چیتن سکاریہ: بھائی کی خودکشی اور والد کی کورونا سے ہلاکت، غربت سے نکل کر انڈین ٹیم میں جگہ بنانے والے نوجوان کی کہانی

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM CHETAN SAKARIYA
- مصنف, جگر بھٹ
- عہدہ, بی بی سی گجراتی کے لیے
جب رواں برس فروری میں 23 سالہ چیتن سکاریہ کو پہلی بار انڈین پریمیئر لیگ میں منتخب کیا گیا تو وہ اور ان کے اہلخانہ اُن کے چھوٹے بھائی کی خود کشی کے صدمے سے باہر نکلنے کوشش کر رہے تھے۔
وہی چھوٹا بھائی جس نے اپنے بڑے بھائی (چیتن) کے کرکٹ کریئر کو سپورٹ کرنے کے لیے اپنی تعلیم کا سلسلہ ادھورا چھوڑ کر ملازمت کرنا شروع کر دی تھی تاکہ بڑا بھائی دل لگا کر کرکٹ کے میدان میں محنت کرے۔
مگر یہ جاننے سے صرف ایک ماہ قبل کہ چیتن کو انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم راجستھان رائلز نے ایک کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدا ہے، چھوٹے بھائی نے خودکشی کر لی۔
چیتن سکاریہ کی والدہ ورشا بیہن سکاریہ نے بی بی سی گجراتی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’چیتن نے سخت محنت کے بعد آئی پی ایل میں جگہ بنائی۔ ہم نے مالی بحران کے باوجود بھی اُس کی ہر طرح مدد کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔ اگر آج وہ (چیتن کا چھوٹا بھائی) زندہ ہوتا تو اس کے سلیکشن پر خوشی سے پورے گھر میں ناچتا۔ جب بھی کسی میچ میں چیتن اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کرتا تو دونوں بھائی مل کر خوب مستی کرتے تھے۔‘
اس صدمے کے باوجود چیتن نے انڈین پریمیئر لیگ میں اتنی عمدہ کارکردگی دکھائی کہ گجرات کے اس نوجوان کو اب انڈین ٹیم میں بھی جگہ مل گئی ہے۔ انڈین کرکٹ ٹیم جولائی میں سری لنکا کے خلاف تین ون ڈے اور تین ٹی 20 میچز کی سیریز کھیلے گی۔
مگر چیتن کے لیے صدمات کا سلسلہ رُکا نہیں اور جب وہ آئی پی ایل میں اپنی بہترین کارکردگی دکھا رہے تھے تو اسی دوران کووڈ سے اُن کے والد کی موت ہو گئی۔
روز نامہ انڈین ایکسپریس کو ایک انٹرویو میں چیتن سکاریہ نے کہا ’میں نے پہلے چھوٹے بھائی کو کھویا اور اس کے ایک ماہ بعد مجھے آئی پی ایل کا کانٹریکٹ ملا، گذشتہ ماہ میرے والد کی موت ہو گئی، اور اب ٹیم انڈیا میں میرا سلیکشن ہو گیا۔ کاش آج میرے والد زندہ ہوتے جو مجھے ٹیم انڈیا میں کھیلتے دیکھنا چاہتے تھے، مجھے ان کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔‘
چیتن گجرات میں بھاؤ نگر ضلع کے ورتیج گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے اس گھر میں آنکھ کھولی جہاں شدید غربت کے سائے تھے مگر مسلسل محنت سے انھوں نے وہ مقام حاصل کیا جس کو پا لینے کی تمنا شاید کرکٹ کے میدان میں اُترنے والے ہر نوجوان کی ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مالی تنگی سے نکل کر اپنا مقام بنایا

،تصویر کا ذریعہCHETAN SAKRIA
جب چیتن نویں جماعت میں تھے تو انھوں نے ودیا ویہار سیکنڈری سکول سے کرکٹ کھیلنی شروع کی۔ یہ سکول اُن کے گاؤںسے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ ان کے سکول کے ٹیچر کملیش بتاتے ہیں کہ ’ہم کئی برسوں سے کلاسز ختم ہونے کے بعد کرکٹ کھیلنے والے طلبا کی ٹریننگ کر رہے ہیں جس کی شروعات ٹینس بال سے ہوتی ہے۔ بہت سے ٹورنامنٹ بھی ہوتے ہیں۔ ان ٹورنامنٹس میں بہتر کھیلنے والے طلبا کی کوچنگ ہوتی ہے، چیتن نے ان میچوں میں بیٹنگ کرتے ہوئے کافی رنز بنائے۔‘
چیتن جو کبھی اوپننگ بلے باز تھے ایک سوئنگ فاسٹ بالر کیسے بن گئے اس بارے میں سر کملیش نے کہا ’ہم نے دیکھا کہ وہ گیندوں کو بہترین انداز میں سوئنگ کرتے تھے، لہذا ہم نے انھیں بولنگ کی تربیت دینا شروع کر دی۔ بولِنگ میں ان کی پرفارمنس بہت اچھی تھی۔‘
2012 اور 2015 کے درمیان چیتن بولنگ اور بیٹنگ دونوں کے ساتھ اپنے سکول کو کئی ٹورنامنٹ کے فائنل میں لے جا چکے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب اس کے گھر والوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
چیتن کی والدہ کا کہنا تھا ’چیتن کے پاپا ایک ٹیمپو (رکشے سے ملتی جلتی سواری) چلایا کرتے تھے۔ معاشی مجبوریوں کی وجہ سے مجھے اینٹوں کے ایک بھٹے پر کام کے لیے جانا پڑتا تھا۔ چیتن کے والد ایک حادثے کے بعد معذور ہوگئے تھے لیکن پھر بھی وہ ٹیمپو چلاتے رہے۔‘
مالی بحران کے وقت چیتن کے ماموں نے اس خاندان کی مدد کی۔ بچپن سے ہی چتن بھاؤ نگر میں اپنے ماموں کے گھر میں پلے بڑھے ہیں۔ چیتن کے ماموں بھاؤ نگر میں سٹیشنری کی دکان چلاتے ہیں۔ چیتن پڑھائی میں بہت اچھے تھے، اس لیے ماموں انھیں سرکاری افسر بنانا چاہتے تھے۔
چیتن کے ماموں منسُخ بھائی جمبوچہ نے کہا ’چیتن کرکٹ کھیلنا چاہتا تھا۔ اس کے کنبہ کی مالی حالت ٹھیک نہیں تھی لہذا میں چاہتا تھا کہ وہ کسی طرح سرکاری نوکری میں چلا جائے۔ ایک دن چیتن کے سکول ٹیچر نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ وہ اچھا کرکٹر ہے۔ اسے کھیلنے دو۔‘
کرکٹ کھیلنے پر گھر میں پٹائی

،تصویر کا ذریعہJIGNASHA SAKARIYA
چیتن کے گھر والے چاہتے تھے کہ وہ جلدی سے پڑھ لکھ کر سرکاری ملازمت حاصل کر لیں۔ تب گھر والوں کا خیال تھا کہ انھیں کرکٹ کی خاطر اپنا کیریئر داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔
چیتن کی بہن جگیاسا کہتی ہیں کہ ’چیتن کو کرکٹ کھیلنا اتنا پسند تھا کہ وہ سکول سے جھوٹ بول کر کلاس بنک کر کے کھیلتا تھا۔ جب گھر والوں کو اس کا علم ہوا تو اس کی خوب پٹائی ہوئی۔‘
چیتن نے دسویں جماعت میں 87 فیصد نمبر حاصل کیے تھے جس کے بعد انھوں نے 11 ویں اور بارہویں جماعت میں سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
منسخ بھائی جمبوچہ کہتے ہیں ’اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ کرکٹ میں آپ کا سلیکشن ہوگا یا نہیں۔ اگر آپ کو اچھی نوکری چاہیے تو اچھی تعلیم حاصل کرنی ہوگی۔ حالانکہ چیتن نہیں چاہتا تھا لیکن ہم نے انھیں سائنس پڑھنے پر زور دیا، ساتھ ہی وہ کھیلتا بھی رہا۔ بارھویں میں چیتن کو 55 فیصد نمبر ملے۔ اس کے بعد اس نے کامرس کی تعلیم شروع کر دی۔‘
چھوٹے بھائی کی قربانی

،تصویر کا ذریعہKALUBHAI JAMBUSARA
چیتن نے بھاؤ نگر میں کرکٹ کی ایڈوانس کوچنگ شروع کی۔ اس نے بھاؤ نگر کے بھروچا کلب سے کھیلنا شروع کیا۔ اچھی کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے انھیں جلد ہی سوراشٹر کی انڈر 16 اور انڈر 19 ٹیم میں منتخب کیا گیا تھا، لیکن وہ کرکٹ اور تعلیم میں توازن نہیں رکھ پا رہے تھے۔
بھاؤ نگر میں انھوں نے دوپہر میں اپنے ماموں کی سٹیشنری کی دکان میں کام کرنا شروع کیا جبکہ صبح اور شام وہ کرکٹ پریکٹس کے لیے بھروچا کلب جاتے تھے۔
مالی پریشانیوں کی وجہ سے چیتن کے چھوٹے بھائی نے اپنی تعلیم چھوڑ دی اور انھوں نے بھی اپنے ماموں کی دکان پر کام کرنا شروع کر دیا۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ چیتن ایک اچھے کرکٹر ہیں چھوٹے بھائی نے ان کی مدد کی۔
یہ بھی پڑھیے
یہ وہ وقت تھا جب بیماری اور عمر کی وجہ سے چیتن کے والد کے لیے ٹیمپو چلانا بہت مشکل ہوگیا تھا۔
چیتن کو انڈر 16 ٹیم میں موقع ملا لیکن وہ ایک بھی میچ نہیں کھیل سکے۔ لیکن چیتن سخت محنت کر رہے تھے اور جلد ہی انھیں سوراشٹرہ کی انڈر 19 ٹیم کے لیے کھیلنے کا موقع ملا۔
چیتن نے کوچ بہار ٹرافی میں سوراشٹر انڈر 19 ٹیم کے چھ میچوں میں 18 وکٹیں حاصل کیں۔ جب انھوں نے کرناٹک کے خلاف پانچ وکٹیں لیں تو لوگوں نے انھیں نوٹس کرنا شروع کیا۔
سپائک والے تیز جوتے نہیں تھے

،تصویر کا ذریعہJIGNASHA SAKARIYA
سوراشٹرا کرکٹ ایسوسی ایشن نے تیز بولنگ کے گُر سیکھنے کے لیے چیتن کو ایم آر ایف پیس فاؤنڈیشن اکیڈمی بھیج دیا۔ اکیڈمی میں وہ فاسٹ بالر گلن میک گرا سے ملے۔ ٹریننگ کے بعد چیتن 130 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار میں سے گیند پھینکنے لگے تھے۔
جب چیٹن ٹریننگ کے لیے ایم آر ایف پیس فاؤنڈیشن پہنچے تو ان کے پاس سپائک والے جوتے بھی نہیں تھے۔ کوچ بہار ٹرافی کے دوران انھوں نے ساتھی کرکٹرز کے جوتے پہن کر اس میں حصہ لیا۔ جب چیتن ایم آر ایف پیس فاؤنڈیشن اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہے تھے تو ایک اور ابھرتے ہوئے نوجوان کرکٹر شیلڈن جیکسن نے ان کو جوتا تحفے میں دیا۔
چیتن نے ایک انٹرویو میں ای ایس پی این کرک انفو کو بتایا ’اس وقت شیلڈن جیکسن آئی پی ایل میں کھیل رہے تھے۔ وہ ایک بڑے کھلاڑی تھے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ اگر میں ان کی وکٹ لیتا ہوں تو وہ مجھے سپائیک والے جوتے تحفے میں دیں گے، میں نے ان کی وکٹ لے کر تحفے میں جوتے حاصل کر لیے۔‘
2018-19 کے دوران چیتن کو کوئی خاص موقع نہیں ملا لیکن انھوں نے رنجی ٹرافی میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چیتن سکاریہ کو یہ موقع سوراشٹرا کے فاسٹ بالر جے دیو انادکٹ کی انجری کی وجہ سے ملا۔
انھوں نے اپنا پہلا رنجی میچ گجرات کے خلاف کھیلا اور اس میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ انھوں نے آٹھ میچوں میں مجموعی طور پر 30 وکٹیں حاصل کیں۔
چیتن ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایم آر ایف پیس فاؤنڈیشن اکیڈمی گئے۔ چوٹ کی وجہ سے وہ وجے ہزارے ٹرافی میں حصہ نہیں لے سکے۔ رنجی ٹرافی کے آخری سیزن میں بھی وہ زیادہ کامیاب نہیں تھے انھیں صرف 11 وکٹیں ملیں۔ لیکن سوراشٹرا پریمیر لیگ میں وہ مین آف دی سیریز منتخب ہوئے۔
کووڈ لاک ڈاؤن میں پریکٹس
منسخ بھائی جمبوچہ نے کہا ’چیتن لاک ڈاؤن کے دوران بھی مشق کرنا چاہتا تھا۔ اس نے مجھ سے بات کی پھر ہم نے اپنے کھیت پر پچ بنوا دی اور ایک جم بھی بنوایا۔ چیتن نے اس میں پریکٹس کی اور اسی پریکٹس کا نتیجہ تھا کہ اسے آئی پی ایل میں موقع مل گیا۔‘
چیتن کو راجستھان رائلز نے رواں سیزن میں 1.20 کروڑ کی بولی پر خریدا تھا۔ چیتن کو خریدنے کے لیے رائل چیلنجرز بنگلور اور راجستھان رائلز کے درمیان مقابلہ تھا کیونکہ انھوں نے گذشتہ سال بطور نیٹ بولر رائل چیلنجرس بنگلور (آر سی بی) میں حصہ لیا تھا اور بنگلورو ٹیم کے ساتھ دبئی بھی گئے تھے۔
چیتن نے ایک انٹرویو میں روز نامہ دی انڈین ایکسپریس کو بتایا ’مجھے اس بار آئی پی ایل میں منتخب ہونے کا یقین تھا، میں بطور نیٹ بولر دبئی گیا تھا۔ مائیک ہیسن اور سائمن کتیچ نے کہا تھا کہ میں آئی پی ایل ٹیم میں منتخب ہونے کی پوری اہلیت رکھتا ہوں۔‘
بہن نے بھائی کا میچ نہیں دیکھا تھا
چیتن سکریا کی چھوٹی بہن جگیاسا نے آئی پی ایل کے میچوں سے پہلے ان کا کوئی میچ نہیں دیکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’میں نے اب تک اپنے بھائی کا ایک بھی میچ نہیں دیکھا۔ جب وہ راجکوٹ میں کھیل رہا تھا تو اس نے مجھے ٹکٹ دیا تھا لیکن تب میرا امتحان تھا اور میں میچ دیکھنے نہیں جا سکی۔ لیکن اب میں اسے ضرور دیکھوں گی۔ جب سے میں نے سنا ہے کہ وہ ٹیم انڈیا کے لیے کھیلے گا تب سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میں خواب دیکھ رہی ہوں۔‘
چیتن کے ماموں منسخ بھائی نے کہا ’مجھے چیتن کی وکٹ لینا اچھا لگتا ہے، میں ان کی ویڈیو بار بار دیکھتا ہوں۔‘
چیتن کے ودیا وہار سکول کے ایک استاد نے کہا ’چیتن بھاؤنگر کا ہیرو ہے اس کی بات پورے شہر میں کی جا رہی ہے۔ ہمارے سکول کا ہر لڑکا چیتن سکاریہ بننا چاہتا ہے۔‘













