کرکٹ ورلڈ کپ 2019: شعیب ملک شیشہ پیئیں یا پیمانہ، ہمیں کیا۔۔۔

ثانیہ مرزا اور شعیب ملک

،تصویر کا ذریعہSTRDEL

،تصویر کا کیپشنورلڈ کپ میں شعیب ملک کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں
    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

نوّے کی دہائی کی پاکستانی کرکٹ دنیا بھر میں مشہور تھی۔ وجہِ شہرت ایک دو کرکٹنگ پہلو بھی تھے مگر اکثریت ایسی خبروں کی ہوتی تھی جن سے یہ معلوم پڑتا کہ ڈریسنگ روم میں کسی نے کسی کے بلّا مار دیا، کپتان نے کسی کو تھپڑ جڑ دیا، جونئیرز نے بغاوت کر دی، وغیرہ۔

اور زہے نصیب اگر ٹیم کسی بیرونی دورے پہ نکلتی تو پھر تو کافی کچھ دیکھنے کو ملتا۔ نائٹ کلبز کی فوٹیجز بھی سامنے آتیں، ’با وثوق ذرائع‘ فکسنگ کی خبریں بھی جاری کرتے اور ہوٹل میں لڑکیوں کی آمدورفت کی بھی۔

شہرت کا یہ ’سنہری دور‘ ورلڈ کپ 2003 میں اپنے انجام کو پہنچا جہاں یہ سارے ’مشہور‘ ستارے اپنے انجام کو پہنچے۔

یہ بھی پڑھیے

سپورٹس جرنلزم کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ اول تو آپ کی ٹیم کا ’مشہور‘ ہونا ضروری ہے اور پھر ہر وقت ایسی خبریں بھی پیدا کرتے رہنا کہ جو ’مشہور خبریں‘ بننے کے لائق ہوں۔ ظاہر ہے اخبار کا ایک صفحہ یا بلیٹن کے پانچ منٹ کا پیٹ بھرنے کو کچھ نہ کچھ تو چاہیے۔

حسنِ اتفاق سا ہی ہے کہ جب پاکستان ٹیم کا ڈریسنگ روم ایسے کرداروں پہ مشتمل ہوتا ہے جو خبریں لیک کریں اور ڈریسنگ روم کے راز بیچ چوراہے افشا کریں، سپورٹس مبصرین کی خوب چاندی رہتی ہے۔

حالیہ ’شیشہ سکینڈل‘ بلکہ ’شیشہ گیٹ‘ ہی کو دیکھ لیجیے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ شیشہ پینے کی فوٹیج میچ سے تین دن پہلے کی ہے، سبھی معتبر نیوز چینلز نے نہ صرف وہ فوٹیج بے دھڑک چلائی بلکہ اس پہ پُر مغز تبصرے بھی کیے۔

ان تبصروں کی روشنی میں یہ معلوم پڑا کہ بھارت سے شکست کی وجہ دراصل ناقص فیلڈنگ یا بے مغز بیٹنگ نہیں تھی بلکہ ثانیہ مرزا کی ایک فرمائش تھی جس پہ آدھی ٹیم شیشہ پینے چلی گئی۔ گو کہ یہ ’شیشہ نوشی‘ میچ سے تین دن پہلے ہوئی مگر اس کے اثرات تین دن بعد جمائیوں کی صورت کیوں نمودار ہوئے، اس بابت راوی خاموش ہے۔

سرفراز احمد کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات اب بہت کم رہ گئے ہیں

یہ بالکل ویسی ہی محققانہ صحافت ہے جو ورلڈ کپ 2015 میں بھارتی میڈیا نے انوشکا شرما کے حوالے سے کی تھی کہ سٹیڈیم میں انوشکا کی موجودگی ایسی ایمان شکن ثابت ہوئی کہ وراٹ کوہلی بیٹنگ کرنا بھول گئے۔

یہ بھی پڑھیے

گویا گیارہ مردوں کی ٹیم محض ایک لڑکی کی موجودگی یا ایک بیوی کی اپنے شوہر سے فرمائش پر ایسی بےبس سی ہو جاتی ہے کہ اپنے کھیل کی مبادیات ہی بھول جاتی ہے اور 34 کیمروں کے سامنے جمائیاں لیتی دکھائی دیتی ہے۔

ہمیں اس لاحاصل بحث سے کوئی سروکار نہیں کہ پلئیرز کی فیملیز کو ورلڈ کپ پہ ساتھ ہونا چاہیے یا نہیں۔ پاکستان ہر دو طرح سے تجربہ کر چکا ہے مگر فیملیز کی موجودگی یا عدم موجودگی سے ٹیم کی ناقص کارکردگی پہ کبھی کوئی فرق نہیں پڑا۔

حضور! ہار کی وجوہات جاننے کے لیے کسی شیشہ بار یا نائٹ کلب کی فوٹیج کوئی ’باوثوق‘ ذریعہ نہیں ہوتی۔ ہوٹلز اور کلب میں جانا پلئیرز کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس کا گراونڈ کی پرفارمنس سے کوئی تعلق نہیں۔

ثقافتی اعتبار سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ بار اور کلب شاید آسٹریلین پلئیرز جاتے ہوں گے مگر وہ چار ورلڈ کپ جیت چکے ہیں۔

تحقیقی صحافت محض ڈریسنگ روم کے راز افشا کرنا نہیں ہوتی۔ ہار کی وجوہات ڈھونڈنے کے لیے ذرا سی وسعتِ نظر بھی چاہیے۔ بھارت سے ہار اور ورلڈ کپ میں ناقص پرفارمنس کی وجوہات جاننا ہے تو دو سال پہلے کے فیصلوں میں جھانکیے جب کرکٹ کے مقدمے ٹی وی پہ لڑ کر کپتان چنے جا رہے تھے۔

مصباح الحق کے دور میں کبھی ڈریسنگ روم کی کوئی بات ٹی وی پہ نہیں آئی نہ ہی کبھی کوئی شیشہ پیتے نظر آیا۔ اور نہ ہی شکست کی وجہ کبھی کسی کی جمائیاں ٹھہریں۔ مگر یہ دور بعض ’مبصرین‘ پہ بہت بھاری گزرا جنہیں سارا غصہ مصباح پہ نکالنا پڑتا تھا۔

مصباح کے بعد اگر اظہر علی کو نہ ہٹایا جاتا تو چار سال مزید ایک بورنگ ڈریسنگ روم کو جھیلنا پڑتا۔ اس لیے کرکٹ کے مقدمے لڑ کر ایسی ٹیم اور ایسے کردار لانا ضروری تھا کہ جن کے ہوتے شکست کی وجہ ڈھونڈنا اتنا ہی آسان ہو جتنا شیشہ پینا، یہ جانے بغیر کہ کوئی آپ کی ویڈیو بھی بنا سکتا ہے۔