سمیع چوہدری کا کالم: سلیم ملک کے آٹھ لاکھ اور پی سی بی کی ’کالی بھیڑیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
کچھ ہفتے پہلے جب شعیب اختر کو ایف آئی اے کی جانب سے پیشی کا حکم نامہ ملا تو اس کی وجہ ان کے یوٹیوب چینل کی ایک ویڈیو تھی جس میں انھوں نے پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی کو اچھا خاصا رگیدا تھا۔
اسی ویڈیو میں شعیب اختر نے پی سی بی حکام کی جانب سے میچ فکسنگ کے معاملات کی ہینڈلنگ پر کئی سوالات اٹھائے اور یہ قیافہ بھی باندھا کہ عمر اکمل کے ساتھ بھی ’ملی بھگت‘ کا فارمولہ طے پا جائے گا کہ فکسنگ کا اعتراف کر لو، پابندی آدھی کروا دی جائے گی اور چند بچوں کو کرپشن کے حوالے سے لیکچر دلوا کر واپسی کا دروازہ کھول دیا جائے گا۔
سلیم ملک نے بھی اپنے گذشتہ فکسنگ اعترافات اور قوم سے معافی کا بھانڈہ پھوڑا تو کرچیوں میں سے یہی اصلیت برآمد ہوئی کہ موصوف کو پی سی بی میں بحالی کا لالچ دے کر سبحان احمد اور تفضل رضوی نے ایک اعترافِ جرم کا سکرپٹ تھمایا اور سلیم ملک نے کسی منجھے ہوئے اداکار کی طرح کیمروں کے سامنے وہ اعترافی بیان ریکارڈ کروا دیا تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔
امید تو انھیں یہ تھی کہ ’شریکِ جرم‘ ساتھیوں کی طرح ان کے بھی دن پھر جائیں گے اور کسی نہ کسی کھاتے میں وہ بھی بھرتی کر لیے جائیں گے مگر پی سی بی کی جوابی مہربانی صرف یہیں تک محدود رہی کہ انھیں ان کے دیرینہ بقایا جات ادا کر دیے گئے جو نجم سیٹھی کے بقول آٹھ لاکھ کے لگ بھگ تھے۔
سمیع چوہدری کے دیگر کالم پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آٹھ لاکھ تو مل گئے مگر وہ اعترافی بیان سلیم ملک کے گلے کی ہڈی بن گیا اور جب بھی سلیم ملک پی سی بی میں واپسی کے کسی دروازے کو کھٹکھٹانے لگتے ہیں تو انھیں آئی سی سی کا سوالنامہ تھما دیا جاتا ہے جس میں کسی سوال کے کوئی نمبر نہیں مگر ہر سوال کا جواب دینا ضروری بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خود کردہ را علاجے نیست۔ اب سلیم ملک کس کس کو یقین دلائیں کہ اعترافِ جرم ہی کیا، وہ تو جرم سے بھی معصوم ہیں، بس پی سی بی کی چال میں آ گئے اور اعترافی بیان منظرِ عام پر آتے ہی آئی سی سی متحرک ہو گئی اور بیٹھے بٹھائے وہ ایک نئے سوالنامے کی نئی مصیبت میں گِھر گئے۔
لیکن سلیم ملک کا المیہ یہ ہے کہ وہ پی سی بی سے محاذ آرائی بھی نہیں چاہتے اور پی سی بی کی اس ’حرکت‘ سے وہ دل گرفتہ بھی بہت ہیں۔ اس لیے وہ پورے کرکٹ بورڈ کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے صرف چند ’کالی بھیڑوں‘ کا ذکر کرتے ہیں جنھیں نکال باہر کرنے کی درخواست وہ احسان مانی سے کر رہے ہیں۔
پی سی بی کی یہ مبینہ ’کالی بھیڑیں‘ پہلے کبھی اتنی نمایاں نہیں ہوئیں جتنی پچھلے دو ماہ سے مسلسل ہو رہی ہیں۔ پہلے پہل عاقب جاوید بولے کہ فکسنگ کے خلاف آواز اٹھانے والا کبھی بھی پی سی بی میں ترقی نہیں کر سکتا، اشارہ ان کا بھی کالی بھیڑوں کی طرف ہی تھا۔
پھر عامر سہیل ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو میں کہتے پائے گئے کہ پی سی بی کے تصدیق شدہ ’عناصر‘ کے تحت کرپشن کو مباح سمجھا جاتا ہے اور کیس صرف تب سامنے آتا ہے جب کوئی غیر منظور شدہ بکی کے ساتھ کھسر پھسر کرتا پکڑا جاتا ہے۔ ’ہمارے بکی کے ساتھ فکسنگ جائز اور کسی اور کے ساتھ ناجائز‘ یہ تھے عامر سہیل کے الفاظ۔
سلیم ملک کے جوابی خط پر ردِعمل کے ساتھ ہی پی سی بی نے دانش کنیریا کو بھی ’جواب‘ دے ڈالا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ وہی دانش کنیریا ہیں جن کے حوالے سے باسط علی ماضی میں پی سی بی پر یہ الزام عائد کر چکے کہ یہاں جان بوجھ کر کنیریا کے کیس سے دوری اختیار کی گئی کہ اگر بات کھلتی تو کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے اور بورڈ نے پردہ نشینوں کی بے پردگی سے بچنے کے لیے کنیریا کو قسمت اور انگلش کرکٹ بورڈ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
ذرا پیچھے جائیں تو تاحیات سزا پانے والے عطاالرحمان کا بیان بھی ریکارڈ پر ملتا ہے کہ پی سی بی کے اعلیٰ حکام کے کہنے پر انھوں نے وسیم اکرم کے خلاف اپنا بیان بدلا تھا۔
ان سارے سوالوں، جوابوں، دعووں اور دلائل کے بعد اتنا سا بنیادی سوال تو بنتا ہے کہ آخر وہ کون سی ’کالی بھیڑیں‘ ہیں جہاں جا کر ہر کہانی کا سرا نکلتا ہے۔ چوری کہیں بھی ہو، چور کوئی بھی ہو، ’کُھرا‘ ہمیشہ گھر کے اندر ہی کیوں نکلتا ہے؟
اور یہ سبھی لوگ جو بار بار مختلف انداز میں کچھ مبینہ ’گندی مچھلیوں‘ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یہ سب بھی ماضی میں کبھی نہ کبھی پی سی بی کے ’اپنے‘ رہے ہیں۔ تو کیا برا ہے اگر چیئرمین پی سی بی کسی روز غیر رسمی طور پر ہی ان سب سے مل لیں اور ایک ہی بار یہ قضیہ نمٹا دیں تا کہ سبھی گتھیاں سلجھ جائیں اور ہمیشہ کے لیے مطلع صاف ہو۔
کیوںکہ اگر یہ عقدہ اب بھی حل نہ کیا گیا تو پھر کل کلاں یہ اتنی بڑی گلے کی ہڈی بن سکتا ہے کہ شاید تب پی سی بی کو بھی سلیم ملک کی طرح سُجھائی ہی نہ دے کہ اسے اندر نگلنا ہے یا باہر اگلنا ہے۔ آفٹر آل، یہ پی سی بی کی ’عزت‘ کا سوال ہے۔












