انڈیا کی بیٹنگ ڈھیر، آسٹریلیا کی جیت، ’کاش میں پہلے جاگ گیا ہوتا‘

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا اور انڈیا کے مابین پہلے ٹیسٹ کے تیسرے دن انڈیا کی پوری ٹیم اپنی دوسری اننگز میں صرف 36 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور جواب میں آسٹریلیا نے دو وکٹوں کے نقصان پر 90 رنز کا ہدف پورا کر لیا اور سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی۔

انڈیا کی اس بیٹنگ کارکردگی اور ان کی شکست کا پاکستانی ٹوئٹر پر خوب چرچا رہا۔

واضح رہے کہ انڈیا کو آج کھیل شروع ہونے پر آسٹریلیا کے خلاف 62 رنز کی سبقت حاصل تھی اور ان کے نو کھلاڑی باقی تھی اور توقع تھی کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

لیکن صبح کو کھیل کا آغاز ہوتے ہی پیٹ کمنز نے نائٹ واچ مین جسپریت بمراہ کو 15 کے مجموعی سکور پر آؤٹ کر دیا۔

گعتتی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کے بعد انڈیا کے انتہائی قابل بھروسہ بلے باز چتیشور پجارا آئے لیکن یہی وہ موقع تھا جب آسٹریلوی گیند بازوں نے کھیل کا پانسہ پلٹ دیا۔

اسی سکور پر نہ صرف بمراہ، بلکہ پجارا، اگروال اور رہانے کو بھی پویلین چلتا کر دیا گیا۔ 19 رنز پر کپتان کوہلی بھی آؤٹ ہو گئے اور 31 رنز پر نو کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔

گعت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

36 رنز کے سکور پر محمد شامی کو کمنز کی گیند کلائی پر لگی جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو گئے اور اپنی اننگز جاری نہ رکھ سکے، نتیجتاً انڈیا کی ٹیم تاریخ میں اپنے کم ترین سکور پر آل آؤٹ قرار دے دی گئی۔

آسٹریلیا کی جانب سے صرف آٹھ رنز کے عوض 25 گیندوں پر پانچ کھلاڑی آؤٹ کر کے ہیزلووڈ بہترین بولر رہے اور اس اننگز میں انھوں نے اپنی 200 وکٹیں بھی حاصل کر لیں۔ پیٹ کمنز نے بھی شاندار بولنگ کی اور چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تعاقب میں میتھیو ویڈ اور جو برنس نے قدرے تیز کھیل کا مظاہرہ کیا اور محمد شامی کی غیر موجودگی میں انڈیا کی کمزور بولنگ کا پورا فائدہ اٹھایا۔

جو برنس نے نصف سنچری مکمل کر لی اور چھکا لگا کر میچ کا اختتام کیا۔

انڈین بیٹنگ سوشل میڈیا پر زیر موضوع رہی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی آسٹریلیا میں اپنی کارکردگی تو انتہائی ناقص رہی ہے اور 1995 کے بعد سے پاکستان نے آج تک وہاں ایک بھی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا لیکن انڈیا کی اس بیٹنگ پرفارمنس پر پاکستانی شائقین نے سوشل میڈیا پر بہت مزے لیے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

سوشل میڈیا پر کرکٹ کمنٹری کرنے والے اکاؤنٹ 'چینج آف پیس' نے ٹویٹ میں لکھا: 'سب کو صبح بخیر۔ ایسی کیا خاص بات ہے آج ہفتے کی صبح جو ہر چیز انتہائی خوبصورت لگ رہی ہے۔ ہوا بھی صاف ہے، سورج بھی گرما رہا ہے، گھاس بھی زیادہ سبز لگ رہی ہے۔' اور اس تبصرے کے ساتھ انھوں نے پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق کی مسکراتی ہوئی تصویر بھی لگائی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

ایک صارف ہاکس بے لکھتے ہیں کہ کیا انڈین کھلاڑیوں کو بیٹ بھی پکڑنا آتا ہے؟ صارف شعیب نوید نے بھی اسی طرح تبصرہ کیا کہ کھیل کا یہ سیشن کتنا مسرت بخش تھا۔

میچ میں کھانے کا وقفہ لینے پر صارف اسد ناصر لکھتے ہیں کہ آسٹریلیا کو ضرورت نہیں تھی، انھوں نے تو پہلے ہی لنچ کر لیا ہے۔

سری لنکن کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے صارف اور صحافی ڈینئیل الیگزانڈر نے تبصرہ کیا کہ فورتھ امپائر نے پانی کے وقفے کے دوران پچ پر انڈین بلے بازوں سے زیادہ وقت گزارا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

کچھ پاکستانی صارفین کو ملال تھا کہ وہ سوتے رہ گئے اور انڈیا کی بیٹنگ نہ دیکھ سکے۔

دا نیوز اخبار کے سینئیر ایڈیٹر طلعت اسلم نے ٹویٹ میں کہا کہ 'یا کیا ہو رہا ہے؟ کاش میں پہلے جاگ گیا ہوتا۔'

ایک صارف نے انڈیا کے اپنے میدان میں عمدہ کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے ٹویٹ کی کہ آئی سی سی کو چاہیے کہ انڈیا کو اپنی ہوم پچز بیرون ملک دوروں میں لے جانے کی اجازت دے دے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

آسٹریلوی تجزیہ نگار نے میچ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا پہلی اننگز میں بہت مضبوط پوزیشن میں تھا لیکن وراٹ کوہلی کا رن آؤٹ میچ کا اہم ترین لمحہ تھا جس کے بعد انڈیا نے اپنی دونوں اننگز میں 17 وکٹیں صرف 88 رنز کے عوض گنوا دیں۔

جبکہ پاکستانی صارف دانیال نے آسٹریلوی بولرز کی کارکردگی کو سراہا اور بالخصوص ہیزلووڈ کے بارے میں کہا کہ وہ 'خوفناک' بولر ہیں۔