کورونا وائرس: انڈیا میں متاثرین کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ، پاکستان میں سکول، کالج، ریستوران اور پارکس کھولنے کا فیصلہ

کورونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں مسلسل کمی کے پیش نظر پاکستان میں مختلف نوعیت کی عائد پابندیوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب پڑوسی ملک انڈیا میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کل متاثرین کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور وہ دنیا میں سب سے زیادہ متاثرین کے حوالے سے تیسرا بڑا ملک ہے۔

جولائی کے مہینے میں پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا زور کم ہوتا دکھائی دیا اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کل متاثرین کی تعداد دو لاکھ 82 ہزار سے زیادہ ہے۔

لیکن خوش آئند طور پر زیر علاج مریضوں کی تعداد اب صرف گھٹ کر 18 ہزار رہ گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد چھ ہزار سے زیادہ ہے۔

کورونا وائرس کے حوالے سے مزید پڑھیے

ان حالات کے تناظر میں پاکستانی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں مسلسل کمی کے بعد پانچ مہینے سے عائد مختلف نوعیت کی بندشوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ریستوران، کھیلوں کے مقابلے اور دیگر کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی جائیں

جمعرات کو ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے 15 ستمبر کو کھولے جائیں گے تاہم سات ستمبر کو اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا جبکہ صوبائی وزرا برائے تعلیم اور صحت آپس میں تعاون کرکے حکمت عملی طے کریں گے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ہوٹلوں، شادی ہالز، پبلک پارکس بھی کھولنے کا اعلان کردیا گیا ہے جبکہ مارکیٹیں بھی اپنے معمول کے مطابق کھلیں گی۔

لیکن ایک طرف جہاں پاکستان کی اوسط ٹیسٹنگ کی تعداد 20 ہزار سے بھی کم ہو گئی ہے اور ملک میں اب تک ہونے والے مجموعی ٹیسٹس کی تعداد بیس لاکھ ہے، ادھر انڈیا نے گذشتہ چند ہفتوں میں ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت کو تیزی سے بڑھایا ہے۔

انڈیا: ناکافی ٹیسٹنگ کا خدشہ

انڈیا میں اب تک دو کروڑ سے زیادہ ٹیسٹس کیے جا چکے ہیں جبکہ مسلسل نو دن سے یومیہ نئے متاثرین کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ سامنے آ رہی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں انڈیا نے چھ لاکھ سے زیادہ ٹیسٹس کیے جبکہ مجموعی ہلاکتیں 40 ہزار سے زیادہ ہیں۔

انڈیا کے آخری دس لاکھ متاثرین صرف گذشتہ 20 دنوں میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں ٹیسٹنگ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کیا یا ہے۔

لیکن کیونکہ شرح اموات اب تک صرف 2.1 ہے تو اس کو دیکھتے ہوئے حکومت نے بتدریج معمول کی سرگرمیاں کھولنے کا دوبارہ حکم دیا ہے تاہم چند ریاستیں ابھی بھی لاک ڈاؤن پر عمل کر رہی ہیں.

انڈیا کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرین اور ہلاکتوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے اور وہ اس لیے سامنے نہیں آ رہی کیونکہ حکام ناکافی ٹیسٹنگ کر رہے ہیں۔ انڈیا کی بڑی آبادی کو دیکھتے ہوئے یہ تعجب کی بات نہیں تاہم انڈیا اب کورونا وائرس کا عالمی ہاٹ سپاٹ ہے اور وہاں متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

لیکن ہمسایہ ممالک میں مئی اور جون میں تیزی سے اضافے کے بعد انفیکشن میں کمی کا رجحان نظر آ رہا ہے۔

جنوبی ایشیا میں دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ آباد ہے، لیکن ریکارڈ کیے جانے والے مجموعی انفیکشن میں سے صرف 11 فیصد ہی اس خطے سے ہیں۔