پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: پاکستان پیر کو دوسری اننگز کا آغاز کرے گا، انگلینڈ کو 310 رنز کی برتری حاصل

،تصویر کا ذریعہReuters
ساؤتھیمپٹن میں پاکستان اور انگلینڈ کی سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان کی پہلی اننگز 273 رنز پر اختتام پذیر ہو گئی۔
پاکستان کی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں 272 رنز بنائے ہیں۔ کپتان اظہر علی 141 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ انھوں نے پراعتماد اننگز کھیلی اور آخر تک انگلینڈ کے باؤلرز کا سامنا کیا۔ میچ کے آخر میں انھیں دو مواقع بھی ملے۔
وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کے آؤٹ ہونے کے بعد یاسر شاہ میدان میں اترے ہیں۔ یاسر شاہ 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کے بعد شاہین شاہ بیٹنگ کے لیے آئے مگر وہ جلد ہی وکٹ کیپر کو اپنا کیچ تھما بیٹھے۔
محمد عباس آؤٹ ہونے والے نویں بیٹسمین تھے جو رنز آؤٹ ہوئے۔
اس سے قبل محمد رضوان 53 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر وکٹ کیپر جوس بٹلر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
اسی دوران اظہر علی نے ٹیسٹ کرکٹ میں چھ ہزار رنز مکمل کر لیے ہیں۔
انگلش بولر جیمز اینڈرسن نے اب تک چاروں وکٹیں حاصل کی ہیں۔ تیسرے روز کے آغاز پر اسد شفیق جیمز اینڈرسن کی آؤٹ سوئنگ گیند پر سلپ میں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ وہ صرف 5 رنز بنا سکے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسرے روز انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 8 وکٹوں پر 583 رن بنا کر اننگز ڈکلیئر کر دی۔ جواب میں پاکستان نے کھیل کے اختتام تک 3 وکٹوں کے نقصان پر 24 رن بنائے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
پاکستان کی طرف سے شان مسعود اور عابد علی نے بیٹنگ کا آغاز کیا اور چھ کے سکور پر پہلی اور 11 کے سکور پر اس کی دوسری وکٹ گر گئی۔ 24 کے سکور پر بابر اعظم بھی آؤٹ ہو گئے۔ اس وقت اظہر علی کریز پر موجود ہیں۔ شان مسعود، عابد علی اور بابر اعظم تینوں جمی اینڈرسن کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انگلینڈ کی طرف سے زیک کرولی نے 267 رن بنائے اور ان کی جوس بٹلر کے ساتھ 359 رن کی شراکت ہوئی تھی۔ کرولی اسد شفیق کی گیند پر سٹمپ ہوئے۔ انھوں نے 393 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 34 چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ جوس بٹلر 152 رن بنا کر فواد عالم کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
پاکستانی بولرز میں سے یاسر شاہ، فواد عالم اور شاہین آفریدی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
زیک کرالی کے لیے یاد گار پہلا روز
میچ کے پہلے روز ساؤتھمپٹن میں انگلش کرکٹ ٹیم کے کپتان جو روٹ نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے اور کھیل ختم ہونے پر انگلینڈ نے 332 رنز سکور کر لیے جس میں زیک کرولی کے شاندار 171 رنز شامل ہیں۔
کھیل ختم ہونے پر زیک کرولی اور جوس بٹلر ناٹ آؤٹ تھے۔ جوس بٹلر نے کھیل ختم ہونے تک 87 رنز سکور کیے تھے جس میں نو چوکے اور دو زبردست چھکے شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہPA
یاد رہے کہ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان پہلا میچ ہار گیا تھا جبکہ دوسرے میچ بارش کی نذر ہو گیا تھا۔ تیسرے اور آخری میچ میں اب تک انگلینڈ کی گرفت میچ پر کافی مضبوط ہو گئی ہے اور اگر یہ میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا یا برابر رہا تو گزشہ دس برس میں انگلینڈ میں ٹسیٹ سیریز نہ ہارنے کا پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا ریکارڈ بھی خراب ہو جائے گا۔
نئی گیند شاہین آفریدی اور محمد عباس کو دی گئی۔ شاہین نے اپنے تیسرے ہی اوور میں روی برنز کو آؤٹ کیا۔ برنز شاہین کی آؤٹ سوئنگ پر سلپ میں کیچ آؤٹ ہوئے۔
ڈوم سبلی اور زیک کرولی کے درمیان 50 رنز کی شراکت قائم ہوئی جس کے بعد یاسر شاہ کی گیند پر سبلی 22 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پہلے روز کھانے کے وقفے تک انگلینڈ نے دو وکٹوں کے نقصان پر 91 رنز بنائے تھے اور کرولی نے آخری گیند پر چوکا لگا کر اپنی نصف سنچری مکمل کر لی تھی۔
کھیل دوبارہ شروع ہونے پر پہلے نسیم شاہ نے کپتان جو روٹ کو 29 رنز پر کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کیا اور اس کے بعد یاسر شاہ نے اولی پوپ کو بولڈ کر کے اپنا دوسرا شکار بنایا۔
انگلینڈ نے دوسرے ٹیسٹ کے بعد سیم کرن کی جگہ جوفرا آرچر کو ٹیم میں شامل کیا ہے جبلکہ پاکستان نے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
جو روٹ کی ٹیم کو سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے اور اگر وہ تیسرا ٹیسٹ میچ جیت جاتے ہیں تو گذشتہ دس برسوں میں وہ پہلے انگلش کپتان ہوں گے جنھوں نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی ہو۔

،تصویر کا ذریعہPCB
2010 کے بعد سے پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف چار ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں جن میں سے دو متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے نام رہیں جبکہ دو انگلینڈ میں ڈرا ہوئیں۔
میچ میں جیمز اینڈرسن کو اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 600 وکٹیں مکمل کرنے کے لیے صرف چھ وکٹیں درکار ہیں۔ جبکہ بابر اعظم 29 رنز کے ساتھ اپنے دو ہزار ٹیسٹ رنز مکمل کر لیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیموں نے دوسرے ٹیسٹ کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے شروعات کے بہتر اوقات پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے بعد اب میچ آفیشلز اگلے دن کا کھیل آدھا گھنٹہ پہلے شروع کر سکیں گے۔ تیسرے پانچ روزہ ٹیسٹ میں محض ڈیڑٌھ دن ممکن ہوسکا تھا اور باقی میچ بارش کی وجہ سے متاثر ہونے کے بعد ڈرا ہوگیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters
کورونا وائرس کی عالمی وبا کی شدت میں کمی کے بعد سے انگلینڈ نے اب تک پانچ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جس میں انھوں نے پہلے ویسٹ انڈیز کو دو ایک سے ہرایا جبکہ پاکستان کے خلاف انھوں نے ایک ٹیسٹ جیتا اور دوسرا بارش کے باعث ڈرا ہوگیا۔
انگلینڈ نے دوسرے ٹیسٹ کے لیے اعلان کردہ 14 کرکٹرز کے سکواڈ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
پہلے کرکٹ ٹیسٹ میں انگلش آل راؤنڈر بین سٹوکس کی کارکردگی خاص نہیں رہی تھی اور فتح کے بعد انگلش کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا تھا کہ سٹوکس پاکستان کے خلاف کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز کے باقی دو میچوں میں اپنی گھریلو وجوہات کی وجہ سے حصہ نہیں لے سکیں گے۔
دوسرے ٹیسٹ میں بین سٹوکس کی جگہ انگلش ٹیم میں زیک کرولی جبکہ آرچر کی جگہ سیم کرن کو شامل کیا گیا تھا۔
پاکستانی ٹیم میں دوسرے ٹیسٹ کے لیے ایک تبدیلی کی گئی تھی اور بلے بازی کے شعبے کو مضبوط کرتے ہوئے مڈل آرڈر بلے باز فواد عالم کو لیگ سپنر شاداب خان کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ فواد عالم تقریباً 11 برس کے بعد پاکستان کی جانب سے کسی ٹیسٹ میچ میں میدان میں اترے تھے تاہم وہ اپنی واحد باری میں صفر پر آؤٹ ہوگئے تھے۔
ساؤتھمپٹن میں دوسرے ٹیسٹ کے دوران وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی تھی اور میچ برابر قرار پایا تھا۔ پاکستان نے پہلی اننگز میں 236 رنز بنائے تھے جس میں محمد رضوان کے قیمتی 72 شامل تھے۔ کھیل کے پانچویں دن انگلینڈ کی پہلی اننگز جاری تھی اور اس نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 110 رنز بنائے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اولڈ ٹریفرڈ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے دوسری اننگز میں جوس بٹلر اور کرس ووکس کی ذمہ دارانہ بلے بازی کی بدولت تین وکٹوں سے فتح حاصل کی تھی۔
پاکستان نے انگلینڈ کو جیتنے کے لیے 277 رنز کا ہدف دیا تھا جو انگلینڈ نے کھیل کے چوتھے دن سات وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔
میچ کے دوران ایک وقت ایسا آیا کہ انگلینڈ کی نصف ٹیم پویلین لوٹ گئی جبکہ جیت کے لیے ڈیڑھ سو سے زائد رنز درکار تھے۔ تاہم اس کے بعد چھٹی وکٹ کے لیے کرس ووکس اور جوس بٹلر کی طویل شراکت داری انگلینڈ کو جیت کی طرف لے گئی۔ ووکس 84 جبکہ بٹلر 75 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے مگر اس وقت تک دونوں اپنی ٹیم کو فتح کے بہت قریب لے آئے تھے۔
پاکستان کے کپتان اظہر علی نے میچ کے اختتام پر شکست کی بڑی وجہ اس پارٹنرشپ کو قرار دیا تھا۔
انگلینڈ سکواڈ: جو روٹ (کپتان)، جیمز اینڈرسن، جوفرا آرچر، ڈومنک بیس، سٹیورٹ براڈ، روری برنس، جوس بٹلر، زیک کرولی، سیم کرن، اولی پوپ، اولی رابنسن، ڈوم سبلی، کرس ووکس، مارک ووڈ
پاکستان سکواڈ: اظہر علی (کپتان)، شان مسعود، عابد علی، بابر اعظم، اسد شفیق، فواد عالم، محمد رضوان، یاسر شاہ، شاہین آفریدی، محمد عباس، نسیم شاہ، امام الحق، کاشف بھٹی، سرفراز احمد، سہیل خان، شاداب خان












