پاکستانی خواتین کرکٹرز چھکے لگانے میں پیچھے کیوں ہیں؟

ندا ڈار

،تصویر کا ذریعہChristopher Lee-ICC

،تصویر کا کیپشنکوچ اقبال امام کا کہنا ہے کہ ندا ڈار ان تین کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنھیں پاور ہٹنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ٹی ٹوئنٹی میں بیٹنگ کرنے والے بیٹسمین اگر چھکا نہ لگائیں تو شائقین کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے کیونکہ ٹی ٹوئنٹی جارحانہ بیٹنگ کا ہی فارمیٹ ہے لیکن پاکستانی بیٹسمین بابراعظم کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ پاور ہٹنگ کے بغیر بھی عالمی نمبر ایک بیٹسمین بنے ہیں تو انہیں اس کی ضرورت نہیں۔

مردوں کی کرکٹ کے برعکس پاکستانی خواتین کرکٹ میں ہمیں زور دار چھکے لگانے والی کرکٹرز بہت کم نظر آتی ہیں۔

پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم آئندہ ماہ آسٹریلیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی ہے جہاں اس کا اپنے گروپ میں ویسٹ انڈیز، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیموں سے مقابلہ ہوگا۔ یہ وہ تینوں ٹیمیں ہیں جن کے خلاف پاکستانی ٹیم گزشتہ سال ٹی ٹوئنٹی سیریز ہار چکی ہے۔

یہاں یہ سوال بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا پاکستانی کرکٹرز میں پاور ہٹنگ کی صلاحیت موجود ہے کہ وہ آئندہ ماہ آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی حریف ٹیموں کے خلاف بڑا سکور کرسکیں؟

پاکستانی ٹیم میں کپتان بسمہ معروف اور جویریہ خان دو ایسی کھلاڑی موجود ہیں جو اب تک ہونے والے تمام چھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیل چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بسمہ معروف

،تصویر کا ذریعہASIF HASSAN

،تصویر کا کیپشنبسمہ معروف اب تک ہونے والے تمام چھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیل چکی ہیں

بسمہ معروف سے جب ٹیم میں پاور ہٹنگ کی صلاحیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس پر کافی کام ہوا ہے ’ارم جاوید، ندا ڈار اور عالیہ ریاض یہ ذمہ داری نبھا رہی ہیں اور وہ اس میں کامیاب بھی رہی ہیں‘۔

بسمہ معروف اپنے اور جویریہ خان کے بارے میں کہتی ہیں کہ ان کا رول مختلف ہے وہ ’ٹائمرز ہیں جن کا کام امپرووائزیشن ہے‘۔

پاکستانی خواتین ٹیم کے کوچ اقبال امام کا کہنا ہے کہ ’پاور ہٹنگ بہت ضروری بھی ہے اور ضروری نہیں بھی ہے۔ اس کے بغیر بھی میچ جیتے جاسکتے ہیں۔ پاکستانی خواتین ٹیم میں بیشتر کھلاڑی تیکنکی اعتبار سے بہتر ہیں۔ جویریہ خان اور بسمہ معروف ایک اوور میں آّٹھ دس رنز بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘۔

اقبال امام کا کہنا ہے کہ ٹیم میں پاور ہٹرز کے طور پر ندا ڈار، عالیہ ریاض اور ارم جاوید کو تیار کیا گیا ہے، ان کے علاوہ نئی کھلاڑی عائشہ نسیم بھی پاور ہٹر ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر جلال الدین جو خواتین کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر بھی رہ چکے ہیں، اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’پاور ہٹنگ کے لیے جسمانی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ پاور ہٹنگ کے لیے درست تیکنک اور بائیو مکینک کا ہونا بھی بہت ضروری ہے کہ آپ کس طرح طاقت کا استعمال کر کے درست تکنیک کے ساتھ گیند کو صحیح ڈائریکشن میں کھیلتے ہیں۔‘

جلال الدین کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی ٹیم میں ہر کھلاڑی پاور ہٹنگ نہیں کرتی، اس کے لیے ایک دو کھلاڑیوں کو تیار کیا جاتا ہے۔ پاکستانی ٹیم میں بھی دو تین کھلاڑی ایسی ہیں جو پاورہٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن ہمارے یہاں اس جانب توجہ نہیں دی گئی اور روایتی انداز کی ٹریننگ کرائی جاتی رہی ہے‘۔

جلال الدین یہ بھی کہتے ہیں کہ ’پاکستانی خواتین ٹیم کی قوت پاور ہٹنگ نہیں بلکہ سپن بولنگ ہے جس کے ذریعے وہ بڑی ٹیموں کو بھی ہرا سکتی ہے‘۔

جویریہ خان

،تصویر کا ذریعہJan Kruger-ICC

،تصویر کا کیپشنجویریہ خان نے ستانوے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں صرف پانچ چھکے لگائے ہیں

چھکے لگانے میں کون آگے کون پیچھے؟

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ 2183 رنز بنانے کا اعزاز بسمہ معروف کو حاصل ہے تاہم وہ ایک سو چھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں صرف تین چھکے لگانے میں کامیاب ہوسکی ہیں۔

پاکستان کی طرف سے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ 1744 رنز بنانے والی جویریہ خان نے ستانوے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں صرف پانچ چھکے لگائے ہیں۔

بسمہ معروف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی سب سے زیادہ 464 رنز بنانے والی کھلاڑی ہیں لیکن انہوں نے 41 چوکے تو لگائے ہیں لیکن چوبیس میچوں میں ان کا ایک بھی چھکا شامل نہیں ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے 21 میچ کھیل کر 298 رنز بنانے والی جویریہ خان نے 39 چوکے تو لگائے ہیں لیکن اب تک ان کے ریکارڈ میں ایک بھی چھکا نہیں ہے۔

ندا ڈار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی پاکستانی کھلاڑیوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ ان کے بنائے ہوئے 1086 رنز کے سامنے اٹھارہ چھکے بھی درج ہیں۔

پاکستان خواتین ٹیم نے 2009 سے اب تک 113 ٹی ٹوئنٹی کھیلے ہیں جس میں انہیں 46 میں فتی، 63 میں شکستت 3 میچ برابر جب کے ایک بے نتیجہ رہا۔

گزشتہ سال پاکستانی خواتین ٹیم نے کل 14 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے تھے جن میں اسے 6 میں کامیابی حاصل ہوئی اور 8 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ان 14 میچوں میں پاکستانی ٹیم 33 چھکے لگانے میں کامیاب ہوئی جبکہ اس کے خلاف 41 چھکے لگے۔

پاکستان کے ان 33 چھکوں میں ندا ڈار کے 11 چھکے شامل تھیں۔ اس طرح وہ گزشتہ سال آسٹریلیا کی ایلیسا ہیلی اور ویسٹ انڈیز کی ہیلی میتھیوز کے ساتھ سب سے زیادہ چھکے لگانے والی کھلاڑی تھیں۔

ندا ڈار

،تصویر کا ذریعہJan Kruger-ICC

،تصویر کا کیپشنندا ڈار کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 1086 رنز کے سامنے اٹھارہ چھکے بھی درج ہیں

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مایوس کن ریکارڈ

پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم اب تک کھیلے گئے چھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپس میں چوبیس میچ کھیل چکی ہے جن میں اس نے صرف چھ جیتے ہیں اور اٹھارہ میچوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سنہ 2009 اور 2010 کے عالمی ایونٹ میں تمام میچز ہارنے کے بعد 2012 میں اس نے پہلی کامیابی بھارت کے خلاف ایک رن سے حاصل کی تھی۔

سنہ 2014 میں اس نے آئرلینڈ کو چودہ رنز سے اور سری لنکا کو بھی چودہ رنز سے ہرایا تھا۔

سنہ 2016 میں اس نے بنگلہ دیش کو نو وکٹوں سے ہرایا لیکن اس کی سب سے یادگار کامیابی ایک بار پھر بھارت کے خلاف تھی جسے اس نے دو رنز سے شکست دی تھی۔

سنہ 2018 میں پاکستانی ٹیم نے آئرلینڈ کو 38 رنز سے شکست دی۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستانی خواتین ٹیم دس مرتبہ 100 سے کم سکور تک محدود رہی ہے۔ اس کا سب سے کم سکور 60 رنز ہے جو اس نے 2009 میں انگلینڈ کے خلاف بنایا تھا۔