آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹوکیو اولمپکس میں چین کے لیے گولڈ میڈل جیتنے والی گونگ لیژاؤ سے شادی کے سوالات کی مذمت
- مصنف, ٹیسا وونگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
چین کے سرکاری میڈیا نے اپنے لیے اس وقت مشکل پیدا کر لی جب اولمپک میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ایک کھلاڑی سے پوچھا گیا کہ وہ شادی کب کریں گی اور بچے کب پیدا کریں گی۔
اس کے علاوہ ذاتی زندگی میں مردوں کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے جن کی سوشل میڈیا پر شدید مذمت ہو رہی ہے۔
خواتین کے شاٹ پٹ مقابلے میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی گونگ لیژاؤ کو 'مردانہ خاتون' کہہ کر بھی پکارا گیا۔
چینی کھلاڑی گونگ کے تازہ انٹرویو کی چین میں انٹرنیٹ صارفین شدید مذمت کر رہے ہیں اور اسے جنس کی بنیاد پر تفریق برتنے والا اور تنگ نظری سے متاثر رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی کھلاڑی ونگ کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سے یہ موضوع اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹرینڈ کر رہا ہے کہ 'کیا کسی خاتون کے بارے میں صرف شادی کے حوالے سے ہی بات کی جا سکتی ہے؟'
انٹرنیٹ پر اُن رویوں پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں جن کے تحت چین کی خواتین سے خوبصورت اور نازک نظر آنے کے ساتھ ساتھ دیگر توقعات بھی کی جاتی ہیں۔
انٹرویو کا آغاز ہونے سے پہلے ٹوکیو اولمپک سے متلعق ایک کلپ چلایا گیا جس میں چین کے سی سی ٹی وی میڈیا کی صحافی نے کیمرے پر کہا تھا 'گونگ کے اس غیر معمولی لمحے سے قبل میں اس گمان میں تھی کہ وہ شاید ایک مرد ہیں۔'
اس کلپ کے بعد انٹرویو شروع ہوا۔
گونگ: ہو سکتا ہے میرا حلیہ باہر سے مردانہ لگتا ہوگا، لیکن اندر سے میں ایک لڑکی ہی ہوں۔
سی سی ٹی وی صحافی: کیا آپ کا خواتین جیسی زندگی گزارنے کا کوئی ارادہ ہے؟
گونگ: (حیران ہو کر) خواتین جیسی زندگی؟
دوسری خاتون صحافی: کیوں کہ آپ شاٹ پٹ کھیلنے والی مردانہ خاتون ہیں، کیا آپ کو لگتا ہے اب آپ خود اپنی زندگی اپنی طرح جی سکیں گی؟
گونگ: ہو سکتا ہے۔ میں سوچوں گی۔ اگر میں ٹریننگ نہیں کروں گی تو وزن بھی کم ہوگا، شادی کروں گی، بچے پیدا کروں گی۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس کا انسان کو انتخاب کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے
سی سی ٹی وی صحافی نے اس کے بد کہا کہ گونگ ذاتی زندگی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے 'شرماتے ہوئے مسکرا رہی تھیں'۔
اس کے بعد گونگ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا کوئی بوائے فرینڈ ہے؟ انہیں کس قسم کے ساتھی کی تلاش ہے؟ اور کیا وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ بھی کشتی لڑیں گی؟
جس کا گونگ نے ہنستے ہوئے جواب دیا 'میں کشتی نہیں کرتی ہوں، میں بہت نرمی سے پیش آتی ہوں۔'
اس کے ساتھ ہی انٹرویو ختم ہو گیا۔
آپ کو یاد ہوگا اس سے ملتا جلتا واقعہ انڈین ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں دو ہزار سولہ میں پیش آیا تھا، جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ وہ 'سیٹل کب ہو رہی ہیں؟'
ثانیہ ان دنوں خواتین کی عالمی ڈبلز رینکنگ کے مطابق نمبر ایک کھلاڑی تھیں۔ اس سوال کے جواب میں ثانیہ مرزا نے حیران ہو کر کہا تھا 'شاید میں نے زندگی کے اس موڑ پر ماں بننے کے بجائے دنیا کی نمبر ایک کھلاڑی بننے کو ترجیح دے کر آپ کو مایوس کیا ہے۔'
انہوں نے مزید کہا تھا 'لیکن میں آپ کے سوال کا جواب دوں گی کیوں کہ یہ وہ سوال ہے جس کا سامنا مجھے عورت ہونے کے ناتے ہمیشہ ہوتا ہے، بلکہ ہر عورت کو کرنا پڑتا ہے کہ پہلے شادی اور پھر بچے۔ بدقسمتی سے تب ہی ہمیں سیٹلڈ سمجھا جاتا ہے۔ چاہے ہم کتنے بھی ویمبلڈن مقابلے کیوں نا جیت لیں یا نمبر ایک کھلاڑی کیوں نا بن جائیں، یہ چیزیں ہمیں آپ کی نظر میں سیٹلڈ نہیں بناتی ہیں۔ وہ بھی ہوگا، لیکن ابھی نہیں۔ اور جب کبھی بھی وہ گھڑی آتی ہے تو میں خود سب کو اس بارے میں بتاؤں گی۔'
چین میں سوشل میڈیا پر ردعمل
چین میں سوشل میڈیا صارفین نے گونگ سے پوچھے گئے سوالات کی شدید مذمت کی ہے۔
ریویو سائٹ دوبان پر ایک صارف نے لکھا 'اولمپک کا گولڈ میڈل جیت کر بھی دوسروں کے ذاتی معاملوں میں ٹانگ اڑانے والی ان عورتوں کے منہ بند نہیں کیے جا سکتے۔'
یہ بھی پڑھیے
جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ گونگ سے پوچھے جانے والے سوالات تفریق پر مبنی اور گونگ کی جسامت کا مزاق اڑانے والے تھے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر صحافی کے سوالات کا مزاق اڑانے والا کارٹون ٹرینڈ کر رہا ہے۔
اس کارٹون کے ایک حصے میں ایک خاتون جمناسٹ سے سوال کیا جا رہا ہے 'آپ گھر اور کام کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہیں۔' وہیں دوسرے حصے میں ایک خاتون باکسر سے پوچھا جاتا ہے 'کیا آپ کا بوائے فرینڈ آپ کو (میچ میں) ہرا سکتا ہے؟'
ویبو پر متعدد صارفین نے گونگ کے پیج پر حمایتی پیغامات لکھ کر ان کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔
ویبو پر ہی مقبول ہو رہے ایک پیغام میں ایک صارف نے لکھا ہے 'ایسا نہیں ہے کہ اس کی شادی نہیں ہو رہی ہے، بات یہ ہے کہ اس کے مقابلے کا کوئی مرد ہے ہی نہیں۔ جب ہم خواتین کی بات کرتے ہیں تو صرف ان کی خوبصورتی یا شادی کی بات نہیں، بلکہ ان کی کامیابیوں اور خوابوں کی بات بھی ہونی چاہیے۔'
اس پیغام کا جواب دیتے ہوئے گونگ نے لکھا ہے 'یہ پیغام میرے احساسات کی عکاسی کرتا ہے، بہت شکریہ!'
2018 میں شروع ہونے والی ’می ٹو‘ تحریک نے خواتین کے حقوق سے متعلق آگاہی کو فروغ دیا اور خواتین سے روایتی توقعات میں تبدیلی کی جانب بھی یہ ایک اہم قدم ثابت ہو رہی ہے۔
چین کے روایتی معاشرے میں خواتین سے خوبصورتی اور نزاکت کے روایتی معیاروں پر پورا اترنے کی توقعات عام ہیں۔ لیکن گزشتہ برسوں میں ان رویوں کے خلاف بھی کھل کر بات کی جانے لگی ہے۔