پاکستان کا دورہ نیوزی لینڈ 2020: پاکستان کرکٹ ٹیم کے قرنطینہ میں شب و روز کیسے گزرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپنر شان مسعود نے پہلی مرتبہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے نیوزی لینڈ میں گزرے گذشتہ 14 دن کی روداد سنائی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’اپنے ساتھ 14 روز گزارا نہیں ہوتا لیکن مشکل وقت گزر گیا۔‘
پاکستانی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ کے دورے میں اپنا 14 روزہ قرنطینہ مکمل کر کے واپس میدان کا رخ کر چکی ہے جہاں اس کی ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کی پریکٹس زور و شور سے جاری ہے۔
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل 18 دسمبر کو آکلینڈ میں کھیلا جائے گا۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین شان مسعود کہتے ہیں کہ قرنطینہ میں دو ہفتے گزارنے کے بعد اس بات کی خوشی ہے کہ جس کام کے لیے نیوزی لینڈ آئے ہیں اس جانب واپسی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشکل وقت گزرگیا
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شان مسعود کا کہنا ہے کہ ’وہ وقت مشکل ضرور تھا کیونکہ چودہ دن اپنے ساتھ وقت گزارنا آسان نہیں ہوتا لیکن سب سے مل کر یہ چیلنج قبول کیا تھا کیونکہ کرکٹ آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔
’اس دوران کسی سے براہ راست رابطہ ممکن نہ تھا صرف گروپ کی شکل میں ایک گھنٹہ چہل قدمی کے لیے ملتا تھا لہٰذا تمام کھلاڑی ویڈیو کال پر ایک دوسرے سے رابطہ کر کے بات کر لیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے رہے۔‘
شان مسعود کہتے ہیں ʹجب پورا سکواڈ قرنطینہ سے باہر آیا تو ہر ایک کی خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی جس کا اندازہ لوگوں کو بھی ہماری تصویریں دیکھنے کے بعد ہو گیا ہو گا۔‘
بائیو سکیور ببل نہ ہونے کی خوشی
پاکستانی کرکٹ ٹیم جب اس سال انگلینڈ کے دورے پر گئی تھی تو اسے پورا دورہ ایک خاص ماحول میں گزارنا پڑا تھا جسے بائیو سکیور ببل کا نام دیا جاتا ہے لیکن نیوزی لینڈ میں ایسا نہیں ہے جس کی شان مسعود کو بہت زیادہ خوشی ہے۔
شان مسعود کہتے ہیںʹ نیوزی لینڈ میں اچھی بات یہ ہے کہ یہاں انگلینڈ کی طرح بائیو سکیور ببل نہیں ہے اور ہم نارمل انسان کی طرح یہاں آزادی کے ساتھ گھوم پھر سکتے ہیںʹ۔
شان مسعود کہتے ہیں ’اگر مجھ سے پوچھیں کہ بائیو سکیور ببل یا چودہ روز کے قرنطینہ کے بعد نارمل وقت گزارنے میں سے میں کسے ترجیح دوں گا تو میرا انتخاب نیوزی لینڈ جیسا نارمل ماحول ہوگا کیونکہ کرکٹ سے باہر بھی زندگی ہے اور آپ چوبیس گھنٹے گراؤنڈ میں نہیں گزار سکتے۔ ہمارے لیے یہ انعام ہے کہ ایک طرف ہم کرکٹ کھیلیں گے اور دوسری جانب نارمل زندگی بھی گزار سکیں گےʹ۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کارکردگی پر کتنا فرق پڑسکتا ہے؟
شان مسعود یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ دو ہفتے کرکٹ سے دور رہنے کی وجہ سے کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں ʹجو چیزیں آپ سال بھر کرتے ہیں وہ چودہ دن میں نہیں چلی جاتی ہیں۔ آپ کا فٹنس لیول اور مہارت جن پر آپ نے پورے سال کام کیا ہوتا ہے اس کو زیادہ فرق نہیں پڑتا، تھوڑی بہت سُستی آجاتی ہے۔
’ٹیسٹ ٹیم کو ٹیسٹ سیریز کی تیاری کے لیے پریکٹس کا زیادہ وقت ملے گا جبکہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم نے بھی اپنی پریکٹس شروع کر دی ہے۔ کھلاڑی پورا سیزن مسلسل کھیلتے ہوئے آئے ہیں لہذا کچھ کھلاڑیوں کو ان دو ہفتوں میں آرام بھی مل گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خوشدل شاہ کے والد کا انتقال
پاکستانی کرکٹ ٹیم جب نیوزی لینڈ پہنچی تھی تو اس کے ایک کھلاڑی خوشدل شاہ کے والد کے انتقال کی خبر آئی تھی لیکن وہ قرنطینہ میں ہونے کی وجہ سے وطن واپس نہیں آسکے تھے۔
شان مسعود کہتے ہیں ʹواقعی وہ ایک مشکل وقت تھا۔ آپ اس شخص کی کیفیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے جس کو یہ صورتحال درپیش ہوتی ہے۔
’ہم صرف یہی سوچ رہے تھے کہ خوشدل شاہ پر کیا گزر رہی ہوگی۔ یہی صورتحال آسٹریلیا کے دورے میں نسیم شاہ کے ساتھ رہی تھی جن کی والدہ کا انتقال ہوا تھا اور وہ بھی صدمے میں تھے۔‘
ٹیم سے توقعات
شان مسعود کہتے ہیں کہ ’پاکستانی ٹیم کی عالمی رینکنگ اس وقت ساتویں ہے لیکن اس رینکنگ سے ٹیم کی صلاحیتوں کی عکاسی نہیں ہوتی کیونکہ ٹیم نے چند اچھی جھلکیاں دکھائی ہیں۔
’انگلینڈ کے دورے میں مانچسٹر ٹیسٹ بہت اہم تھا جو ہم نہ جیت سکے اور اسی نے پوری سیریز کا فیصلہ کر دیا لیکن انگلینڈ کی تجربہ کار بولنگ لائن کو کھیل کر ہم میں اعتماد ضرور آیا جو اس دورے میں کام آ سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ کا پیس اٹیک ورلڈ کلاس ہے۔ اس چیلنج کو قبول کرنا ہو گا، انٹرنیشنل کرکٹ اسی کا نام ہے۔‘













