آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مغربی افریقہ: سینیگال کی پہلی خاتون سرفر سے ملیے
سینیگال کی پہلی پیشہ ور خاتون سرفر، خدجو سانبھے، افریقی براعظم کے مغرب میں واقع ’نگور‘ ضلع میں اپنے گھر کے قریب ٹریننگ کر رہی ہیں۔
25 سالہ سرفر بتاتی ہیں کہ میں ہمیشہ لوگوں کو سرفنگ کرتے دیکھ کر کہتی تھی ’ایسی لڑکیاں کہاں ہیں جو سرفنگ کر سکیں؟‘
میں نے سوچا: ’کیوں نہ میں ایک سیاہ فام لڑکی کے طور پر سرفنگ شروع کروں اور سینیگال، بلکہ پورے افریقہ کی نمائندگی کروں۔‘
یہ بھی پڑھیے
خبر رساں ادارے روئٹرز کی فوٹو جرنلسٹ زُہرہ بینسیمرا نے سانبھے کی اپنی ٹریننگ اور ان کی طرف سے دوسری لڑکیوں کو دی جانے والی تربیت کو عکس بند کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہمیشہ سے جب بھی میں صبح اٹھتی ہوں، میں سوچتی ہوں کہ ’خدجو، تمھیں کچھ کرنا ہوگا، تم دنیا میں ہر جگہ خواتین کی نمائندگی کرتی ہو ۔۔ تمھیں بہت آگے جانا چاہیے اور ہار نہیں ماننا چاہیے۔‘
’لوگ جو بھی کہیں، بس مت سنو اور آگے بڑھتی جاؤ۔۔۔ تاکہ جو لڑکیاں سرفنگ نہیں بھی کر سکتیں وہ بھی اٹھ کر سرفنگ شروع کر دیں۔‘
سماجی پابندیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، لہروں سے کھیلنے کی خواہش مند لڑکیوں کے لیے خدجو اب ایک مثال ہیں۔ ہر کوئی ان جیسا بننا چاہتا ہے۔
سامبھے بلیک گرلز سرف (بی جی ایس)، جو لڑکیوں اور خواتین کے لیے بنایا گیا ایک تربیتی سکول ہے، اس میں وہ ان لڑکیوں کو تربیت دیتی ہیں جو پیشہ وارانہ سرفنگ میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔
وہ اپنی طلبات کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ گھر پر رہ کر کھانا پکانے اور کم عمری میں شادی کرنے کے بجائے ان سماجی پابندیوں سے نکلنے کے لیے خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کریں اور لہروں کا سامنا کریں۔
سانبھے کہتی ہیں ’میں انھیں مشورہ دیتی ہوں کہ لوگوں کی باتوں پر بالکل دھیان نہ دیں اور اپنے کان بند کر لیں۔‘
سانبھے کو اپنے لیبو ہونے پر فخر ہے، یہ ایسا نسلی گروہ جو روایتی طور پر سمندر کے کنارے رہتا ہے۔
ڈاکار کے ساحلی دارالحکومت میں پروان چڑھنے والی، سانبھے نے کبھی بھی کسی سیاہ فام عورت کو اٹلانٹک کے پانیوں پر سرفنگ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
نو عمری میں ان کے والدین نے انھیں ڈھائی سال تک یہ کہتے ہوئے سرفنگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ اس سے انھیں (اہل خانہ) شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سانبھے کہتی ہیں ’لیکن میرا عزم اتنا پختہ تھا کہ انھیں اپنا فیصلہ بدلنا ہی پڑا۔‘
سانبھے نے 14 سال کی عمر میں سرفنگ کا آغاز کیا تھا۔
بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’جب میں نے پہلی بار سرفنگ کرنے کی کوشش کی تو مجھے بالکل خوف محسوس نہیں ہوا، میں پانی میں جانے کے لیے بہت پُرجوش تھی۔‘
’پہلی لہر کو پکڑتے ہوئے آپ اتنے خوش ہوتے ہیں کہ آپ چیخ رہے ہوتے ہیں تاکہ ہر شخص آپ کو سن سکے۔ کیونکہ آپ مطمئن ہیں کہ آپ نے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور آپ کھڑے ہیں۔‘
’شروع میں یہ تھوڑا مشکل تھا کیونکہ میں یہاں سرفنگ کرنے والی واحد لڑکی تھی اور لوگ ایسی باتیں کرتے کہ ’یہاں لڑکی کیا کر رہی ہے؟ یہ لڑکوں کا کھیل ہے۔‘
’ظاہر ہے یہ سچ نہیں ہے اور کئی اور لوگوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ ان کی باتوں پر دھیان نہ دو۔‘
نگور کے رہائشیوں کو اب وہاں کی تنگ گلیوں میں بورڈ اٹھائے کنارے کی جانب جاتی سانبھے کو دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔
سانبھے اپنی کوچ رونڈا ہارپر (نچلی تصویر میں بائیں جانب کھڑی) کے ساتھ ٹریننگ کرتی ہیں جو بی جی ایس کی بانی بھی ہیں۔
ہارپر بتاتی ہیں کہ سانبھے جب ان کے پاس آئیں تو ان کی جیب میں ایک دھیلا بھی نہیں تھا، انھیں انگلش تک بولنی نہیں آتی تھی۔۔ اور ان کی سرفنگ کا ایک اپنا فری سٹائل تھا۔۔ لہذا سرفنگ کے مقابلوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہارپر نے ان کی تربیت کی۔
ہارپر کہتی ہیں یہ کسی طوفان کے چاروں طرف رسی ڈالنے کی کوشش جیسا ہے۔ کیونکہ سانبھے بہت متحرک سرفر ہیں۔ اس لیے اس کام میں خاصی مشکل پیش آئی۔
حالیہ مہینوں میں سانبھے نے سمندر کنارے بنے مکان کو اپنی بیس کے طور پر استعمال کیا ہے جہاں وہ ٹریننگ کرتی ہیں۔
سانبھے کہتی ہیں ’جب میں پانی میں ہوتی ہوں تو مجھے کچھ غیر معمولی احساس ہوتا ہے جو میرے لیے بہت خاص ہے۔‘