سمیع چوہدری کا کالم:’اب کپتان چامو چبھابھا پھیکے نہ پڑیں تو اور کیا کریں‘

،تصویر کا ذریعہEPA
قائدانہ صلاحیتیں عموماً فطرت کی دین ہوتی ہیں۔ جس فرد میں یہ قدرتی طور پہ موجود نہ ہوں، اگر اس کو اپنے گروہ کی باگ ڈور تھما دی جائے تو وہ اس ذمہ داری کے بوجھ تلے دب جاتا ہے اور آسان سا رستہ بھی دشوار ہو جاتا ہے۔
چامو چبھابھا زمبابوے کے سینئر ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ ان میں ایک بہترین بلے باز بننے کی پوری صلاحیتیں موجود تھی مگر کچھ انتظامی اور کچھ ذاتی مسائل کے سبب یہ خواب اپنی ویسی تعبیر نہ پا سکا جو اس سے متوقع تھی۔
اب جبکہ زمبابوے کرکٹ بورڈ نے کسی نامعلوم وجہ کی بنا پر انھیں قیادت کی ذمہ داری دے ہی ڈالی ہے تو وہ سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ وہ کپتان پہلے ہیں یا بلے باز پہلے۔ وہ اپنے نئے کردار سے ابھی تک ہم آہنگی پیدا نہیں کر پا رہے۔
قیادت کی ذمہ داری کا اثر مختلف افراد پہ مختلف انداز میں پڑتا ہے۔ کچھ لوگ قیادت کا اعزاز ملتے ہی ایسے کِھل اٹھتے ہیں کہ ان کا کھیل اور بھی چمک اٹھتا ہے۔ جبکہ کئی کھلاڑی اس بوجھ تلے آ کر خود پہ ایک مصنوعی سی سنجیدگی طاری کر لیتے ہیں اور وہی سنجیدگی ان کی تمام تخلیقی صلاحیتوں کو نگل جاتی ہے۔
سمیع چوہدری کے دیگر کالم پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب چبھابھا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو یہیں سے ان کا اپنی بیٹنگ لائن پہ عدم اعتماد جھلک رہا تھا۔ وہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے تھے کہ اس بیٹنگ وکٹ پہ ان کے بلے باز کسی اچھے ہدف کا تعاقب کر سکیں گے۔
اس فیصلے کے بعد یہ ذمہ داری بھی انہی کی تھی کہ اس کی لاج رکھتے اور ایک قابلِ دفاع مجموعہ تشکیل دینے کی بنیاد رکھتے۔ کپتان اوپنر بھی ہو تو کھیل کی سمت متعین کرنے کی ذمہ داری بھی اس پہ آ پڑتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
مگر چبھابھا کریز پہ رک ہی نہ پائے، بس یوں لگا کہ کریز کو چھو کر ہی واپس چل دئیے۔
محمد حسنین کی جس گیند کو انھوں نے ڈرائیو کرنے کی کوشش کی، اس کا اگر صرف دفاع کرنے کی کوشش کی جاتی تو زمبابوین اننگز کی شکل مختلف ہو سکتی تھی۔
محمد حسنین کی وہ گیند ایسی تھی کہ بڑے سے بڑا بلے باز بھی چکرا جاتا لیکن اچھے کھلاڑی اور بڑے کھلاڑی میں فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ بڑا کھلاڑی یہ جانتا ہے کہ اسے کب جارحیت اپنانی ہے اور کب دفاعی ذہنیت اختیار کرنی ہے۔
فہیم اشرف کے سوا سبھی پاکستانی بولرز کی بولنگ میں وہ سمجھداری دکھائی دی جو ٹی ٹونٹی گیم کا خاصہ ہوتی ہے۔ وہاب ریاض کا آخری اوور بھی اگر اسی معیار کا ہوتا جیسے ان کے پہلے تین اوورز تھے، تو زمبابوین اننگز شاید ڈیڑھ سو کے مجموعے تک بھی نہ پہنچ پاتی۔
جس وکٹ پہ 170 کا مجموعہ مسابقتی سکور تھا، وہاں زمبابوین اننگز قدرے پیچھے رہ گئی اور چبھابھا کے بولرز پہلے ہی دباؤ میں آ گئے۔
کیونکہ یہ ہدف بابر اعظم کے لیے کسی بھی حوالے سے پریشان کن نہ تھا۔ اہم صرف یہ بات تھی کہ کسی بھی حریف بولر کو اعصاب پہ سوار نہ ہونے دیا جائے۔ ممکنات کے قانون کے تحت یہ لازم ہے کہ بہترین سے بہترین منصوبہ ساز بھی پانچ کاوشوں میں سے ایک میں چُوک ہی جاتا ہے۔
بولر جتنا بھی بہترین ہو، اوور کی چھ گیندوں میں سے ایک ہلکی پھینک ہی جاتا ہے۔ وہی وہ موقع ہوتا ہے کہ بلے باز اپنی صلاحیتوں کا پورا اظہار کرے اور پریشر واپس بولر پہ ڈالے۔ بابر اعظم اس صلاحیت سے بخوبی مالا مال ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بابر اعظم کے کھیل کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ بیٹنگ کو اتنا آسان اور سہل بنا کر دکھاتے ہیں کہ بسا اوقات ان کے پارٹنرز کی گیم بالکل پھیکی پڑ جاتی ہے۔ ٹی ٹونٹی جیسے کھیل میں وہ بالکل بِلا دقت ایسے سٹروک پیدا کرنے کے ماہر ہیں کہ گیند پانچ فیلڈرز کے بیچ میں سے بھی اپنا رستہ ناپ کر نکل جاتی ہے۔
چامو چبھابھا اتنے بھی پھیکے بلے باز نہیں ہیں جتنے اس دورے پہ نظر آ رہے ہیں لیکن جو چیز واضح طور پہ ان کو گزند پہنچا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ان کا مقابلہ اور موازنہ بابر اعظم جیسے بلے باز کپتان سے ہے۔ اب بھلا وہ پھیکے نہ پڑیں تو اور کیا کریں۔









