پاکستان میں پی ایس ایل کے شیڈول سے کون خوش کون ناراض؟

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان سپر لیگ کا پانچواں ایڈیشن اس لحاظ سے گذشتہ چار ٹورنامنٹس سے مختلف ہے کہ اس بار تمام کے تمام میچز پاکستان میں کھیلے جارہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ خوش ہے کہ وہ اب اس پوزیشن میں آ گیا ہے کہ پی ایس ایل کو مکمل طور پر پاکستان میں منعقد کر سکے اور شائقین اس بات پر خوش ہیں کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستانی گراؤنڈز میں کھیلتا دیکھنے کی خواہش پوری ہو سکے گی۔

پی ایس ایل شائقین کی بھرپور دلچسپی کے اعتبار سے متحدہ عرب امارات میں اپنا رنگ نہیں جما سکی تھی اور اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی تھی کہ اس لیگ کا اصل مقام پاکستان ہی ہے۔

پی ایس ایل اپنے آغاز سے متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوتی رہی اس کی وجہ یہ تھی کہ غیر ملکی کرکٹر سکیورٹی کے خدشات کے سبب پاکستان آنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2017 میں پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہوا تھا۔ سنہ 2018 میں اس کے تین میچ پاکستان میں کرائے گئے جن میں کراچی کا فائنل بھی شامل تھا۔ گزشتہ سال کراچی نے فائنل سمیت آٹھ میچوں کی میزبانی کی تھی۔

اس بار پاکستان سپر لیگ کے لیے چار شہروں کراچی، لاہور، راولپنڈی اور ملتان کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں 34 میچ کھیلے جائیں گے۔

لاہور کا قذافی سٹیڈیم چودہ میچوں کی میزبانی کرے گا جن میں دو ایلیمنیٹر اور فائنل بھی شامل ہے۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایک کوالیفائر سمیت کل نو میچ کھیلے جائیں گے، راولپنڈی میں آٹھ میچ رکھے گئے ہیں جبکہ ملتان کو تین میچ دیے گئے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے ان میچوں کے شیڈول پر حصہ لینے والی دو ٹیموں کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں اور انھوں نے میچوں کے شیڈول کو غیرمساوی قرار دیا ہے۔

شیڈول ہر ٹیم کے لیے یکساں نہیں ہے

کراچی کنگز کے سربراہ سلمان اقبال کے خیال میں پی ایس ایل کا شیڈول تمام ٹیموں کے لیے یکساں نہیں ہے۔

سلمان اقبال نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام ٹیموں کے ہوم اور اوے میچوں میں یکسانیت ہونی چاہیے تھی۔ کراچی کنگز کے مداح یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شیڈول یکطرفہ ہے کیونکہ ایک ٹیم کے آٹھ میچ اس کے ہوم گراؤنڈ پر رکھے گئے ہیں۔

سلمان اقبال کا کہنا ہے کہ تمام فرنچائزز کو ایک ساتھ بٹھا کر شیڈول ترتیب دینا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کنگز کے شائقین اس کے ڈے میچز پر بھی سخت ناراض ہیں کیونکہ ورکنگ ڈے میں دوپہر کے وقت میچ دیکھنے کون آئے گا ؟

واضح رہے کہ کراچی کنگز اپنے دو میچ جمعہ کے روز دوپہر کے وقت کراچی اور ملتان میں کھیلے گی۔

ہم تو ہر وقت ہوا میں ہی اڑ رہے ہوں گے

دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سربراہ ندیم عمر بھی شیڈول کے بارے میں کھل کر اپنے اظہار خیال کر رہے ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی سپانسرشپ کی تقریب میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس شیڈول پر احتجاج بھی کیا تھا۔

ندیم عمر کہتے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ کا جو شیڈول بنایا گیا ہے اس میں کوئٹہ کی ٹیم زیادہ تر وقت سفر میں ہی رہے گی اور زیادہ تر وقت ہوا میں ہی ُاڑ رہی ہو گی دوسری جانب لاہور قلندر کی ٹیم آٹھ میچ اپنے گھر میں ہی کھیلے گی۔ کرکٹ سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔

ندیم عمر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ایک میچ کے بعد فوراً اگلے میچ کے لیے سفر کرے گی۔ کھلاڑی تھکاوٹ کا شکار رہیں گے۔ کوئٹہ اور ملتان دو ایسی ٹیمیں ہیں جن کا سب سے زیادہ ورک لوڈ ہو گا۔

ندیم عمر کا کہنا ہے کہ مزہ اسی وقت ہے جب ہر ایک کے لیے صورتحال ایک جیسی ہو۔

’یہاں یہ ایک جیسی صورتحال نہیں ہے۔ یہ ایک شو کیس ٹورنامنٹ ضرور ہے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ کرکٹ ہے جو جیتنے کے لیے کھیلی جاتی ہے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز دفاعی چیمپئن ہے۔ کرکٹ برابری کی بنیاد پر کھیلی جاتی ہے۔ دونوں جانب گیارہ کھلاڑی ہونے چاہیے۔‘

ندیم عمر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پی ایس ایل کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں ایک قربانی اور سہی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے غیرملکی کرکٹروں کے پاکستان نہ آنے کا سب سے زیادہ نقصان کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو اٹھانا پڑا ہے۔

سنہ 2017 میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل 2 کا فائنل میں لاہور میں کرانے کا فیصلہ کیا تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے چار اہم کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا۔

ندیم عمر کو آج بھی وہ وقت یاد ہے کہ جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان سے کہا تھا کہ آپ کو پچاس کرکٹروں کے پول میں سے پانچ کرکٹر مل جائیں گے لیکن یہ پول صرف سات کھلاڑیوں کا تھا اور کوئٹہ کی ٹیم فائنل ہارگئی تھی۔

سنہ 2018 میں بھی اس کے دو اہم کھلاڑی کیون پیٹرسن اور شین واٹسن پاکستان نہیں آئے تھے تاہم اس بار شین واٹسن پاکستان میں کھیلتے ہوئے دکھائی دیں گے جس پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بہت خوش ہے۔