مکی آرتھر، اظہر محمود، گرانٹ فلاور اور گرانٹ لوڈن کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ

مکی آرتھر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے مکی آرتھر نے 28 ٹیسٹ میچوں میں ذمہ داریاں نبھائیں جن میں سے پاکستان نے 10 میچ جیتے، 17 ہارے جبکہ ایک ٹیسٹ ڈرا رہا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہیڈ کوچ مکی آرتھر سمیت قومی کرکٹ ٹیم کے کوچنگ سٹاف کے معاہدوں میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مکی آرتھر کے علاوہ جن افراد کے معاہدے 15 اگست کو ختم ہو رہے ہیں ان میں بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور، بولنگ کوچ اظہر محمود اور ٹرینر گرانٹ لوڈن شامل ہیں۔

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں پاکستانی ٹیم کے سیمی فائنل میں نہ پہنچ پانے کے بعد سے یہ خبریں گردش میں تھیں کہ پی سی بی کوچنگ سٹاف میں تبدیلیوں کا ارادہ رکھتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی نے چند روز قبل ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور کپتان سرفراز احمد سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

ان ملاقاتوں کے بعد کرکٹ کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کے کوچنگ سٹاف میں تبدیلیاں لانی چاہییں۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کو بھیج دی تھیں جنھوں نے بدھ کو ان سفارشات کی منظوری دے دی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں مکی آرتھر کا نام ورلڈ کپ جیتنے والی انگلش کرکٹ ٹیم کے کوچ کے لیے بھی سامنے آیا تھا۔

انگلینڈ کے موجودہ کوچ ٹریور بیلس آسٹریلیا کے خلاف ایشز سیریز کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے اور جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مکی آرتھر سے بھی انگلینڈ کی کوچنگ کے لیے بات ہو رہی ہے۔

مکی آرتھر بطور پاکستانی کوچ کتنے کامیاب ثابت ہوئے؟

مکی آرتھر چھ مئی 2016 کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر کیے گئے تھے اور اس وقت یہ عہدہ سابق فاسٹ بولر وقار یونس کے جانے سے خالی ہوا تھا۔

مکی آرتھر کا نام کوچ تلاش کرنے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے تجویز کیا تھا جس میں رمیز راجہ اور وسیم اکرم شامل تھے۔

اظہر محمود

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبولنگ کوچ اظہر محمود کے معاہدے میں بھی توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

مکی آرتھر پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بننے سے قبل سنہ 2005 سے سنہ 2010 تک جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے کوچ رہے تھے۔

اس عرصے میں جنوبی افریقی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر رہی تھی لیکن انھیں کپتان گریم اسمتھ کے ساتھ اختلافات کے سبب عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

وہ سنہ 2011 سے سنہ 2013 تک آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کوچ بھی رہے لیکن اس دوران آسٹریلوی کرکٹرز کے ساتھ بھی ان کے اختلافات پیدا ہوئے تھے۔

جب مکی آرتھر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ بنے اس وقت پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کی باگ ڈور مصباح الحق کے ہاتھوں میں تھی جنھوں نے اپنے ٹیسٹ کریئر کا اختتام پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے کیا تھا۔

مصباح الحق کے جانے کے بعد سرفراز احمد کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم زیادہ کامیابیاں حاصل نہ کر سکی یہی وجہ ہے کہ مکی آرتھر بھی تنقید کا نشانہ بنتے رہے کہ وہ ٹیم کے لیے موثر حکمت عملی ترتیب دینے میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے مکی آرتھر نے 28 ٹیسٹ میچوں میں ذمہ داری نبھائی جن میں سے پاکستان نے صرف 10 جیتے، 17 میں شکست ہوئی اور ایک ٹیسٹ ڈرا رہا۔

گرانٹ فلاور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کا معاہدہ 15 اگست کو ختم ہو رہا ہے اور انھیں بھی توسیع نہیں دی جائے گی

ٹیسٹ کے مقابلے میں پاکستانی ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی میں کارکردگی بہت اچھی رہی اور سرفراز احمد کی قیادت میں یہ ٹیم عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر جا پہنچی۔

ون ڈے انٹرنیشنل میں مکی آرتھر کے نام کے آگے چیمپینز ٹرافی کی جیت درج ہے لیکن ون ڈے انٹرنیشنل میں بطور پاکستانی کوچ مکی آرتھر کا مجموعی ریکارڈ غیر متاثر کن ہے کیونکہ ان کے دور میں کھیلے گئے 66 ون ڈے میچوں میں سے پاکستانی ٹیم صرف 29 میچ جیتنے میں کامیاب ہو سکی، 34 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور تین میچ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔

’مکی آرتھر باب وولمر سے بڑے کوچ نہیں‘

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مکی آرتھر کے کوچ ہوتے ہوئے پاکستانی کرکٹ ٹیم نے سب سے بڑی کامیابی یقیناً چیمپینز ٹرافی میں حاصل کی لیکن اگر ان کی مجموعی کوچنگ کا جائزہ لیا جائے تو ان کا کوئی غیرمعمولی ریکارڈ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک جنوبی افریقہ، آسٹریلیا یا پاکستان کی ٹیموں میں سینیئر کرکٹرز موجود رہے مکی آرتھر کامیاب رہے۔

بازید خان کا کہنا ہے کہ مکی آرتھر باب وولمر سے بڑے کوچ نہیں ہیں حالانکہ باب وولمر نے بھی ایک اچھا کوچ ہونے کے باوجود بڑی ٹرافیاں نہیں جیتی تھیں۔

ان کے مطابق اگر پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں سیمی فائنل یا فائنل تک پہنچ جاتی تو ممکن تھا ان کے عہدے میں توسیع ہو جاتی۔