نے بہت سے لوگوں کو صدمہ پہنچایا ہے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ آزادی اظہار کی جگہ تیزی سے سکڑتی جا رہی ہے۔
اضافی رپورٹنگ: کنال سہگل













