’پتہ نہیں وقار یونس کہاں کھوئے ہیں!‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
ڈیوڈ وارنر کا بلا گھومے جا رہا تھا، سکور بورڈ چڑھتا جا رہا تھا اور پاکستانی فیلڈرز کے چہرے اترتے جا رہے تھے۔
لگ بھگ ساڑھے تین سو منٹ تک ڈیوڈ وارنر کریز پر موجود رہے۔ یہ ساڑھے تین سو منٹ پاکستانی بولرز، فیلڈرز، فینز اور ڈریسنگ روم پہ قہر کی مانند گزرے۔
یہ بھی پڑھیے
جیسے ستیاجیت رے کی 'نوئر' موویز میں کوئی ایک کردار کسی ایسی صورتِ حال میں گِھر جاتا ہے جہاں سے اسے نکلنے کا کوئی رستہ نظر نہیں آتا اور باقی ساری کہانی کا سفر عجیب سی اذیت میں کٹتا ہے۔ پاکستان بھی ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے پہلے دونوں دن اسی بے نام سی اذیت میں مبتلا رہا۔ گابا کی ہار کے بعد پوری دنیا نے انگلیاں اٹھائی تھیں کہ محمد عباس کو کیوں نہیں کھلایا، یہاں کِھلا کے بھی دیکھ لیا۔
سب کہہ رہے تھے حارث سہیل کو ڈراپ کر کے امام الحق کو لایا جائے، لا کے بھی دیکھ لیا۔ سب بولے نسیم شاہ ابھی تیار نہیں تھے، موسیٰ خان سیم کر لیتے ہیں تو انہیں کیوں موقع نہیں دیا گیا، موقع دے کے بھی دیکھ لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے ایڈیلیڈ ٹیسٹ جیتنے کے لیے اپنے تمام تر دستیاب وسائل جھونک دیے مگر پھر بھی کہیں سے کوئی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہ آیا۔
ہاں ایک چیز جو پاکستان نے نہیں کی اور وہی چیز شاید اس ساری خجالت کی وجہ بھی بنی، وہ تھی گیند کو سٹمپس کی لائن کے اندر رکھنا۔
شاہین شاہ آفریدی اپنا اکیسواں اوور پھینک رہے تھے۔ اس اوور کی کوئی بھی گیند بری نہیں تھی، پچ سے باؤنس بھی مل رہا تھا اور آفریدی سیم بھی کر رہے تھے مگر وارنر اس قدر پر اعتماد ہو چکے تھے کہ اتنی اچھی بولنگ کے باوجود اوور سے گیارہ رنز لوٹ لیے۔
آفریدی نے یقیناً سوچا ہو گا کہ کوئی بدقسمتی ہی تھی جو اتنے اچھے اوور میں بھی دو چوکے پڑ گئے۔ یہ یقیناً بدقسمتی ہی تھی جو لائن ٹھیک ہونے کے باوجود دو گیندوں کی لینتھ ذرا سی پیچھے رہ گئی تھی۔
آسٹریلوی وکٹوں پہ لینتھ کی اتنی خفیف سی گڑبڑ ہی بلے باز کا اعتماد اٹھانے کو کافی ہوتی ہے۔ پہلے دن کے اختتام پہ عباس نے بجا کہا کہ دو نہایت پُر اعتماد بلے باز کریز پہ موجود تھے، اس لیے وکٹ لینا مشکل تھا۔
مگر ساتھ ہی عباس نے یہ بھی کہا کہ پچ سے بولرز کو قطعاً کوئی مدد نہیں ملی۔ جب تک آسٹریلیا کی بیٹنگ جاری تھی، عباس کی رائے درست معلوم ہو رہی تھی۔
مگر جونہی پاکستان کو بیٹنگ کا کہا گیا، اچانک وکٹ بھی نہایت باؤنسی ہو گئی اور گیند بھی سوئنگ ہونے لگا۔ لیکن شاید وکٹ پہلے سے ہی ایسی تھی، پاکستانی پیسرز دراصل اس لینتھ سے ہی دور بھٹکتے رہے جہاں سے مچل سٹارک گیند کو اچانک باؤنس کے ساتھ اندر لانے لگے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیریز کے آغاز سے قبل وقار یونس نے کہا تھا کہ نوجوان فاسٹ بولرز پاکستان کا مستقبل ہیں اور ان کا ٹیلنٹ آسٹریلوی بلے بازوں کا امتحان لے گا بشرطیکہ وہ ایک خاص ڈسپلن کے تحت بولنگ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایشین بولرز جب ان وکٹوں پہ اچانک گیند کو اچھل کر اندر باہر جاتے دیکھتے ہیں تو ضرورت سے زیادہ پُرجوش ہو جاتے ہیں۔ انھیں صبر اور ڈسپلن کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
گابا ٹیسٹ کے 157 اوورز اور ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے شدید اذیت ناک 127 اوورز میں تو وہ ڈسپلن ہمیں کہیں نظر نہیں آیا۔ پتہ نہیں وقار یونس کہاں کھوئے ہیں؟







