فواد عالم کی قائد اعظم ٹرافی میں ڈبل سنچری: پاکستانی ٹیم میں واپسی کے لیے کرکٹ شائقین کے دلچسپ مشورے

،تصویر کا ذریعہTwitter/@TheRealPCB
- مصنف, عمیر سلیمی اور عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستانی بلے باز فواد عالم نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی 33ویں سنچری کے ساتھ نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے دروازے پر ایک بار پھر دستک دی ہے بلکہ شائقین کو بھی متواتر کارکردگی دکھا کر انھیں اپنے لیے متحرک کر دیا ہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم دورہ آسٹریلیا میں پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد بظاہر مشکل میں نظر آ رہی ہے۔ دسمبر میں سری لنکن ٹیم پاکستان میں دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز کھیلے گی۔ اس تناظر میں بھی کچھ شائقین فواد عالم کی ٹیم میں شمولیت کے خواہش مند ہیں۔
فواد عالم نے آخری مرتبہ 2015 میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی جب انھیں بنگلہ دیش کے خلاف ایک روزہ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ ماضی میں ٹی 20 کی ٹیم میں کھیلنے والے فواد نے 2010 میں آخری مرتبہ اس فارمیٹ میں پاکستان کے لیے کھیلا تھا اور اس سے ایک برس قبل نیوزی لینڈ کے خلاف انھوں نے اپنا تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
فواد عالم کو پاکستانی کرکٹ ٹیم میں کیوں شامل نہیں کیا جاتا؟
پچھلے کئی برسوں سے پاکستان کی قومی ٹیم کے تناظر میں یہی ممکنہ طور پر سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کسی بھی کرکٹر کی سلیکشن کے لیے سلیکٹرز کے پاس ٹھوس دلیل اور جواز موجود ہوتا ہے اور جب کسی کرکٹر کو منتخب نہ کیا جائے تو اس کا بھی سلیکٹرز کے پاس معقول جواز ہونا چاہیے۔ لیکن فواد عالم کے معاملے میں ہمیں آج تک ایسی کوئی ٹھوس وجہ نظر نہیں آئی۔
ایک چیف سلیکٹر سے جب فواد عالم کو ٹیم میں شامل نہ کیے جانے کا سوال کیا گیا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا: ’آپ مجھ سے ہی کیوں پوچھتے ہیں؟ مجھ سے پہلے جن چیف سلیکٹرز نے سلیکٹ نہیں کیا ان سے بھی پوچھ لیتے۔‘
ایسا بھی ہوا ہے کہ فواد عالم کو قومی کیمپ میں بلایا گیا اور وہ دوسرے کھلاڑیوں سے زیادہ فِٹ قرار پائے لیکن ان کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی پھر بھی ایک خواب ہی رہی۔
فواد عالم اب کریں تو کیا کریں؟
گذشتہ ہفتے سابق پاکستانی کپتان شاہد آفریدی نے جب کچھ کھلاڑیوں کے لیے دعوت رکھی تو اس میں فواد عالم بھی شریک ہوئے۔ اس ڈنر کی ایک ویڈیو میں شاہد آفریدی فواد عالم سے پوچھتے ہیں ’ڈومیسٹک کے بریڈ مین۔۔۔ خیریت ہے ڈراموں میں آ رہے ہو آج کل؟‘ تو جواب میں فواد عالم کہتے ہیں ’ایک ڈرامہ کیا ہے بس۔۔۔ کرکٹ کے بعد بھی تو کچھ کرنا ہے۔‘
مواد دستیاب نہیں ہے
Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.Facebook پوسٹ کا اختتام
لیکن بات محض ڈراموں تک نہیں رکتی۔ فواد عالم ماضی میں ماڈلنگ بھی کر چکے ہیں اور کئی بار مارننگ شوز کی زینت بن چکے ہیں۔
لیکن معروف سپورٹس تجزیہ نگار اور میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز سمجھتے ہیں کہ ایسے بھی بات نہیں بنے گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام
انھوں نے اپنے طنزیہ انداز میں ٹوئٹر پر لکھا: ’فواد عالم کو پی سی بی کے چیئرمین اور سی ای او کے کمرے میں جانا چاہیے۔ پھر مصباح کو فون کرنا چاہیے اور ان سب سے معافی مانگنی چاہیے کہ انھوں نے اچھی کرکٹ کھیلنے کا انتخاب کیا۔ انھیں شرم آنی چاہیے کہ وہ قابلیت رکھتے ہیں، اچھی کارکردگی دیتے ہیں، اور پھر آرام سے بیٹھ جاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@DrNaumanNiaz

،تصویر کا ذریعہTwitter/@DrNaumanNiaz
ایک دوسرے پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’ہو سکتا ہے پی سی بی، سلیکٹرز اور باقی سب شرمندہ ہو رہے ہوں۔ ان کی عمر بھی اہمیت کی حامل نہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ فٹ ہیں۔‘
سابق پاکستانی وکٹ کیپر بلے باز راشد لطیف نے فواد عالم کو ان کی ڈبل سنچری پر مبارکباد پیش کی اور کہا 'بہتری کی طلب خود کی حوصلہ افزائی کا واحد طریقہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@iRashidLatif68
فواد عالم کی ڈبل سنچری پر دیگر مشوروں میں ایک عجیب رائے بھی شامل تھی۔ عمر یوسف نامی صارف کہتے ہیں کہ فواد عالم نے ’سلیمانی ٹوپی‘ پہنی ہوئی ہے۔ ’جب تک فواد عالم سلیمانی ٹوپی نہی اتارے گا تو سلیکٹرز اُسے کیسے دیکھیں گے.‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@omerfarooqkhany
انھوں نے ’ایک اور مشورہ‘ یہ دیا کہ ’فواد عالم اپنا نام اور ڈومیسائل تبدیل کر لے پھر قسمت یاوری کر سکتی ہے۔‘
اسی دوران ایک صارف نے لکھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ یا انگلینڈ میں انھیں رکھ لیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MCMLXIV
کرکٹرز کے علاوہ اب تو پاکستان کے دیگر شعبوں کے لوگ بھی فواد عالم کے لیے وقتاً فوقتاً آواز اٹھاتے ہیں۔
پاکستانی اداکار فہد مصطفیٰ بھی یہ بولنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ’اگر ڈومیسٹک کارکردگی کوئی معنی نہیں رکھتی تو ان ٹورنامنٹس کا مقصد کیا ہے۔ فواد عالم ٹیسٹ سکواڈ کے لیے مستحق امیدوار ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@fahadmustafa26
کرکٹ شائقین کی طرف سے داد وصول کرنے پر فواد عالم نے اپنے عاجزانہ انداز میں کہا کہ ’تمام لوگوں کو شکریہ جنھوں نے پیار بھرے پیغامات پھیجے اور ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی۔ میری حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔‘
تاہم بعض سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ ہوسکتا ہے فواد عالم بین الاقوامی کرکٹ میں قومی ٹیم کے لیے اچھی کارکردگی نہ دکھا پائیں۔
صارف سہیل راجہ لکھتے ہیں ’فواد عالم صرف ڈومیسٹک کرکٹ میں مردہ پچز پر اوسط بولنگ اٹیک کے سامنے پرفارم کر سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@sohailraja70
بین الاقوامی کریئر میں اتار چڑھاؤ
فواد عالم کے بین الاقوامی کریئر کا آغاز 2007 میں سری لنکا کے خلاف شروع ہوا تھا، لیکن وہ ون ڈے میں پہلی ہی گیند پر صفر پر آؤٹ ہوگئے تھے۔ انھوں نے اسی سال جنوبی افریقہ میں ہونے والے پہلے ورلڈ ٹی20 میں پاکستان کی نمائندگی کی، لیکن وہ صحیح معنوں میں اس وقت شہ سرخیوں میں آئے جب انہوں نے 2009 میں سری لنکا کے خلاف کولمبو میں اپنے پہلے ٹیسٹ میں 168 رنز کی شاندار اننگز کھیل ڈالی۔
یہ پہلا موقع تھا کہ کسی پاکستانی بیٹسمین نے ملک سے باہر اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں سنچری بنائی ہو۔ اس اننگز کا پس منظر بھی خاصا دلچسپ ہے۔
کپتان یونس خان نے گال ٹیسٹ میں غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ گنوانے والے سلمان بٹ کو ڈراپ کر کے فواد عالم کو کولمبو ٹیسٹ کھلانے کا فیصلہ کیا۔ کپتان نے ان سے کہا کہ تم نے اوپنر کی حیثیت سے کھیلنا ہے، جس پر فواد عالم پریشان ہوگئے۔ لیکن یونس خان نے انھیں اپنی مثال دیتے ہوئے حوصلہ دیا اور بتایا کہ وہ ساتویں، آٹھویں نمبر سے ہوتے ہوئے کس طرح ون ڈاؤن بیٹسمین کے طور پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
فواد عالم کی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ کولمبو ٹیسٹ کے بعد صرف دو ٹیسٹ میچز ہی کھیل پائے، اس کے بعد انھیں کسی ٹیسٹ میں موقع نہیں دیا گیا حالانکہ تین ٹیسٹ میچوں میں ان کی بیٹنگ اوسط 66.41 تھی۔
ان کا 2015 میں انگلینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان ٹیم میں انتخاب ہوا لیکن تین میں سے ایک بھی ٹیسٹ نہ کھیل پائے۔
فواد عالم کا ون ڈے کریئر بھی 40.25 کی اوسط پر آکر رکا گیا۔ ون ڈے میچوں میں ان کی ایک سنچری اور چھ نصف سنچریوں کی مدد سے بنائے گئے رنز کی تعداد 966 ہے۔
2015 کے ورلڈ کپ کے بعد بنگلہ دیش کے خلاف کھیلی گئی ون ڈے سیریز کے بعد سے فواد عالم پاکستانی ٹیم میں واپسی کے منتظر ہیں۔ اس سیریز کے تینوں میچوں میں وہ متاثرکن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے تھے، لیکن اس کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹ میں مسلسل شاندار کارکردگی دکھا کر وہ اپنا کیس مضبوط بناتے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@TheRealPCB
فرسٹ کلاس کرکٹ میں مستقل مزاجی
فواد عالم کی ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2014 سے 2015 کے ڈومیسٹک سیزن میں انھوں نے 719 رن بنائے۔
سیزن 2015-2016 میں ان کے رنز کی تعداد 672 تھی۔
اس سے اگلے سال انھوں نے 499 رنز بنائے، جبکہ 2017-2018 میں 570 رنز بنا پائے۔
ایسے اعداد و شمار کی روشنی میں کوئی بھی بیٹسمین کیسے زیادہ عرصے ٹیم سے باہر رہ سکتا ہے؟ یہ ابھی تک ایک معمہ ہے۔











