#PSL2020: پاکستانی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے پی ایس ایل کھیلنا ضروری ہے؟

،تصویر کا ذریعہPSL
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان سپر لیگ اپنے آغاز ہی سے شائقین کے دلوں میں گھر کر جانے والے ایک میلے کی شکل اختیار کر چکی ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے کئی نوجوان باصلاحیت کرکٹرز کو بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھنے کا موقع ملا ہے۔
یہ تاثر وقت کے ساتھ ساتھ تقویت پا چکا ہے کہ اگر کسی بھی نوجوان کرکٹر کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے پی ایس ایل کھیلے مگر کیا واقعی ایسا ہی ہے؟
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق اس تاثرسے اتفاق نہیں کرتے لیکن وہ پی ایس ایل کی اہمیت کم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پی ایس ایل ڈومیسٹک کرکٹ سے ایک قدم ُاوپر
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں اسی لیے وہ پی ایس ایل کی کسی ٹیم میں جگہ بناتے ہیں اور پی ایس ایل دراصل ڈومیسٹک کرکٹ سے اوپر کا ایک قدم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ چونکہ پی ایس ایل انٹرنیشنل کرکٹ سے بہت قریب ہے لہٰذا کرکٹر نیچے (ڈومیسٹک کرکٹ میں) پرفارم کر کے اس میں آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہی ںکہ ایمرجنگ کیٹیگری میں چند ہی کرکٹرز ہوتے ہیں وہ بھی انڈر 19 سے آتے ہیں، دیگر تمام کرکٹرز وہ ہوتے ہیں جو پہلے ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں پھر پی ایس ایل میں آتے ہیں۔
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل میں چونکہ پاکستان اور دوسرے ملکوں کے انٹرنیشنل کرکٹرز کھیلتے ہیں لہٰذا ان کے خلاف جو بھی کھلاڑی پرفارم کرتا ہے تو اسے انٹرنیشنل کرکٹ والے دباؤ کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور اس کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ میں آنے کا موقع بھی بنتا ہے۔
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے نزدیک دیگر فارمیٹ کے سلیکشن کے لیے دوسرے ٹورنامنٹس موجود ہیں تاہم ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے انتخاب میں پاکستان سپر لیگ بہت اہم کردار ادا کرتی ہے اور یہ ایک ایسا ٹورنامنٹ ہے جو کھلاڑیوں کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تناظر میں یہ پی ایس ایل بہت اہم ہے
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اس سال پی ایس ایل کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں پاکستانی ٹیم کو ایشیا کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے اہم مقابلوں میں حصہ لینا ہے۔
مصباح کہتے ہیں کہ چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کی حیثیت سے ان کی توجہ صرف اسی سال پر مرکوز نہیں بلکہ ان کی نظریں اگلے دو برس پر بھی ہیں۔
’ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اس سال بھی ہے اور یہ اگلے سال بھی ہو گا۔ اس کے علاوہ اس سال ایشیا کپ بھی ہے لہٰذا بہت ضروری ہے کہ ہم صحیح کھلاڑیوں کا ایک ایسا گروپ نکالیں جس سے دو ورلڈ کپس اور ایشیا کپ کے لیے اچھی ٹیم تیار ہو سکے۔‘
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ابھی بھی پاکستانی ٹیم میں چند ایسی پوزیشنیں ہیں جن پر سلیکشن کے لیے سخت مقابلہ ہو گا۔
’ٹاپ آرڈر بیٹنگ میں سخت مقابلہ ہو گا۔ اسی طرح پانچویں، چھٹے اور ساتویں نمبر پر جو بیٹسمین ہیں وہ بھی ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے بہت اہم ہوں گے۔ بولنگ میں بھی سخت مقابلہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی ایس ایل کا پاکستان آنا بہت ضروری تھا
مصباح الحق کہتے ہیں کہ اگر متحدہ عرب امارات میں منعقدہ پی ایس ایل کے آخری دو سال دیکھیں تو وہاں لوگوں میں اتنا جوش وخروش نہیں تھا۔
’گراؤنڈز میں شائقین کی بہت کم تعداد تھی۔ ٹی ٹوئنٹی کا اصل مزا اسی وقت ہے جب میدان میں گرما گرم ماحول ہو۔ اس کے بغیر نہ دیکھنے کا مزا ہے نہ کھیلنے کا۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے بہت ضروری تھا کہ انھیں ہوم گراؤنڈ پر اپنے شائقین کے سامنے کھیلنے کا موقع ملے۔
’خاص کر نوجوان کرکٹرز کے لیے یہ بہت ضروری تھا کہ وہ اپنے سینیئرز اور ورلڈ کلاس کرکٹرز کو کھیل کر ایک نیا حوصلہ پاتے اور سیکھتے۔ پی ایس ایل اب پاکستان آ چکی ہے اور شائقین کے جوش و خروش کو دیکھ کر اس سوال کا جواب مل چکا ہے کہ پی ایس ایل کا یہاں آنا کتنا ضروری تھا۔‘













