نرمل پرجا جنھوں نے موسم سرما میں پہلی بار کے ٹو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے

نرمل پرجا

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, رجنیش کمار
    • عہدہ, کھٹمنڈو، بی بی سی

کٹھمنڈو میں لوگ جلدی سوتے ہیں اور جلدی جاگتے ہیں۔ یہاں تک کہ سخت سردی میں یہاں کے لوگ عام طور پر چھ بجے اٹھتے ہیں۔ اگر آپ کسی کو فون کرنا چاہتے ہیں تو آپ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے صبح چھ بجے فون کر سکتے ہیں۔

نرمل پرجا نے مجھے شدید سردی میں صبح سات بجے ملاقات کے لیے بلایا تو مجھے پوری طرح یقین ہو گیا کہ یہاں ہر کوئی جلدی اٹھتا ہے۔

17 جنوری کو نرمل پرجا کی سربراہی میں دس نیپالی کوہ پیماؤں نے پہلی بار موسم سرما میں 28،251 فٹ اونچے K2 سر کیا۔ K2 قراقرم کے پہاڑی سلسلے کا دوسرا بلند پہاڑ ہے لیکن یہ سب سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

سردیوں کے موسم میں نرمل پرجا کی ٹیم سے پہلے کسی نے بھی اس پہاڑی کو سر نہیں کیا تھا۔ نرمل پرجا اس ٹیم میں واحد تھے جو نیپال کی مقبول شرپا برادری سے نہیں تھے۔

کٹھمنڈو میں جما دینے والی سردی ہے۔ 29 جنوری کو کٹھمنڈو کا درجہ حرارت صبح کے وقت پانچ ڈگری تھا لیکن نرمل ٹی شرٹ میں آئے اور انھیں ٹی شرٹ میں دیکھ کر مجھے سردی لگنے لگی۔

یہ بھی پڑھیے

ایسا لگ رہا تھا کہ فون کی وجہ سے وہ جلدی میں آئے تھے۔ جب ان سے سردی کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا ’مائنس 62 ڈگری تو نہیں ہوا، کیا سردی ہے؟‘

نرمل پرجا کا قد بمشکل پانچ فٹ ہے لیکن انھوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

ان کے نام کئی ریکارڈ ہیں۔ یہاں تک کہ موسم بہار اور گرمیوں کے موسم میں بھی K2 پر چڑھنا آسان نہیں لیکن نرمل کی ٹیم نے سردیوں میں ایسا کیا۔

K2 پر چڑھنے کی کوشش کرنے والے ہر چھ میں سے ایک فرد کی موت ہو جاتی ہے جبکہ ماؤنٹ ایوریسٹ میں ہر 34 میں سے مرنے والوں کی اوسطاً تعداد ایک ہے۔

اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ K2 پر چڑھنا کتنا خطرناک ہے۔ جس دن نرمل کی ٹیم نے کے ٹو سر کیا، اسی دن ہسپانوی کوہ پیما سرجی مینگوت کی K2 پر جاتے ہوئے موت ہوگئی تھی۔ مینگوت اس سے قبل بغیر کسی آکسیجن کے دنیا کے 10 بلند ترین پہاڑوں کو سر کر چکے تھے۔

وسطی ایشیا میں ایسے 14 پہاڑ ہیں، جن کی اونچائی 8،000 میٹر سے زیادہ ہے۔

نرمل پرجا

،تصویر کا ذریعہAFP

نرمل ڈھولگیری کے قریب پیدا ہوئے۔ یہ دنیا کا ساتواں بلند پہاڑ ہے لیکن نرمل نیپال میں چتیوان ضلع کے میدانی علاقوں میں پلے بڑھے۔ نرمل 18 سال کی عمر میں برٹش آرمی بریگیڈ کے گورکھا ریجمینٹ میں شامل ہوئے۔

سنہ 2018 میں نرمل نے اپنی فوج کی نوکری چھوڑ دی اور اگلے سال بہت سے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ چھ ماہ اور چھ دن میں نرمل نے 8000 میٹر اونچائی کے تمام پہاڑوں کو سر کیا۔ سابقہ ​​ریکارڈ آٹھ سال پرانا تھا جو جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے کم چانگ ہو کے نام تھا۔

اس کے بعد ہی نرمل نے ایک ٹیم تیار کی اور K2 کی تیاری شروع کر دی۔ جب پوری دنیا کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہی تھی، نرمل اور ان کی ٹیم آسمان کو اپنا ہدف بنا رہی تھی۔

2021 کے آغاز میں نیپالیوں کی اس ٹیم نے تاریخ رقم کر دی۔ نرمل کے والد انڈین فوج کی گورکھا رجمنٹ میں تھے۔ نرمل کا کہنا ہے کہ ان کے والد 22 سال انڈین گورکھا رجمنٹ میں رہے لیکن نرمل چھ سال کی عمر میں پہلی بار انڈیا آئے۔

’وزیراعظم مودی نے مبارکباد نہیں دی، راہل گاندھی نے دی‘

نرمل بہت خوش ہوئے کہ کانگریس قائد راہل گاندھی نے انھیں مبارکباد پیش کی۔ جب نرمل سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے ان کا خیرمقدم کیا، اس پر انھوں نے اپنی ٹیم کے ساتھی مینگما جی سے پوچھا کہ کیا وزیراعظم مودی نے انھیں مبارکباد دی ہے؟

منگما جی نے جواب میں کہا ’نہیں۔‘ نرمل نے کہا کہ اگر مودی صاحب نے مبارکباد نہیں دی تو یہ ان کے دل کی بات ہے۔

منگما جی کہتے ہیں کہ ان کی نیپال حکومت ہی کافی ہے اور انھیں کسی اور سے زیادہ امید نہیں۔

انڈیا کے بارے میں نرمل کی رائے کیا ہے؟ نرمل کہتے ہیں ’سب میرے بھائی ہیں تاہم انڈیا کچھ پریشانی کرتا ہے۔ لیکن یہ اہم نہیں کیونکہ جب بھی انڈیا کے لوگ نیپال آتے ہیں تو ہم انھیں اپنے بھائیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔‘

کے ٹو پاکستان میں ہے اور نرمل اور ان کی ٹیم نے پاکستان سے ہی اس پہاڑ پر چڑھنا شروع کیا۔ اس سے قبل نرمل کی ٹیم میں صرف تین افراد تھے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

منگما جی کی چھ افراد پر مشتمل ٹیم مختلف تھی۔ سات ہزار میٹر پر چڑھنے کے بعد منگما جی اور نرمل کی ٹیم آپس میں مل گئی۔ اس دوران اس میں ایک اور نیپالی بھی شامل ہو گیا۔

منگما جی اور نرمل دونوں نے پاکستان کی بہت تعریف کی۔ جب یہ افراد K2 سر کرنے کے بعد واپس آئے تو ان کا پاکستان میں بطور ہیرو خیرمقدم کیا گیا۔ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور صدر عارف علوی نے مل کر انھیں مبارکباد دی۔

نرمل کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے آرمی چیف بہت سادہ ہیں۔ انھوں نے ٹیم کو بہت وقت دیا اور ہمارے ساتھ بھائیوں کی طرح برتاؤ کیا اور کے ٹو کے تجربے کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے ہم سے پاکستان کے بارے میں بھی پوچھا۔ ہمیں پاکستان میں بہت اچھا لگا۔ اس مشن میں پاکستان نے ہماری جو مدد کی اس کے لیے ہم شکر گزار ہیں‘۔

منگما جی کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں انڈیا اور پاکستان بھائیوں کی طرح ہیں۔ دونوں کو ساتھ رہنا چاہیے۔ دونوں ملکوں کی حکومتیں لڑتی ہیں اور کوئی تیسرا اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔‘

شرپا کی جدوجہد

سنہ 1953 میں تینزنگ نورگے اور ایڈمنڈ ہلیری نے پہلی بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا تھا۔ تب سے شرپا غیر ملکیوں کو کوہ پیمائی میں وسیع تربیت دے رہے ہیں۔

لیکن اس کے بعد بھی شرپا کو جو شہرت ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی۔ ایوریسٹ پر چڑھنے کے بعد ایڈمنڈ ہلیری کو ملکہ الزبتھ نے اعزاز سے نوازا تھا لیکن تینزنگ کو کوئی ایوراڈ نہیں دیا گیا جبکہ ایڈمنڈ کے لیے بغیر تنزنگ کے ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنا آسان نہیں تھا۔

کیا شرپا ابھی بھی اس طرح کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ مینگما جی کے مطابق اب صورتحال بدل رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’اب صورتحال پہلے کی طرح نہیں۔ اب ہمیں بھی وہ شناخت اور شہرت مل رہی ہے۔ اب دنیا پہلے جیسی نہیں۔ ہمیں بھی اب ماضی کی طرف نہیں بلکہ مستقبل کی طرف دیکھنا ہے۔‘

نرمل کہتے ہیں کہ شرپا نیپال کی پہاڑ پر چڑھنے والی برادری ہے اور انھوں نے پوری دنیا کو کوہ پیمائی کی تربیت دی ہے۔ نرمل بھی اس بات سے متفق ہیں کہ اب صورتحال ایک جیسی نہیں۔

نرمل کی ٹیم نے کے ٹو مشن صرف 21 دن میں مکمل کیا۔ نرمل میں 37 برس کی عمر میں یہ ہمت کہاں سے آئی؟

نرمل کہتے ہیں ’اس کا تعلق براہ راست پرورش سے ہے۔ میرے والد انڈین گورکھا میں تھے۔ دو بھائی برطانوی گورکھا میں تھے۔ میں سنہ 2002 میں نیپال آیا اور ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھ گیا۔ تب سے میں ہمالیہ کی محبت میں گرفتار ہو گیا اور اس کے بعد سے پہاڑوں پر چڑھنے کا عمل نہیں رکا۔‘

منگما جی کہتے ہیں ’جب ہم نیپال سے چلے تو دو ٹیمیں تھیں۔ نرمل کی ایک الگ ٹیم تھی۔ ہم سات ہزار میٹر چڑھنے کے بعد ملے۔ ہم بیس کیمپ میں نہیں ملے۔ ہم نے آپس میں بات کی اور نرمل پرجا کو اپنا قائد بنایا۔ جس مختصر وقت میں نرمل پرجا نے نیپالیوں کو فخر دیا، ان کے علاوہ کوئی دوسرا ہمارا قائد نہیں بن سکا۔‘

منگما جی کہتے ہیں کہ انھوں نے ساتھ آکسیجن لیا تھا لیکن نرمل آکسیجن کے بغیر تھے۔

K2 خطرناک کیوں؟

ماؤنٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹی ہے اور کے ٹو دوسرے نمبر پر ہے لیکن K2 کو زیادہ خطرناک کیوں سمجھا جاتا ہے؟

نرمل کہتے ہیں ’کے ٹو کا موسم بہت غیر یقینی ہے۔ صرف پیشہ ور کوہ پیما ہی کے ٹو پر جاتے ہیں۔ اگر شیرپاؤں کو شامل نہیں کرنا اور اکیلے ایورسٹ پر چڑھنا ہے تو یہ سب سے مشکل ہے۔ ایورسٹ کو نیپالیوں نے آسان بنا دیا ہے کیونکہ ہم یہاں کام کرتے ہیں۔ کے ٹو پاکستان میں ہے۔ دونوں مختلف پہاڑ ہیں۔ ایورسٹ 9000 میٹر بلندی پر ہے۔‘

منگما جی کہتے ہیں کہ K2 پر ایک موسم میں بمشکل 50 افراد چڑھ سکتے ہیں جبکہ ماؤنٹ ایورسٹ پر 2000 افراد چڑھ سکتے ہیں۔ منگما جی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ K2 کتنا مشکل ہے۔

نرمل نے ماؤنٹ ایورسٹ بھی سر کر لیا اور K2 بھی سر کر لیا، اب وہ اور کتنی بلندی پر جائیں گے؟ نرمل کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کو سرپرائز دیتے رہیں گے۔

نرمل ماؤنٹ ایورسٹ پر بڑھتے ہوئے رش کی وجہ سے پریشان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ ایک مربع نہیں بلکہ یہ بہت بڑا ہے، ہر سال 2000 کوہ پیما آتے ہیں جو کہ بڑی تعداد نہیں۔