سعودی عرب اور قطر کی لڑائی میں پھنسی انگلش پریمیئر لیگ

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, بین سدرلینڈ
- عہدہ, سپورٹس ایڈیٹر، بی بی سی ورلڈ سروس
انگلش پریمیئر لیگ کے افسران سمیت فٹبال کی تنظمیوں کے سربراہان نے سعودی عرب کے سیٹلائٹ آپریٹرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پائریسی یعنی غیر قانونی نشریات کو پلیٹ فارم مہیا نہ کریں۔
مشرق وسطیٰ میں زیادہ تر فٹبال میچوں کی نشریات کے حقوق قطری کمپنی الجزیرہ نیٹ ورک کا حصہ بی اِن سپورٹس کے پاس ہیں تاہم ’بی آؤٹ کیو‘ نامی ایک براڈکاسٹر سعودی عرب میں اپنے صارفین کو یہ میچ مفت دکھا رہا ہے۔
ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی آؤٹ کیو سعودی عرب کے سیٹلائٹ آپریٹر عرب سیٹ کا انفرسٹرکچر استعمال کر کے بی این سپورٹس کی فیڈ صارفین کو مفت پہنچا رہا ہے۔
البتہ عرب سیٹ کا کہنا ہے کہ ان کا بی آؤٹ کیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بی آؤٹ کیو کے غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں میچز کو نشر کرنے سے قطری کمپنی بی این سپورٹس کی آمدن میں خاطر خواہ کمی آئی ہے کیونکہ جب صارفین کو وہی سروس مفت میں فراہم ہو رہی ہے تو وہ رقم کے عوض سروس کیوں خریدیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہESA
مختلف فٹبال لیگز ناراض کیوں ہیں؟
اس کا جواب ایک ہی ہے اور وہ ہے پیسہ۔
بڑی فٹبال لیگز، جیسے سپین کی لا لیگا، انگلش پریمیئر لیگ دنیا بھر میں کھیل کے شائقین میں بہت مقبول ہیں اور ان کے مقابلے میں دنیا بھر میں بڑے شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے سیٹلائٹ چینلنز ان کی نشریات کے حقوق لاکھوں اور کروڑوں ڈالروں کے عوض حاصل کرتے ہیں اور پھر مخصوص فیس کے عوض وہ نشریات لوگوں کو دکھا کر رقم کماتے ہیں۔
یہ وہ رقوم ہیں جن کی وجہ سے انگلش پریمیئر لیگ ایک بہت امیر فٹبال لیگ بنی اور بی این سپورٹس کا شمار ایسی کمپنیوں میں ہوتا ہے جو بڑی رقوم کے عوض حقوق خریدتی ہیں۔
لیکن اس کمپنی کی فیڈ کو کوئی اور کمپنی چوری کر کے صارفین کو مفت فراہم کرنا شروع کر دے تو اس سے یقیناً بی این سپورٹس کی آمدن پر کاری ضرب لگے گی اور اگلی بار شاید وہ میچوں کے حقوق کی خریداری کے قابل بھی نہ رہے۔
اس کا سعودی عرب سے کیا لینا دینا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ بی آؤٹ کیو یہ سب کچھ قطر کو تنگ کرنے کی کوشش میں کر رہا ہے۔
سنہ 2018 کے فٹبال ورلڈ کپ میں جانے پہچانے سعودی کمنٹیٹرز قطر کے اپوزیشن رہنماؤں کے ناموں کے ذریعے بی این سپورٹس کی فیڈ پر کمنٹری کرتے ہوئے سنے جا سکتے تھے اور یہ میچ بی این سپورٹس کے لوگو کو ہٹا کر صارفین کو مفت میں دکھائے جا رہے تھے۔
اس کے علاوہ بی آؤٹ کیو ایسے اشتہارات بھی دکھا رہا تھا جس میں قطر اور اس کی ایئرلائن کمپنی کا تمسخر اڑیا جاتا تھا۔
سعودی عرب اور قطر کے مابین 2017 میں شروع ہونے والی سفارتی جنگ کے بعد سعودی عرب نے بی این سپورٹس پر سعودی عرب میں پابندی عائد کر رکھی ہے۔
سعودی عرب نے 2017 میں یہ کہہ کر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے تھے کہ وہ شدت پسندوں کی حمایت کرتا ہے۔
قطر اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف پابندیوں کی وجہ ایران کے ساتھ اس کے معاشی مراسم ہیں جو سعودی عرب کو پسند نہیں۔
سعودی عرب نے بی این سپورٹس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے خطے میں نشریات کے حقوق پر اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ بی این سپورٹس کا کہنا ہے کہ اس الزام کے سیاسی محرکات ہیں۔
اب کیا ہو گا؟
اطلاعات کے مطابق بی آؤٹ کیو کی نشریات کو سعودی عرب میں منتشر کیا گیا ہے لیکن اس سے نہ تو قطریوں کی دلجوئی ہوگی اور نہ کھیلوں کی تنظیموں کی۔
انھوں نے عرب سیٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی نشریات کو پلیٹ فارم دینا بند کرے جس سے نہ صرف ان کے حقوق پامال ہوتے ہیں جن کے پاس نشریات کے حقوق ہیں بلکہ اس سے شائقین اور کھلاڑیوں کا بھی نقصان ہوتا ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید قطری کمپنی بی اِن سپورٹس میچوں کے حقوق حاصل کرنے کی دوڑ سے ہی نہ نکل جائے جیسا کہ وہ فارمولہ ون سے کر چکی ہے۔
جب قطری کمپنی بی این سپورٹس فارمولہ ون کی نشریات کے حقوق سے علیحدہ ہوئی تو اس نے سعودی عرب پر پائریسی کا الزام عائد کیا تھا۔










