انڈیا بمقابلہ پاکستان: انڈین ہو کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت؟ کیوں نہیں!

،تصویر کا ذریعہEamonn McCormack-IDI
کرکٹ ورلڈ کپ میں انڈیا اور پاکستان کا میچ بس اتوار کو ہونے ہی والا ہے۔ دونوں ممالک میں کرکٹ کے شائقین اس میچ کا بےصبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
کرکٹ کے میچ ویسے ہی مزیدار ہوتے ہیں لیکن انڈیا پاکستان رائیولری کی بات ذرا الگ ہے۔ جو جوش، جو جذبہ، جو شدت ان دونوں ممالک کے درمیان کھیلے جانے والے میچوں کے دوران فینز میں نظر آتی ہے، اس سے تو ہم سب واقف ہیں۔
لیکن کیا کھیل اور حب الوطنی کا تعلق ناگزیر ہے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک انڈین پاکستانی ٹیم کے لیے تالیاں بجائے؟ یا ایک پاکستانی انڈین ٹیم کی حمایت کرے؟ چلیں انڈیا پاکستان میچ میں نہ صحیح، دوسرے میچوں میں؟
یہ بھی پڑھیے
ٹوٹر پر بابا گلوکل کے نام سے ایک ہینڈل نے انڈین مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’بااثر مسلمانوں کو اگر پاکستان کی ٹیم اور ان کا کھیل پسند ہے تو انھیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔۔۔۔ ہراساں ہونا بند کریں۔ کوئی کسی کو حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ دینے کا اہل نہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
انہوں نے مزید لکھا کہ، ’آپ ایک ملک میں رہتے ہیں، وہاں ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ آپ کی شہریت کی وجہ سے وہ ملک آپ کو کچھ سہولیات فراہم کرتا ہے اور آپ کا خیال رکھتا ہے۔ آپ اس ملک سے پیار کریں یا اس پر تنقید کریں، یہ آپ پر ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ویسے تو پاکستان ان کی پسندیدہ ٹیم نہیں ہے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ انڈیا ہارے تاکہ وہ ایک بار پھر ندامت کی قیمت سمجھ سکے۔
’فتح، انتہا پسندی کی حد تک قوم پرستی، گھمنڈ اور بےانتہا پیسہ، اس سب سے ہم اوروں کی نظروں میں چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ اور اگر ہم فیلڈ پر معمول کی سپورٹس مینشپ کا مظاہر کریں تو وہ بھی بڑی خبر بن جاتی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
بابا گلوکل کی ان باتوں سے ہمیں لگا کہ کیوں نہ سوشل میڈیا پر کچھ ایسے لوگوں کو تلاش کریں جو ایک دوسرے کی ٹیموں کو سپورٹ کرتے ہیں اور ایک نہیں ہمیں ایسے بہت سے لوگ ملے۔
اتنے لوگوں کا ذکر اس مختصر خبر میں ممکن نہیں۔ کچھ سے آپ کو ملواتے ہیں۔۔

،تصویر کا ذریعہSANA
ہمیں ثنا ملیں، جو پاکستانی ہیں، اور جن کے شوہر بِکرم انڈین ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا میچ میں ان کے شوہر ان کے ساتھ سٹیڈیم میں انڈین ٹیم کی جرسی پہن کر پاکستان کی پرزور حمایت کرتے رہے۔
ثنا کہتی ہیں کہ پاکستانی شائقین ان سے بہت خوش تھے اور ان کے شوہر ’کم آن جیجا جی‘ کہہ کہہ کر شعیب ملک کی حوصلہ افزائی کرتے رہے!
ہمیں پربھات ہنڈو ملے جو انڈین ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ نوے کی دہائی میں پاکستانی ٹیم کے بہت بڑے فین تھے۔
انڈیا پاکستان میچ میں نہیں لیکن پاکستانی ٹیم کو کھیلتا دیکھنے میں بہت مزہ آتا تھا۔
ہمیں زبیدہ جعفری ملیں، جو پاکستانی ہیں، اور کہتی ہیں کہ سیاست کو الگ کر دیں تو انڈین ٹیم ان کی نظر میں اس وقت کی بہترین ٹیم ہے اور انڈیا نے کھیل کو ہمیشہ عمدہ کھلاڑی دیے ہیں۔
ہمیں یہ بھی پتا چلا کہ پاکستانی ٹیم کے فینز کے علاوہ انڈیا میں بہت سارے لوگ آج بھی وسیم اکرم کے مداح ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDavid Hallett
پرشیل جو انڈیا سے ہیں، نے لکھا، کہ وسیم اکرم کے اِن سوِئنگر سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ کس قدر عمدہ بالر! انڈیا کے پاس ایسا بالر کبھی نہیں تھا۔‘
نیرجا گوگوئی بھی انڈیا سے ہیں اور ان کی امی وسیم اکرم کی بہت بڑی فین ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
اروِند نے لکھا کہ وہ بچپن سے وسیم اکرم اور عمران خان کے مداح ہیں۔ 92 کے ورلڈ کپ کی بہت میٹھی یادیں ہیں جب انہوں نے پاکستان کو سپورٹ کیا تھا۔۔ ’ایک کرکٹ فین کی حیثیت سے کبھی کوئی نفرت نہیں، صرف ستائش ہی کی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGareth Copley-IDI
ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ بہت سارے پاکستانی موجودہ انڈین ٹیم اور کھلاڑیوں کے بہت بڑے مداح ہیں۔
پاکستان سے خرم اقبال نے لکھا کہ ’کوہلی اور انڈین ٹیم کے لیے صرف پیار ہے۔ اگر پاکستان اس مقابلے سے باہر ہو جائے تو میں یہ امید کروں گا کہ انڈیا ورلڈ کپ جیت جائے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
پاکستان سے ہی عدیل نے کہا ’یہ انڈین ٹیم بہت ہی اچھی ہے اور قوم پرستی سے پرے اس کی پذیرائی کی جانی چاہیے۔‘
تو بات یہ ہے کہ کرکٹ ایک کھیل ہے اور انڈیا پاکستان کا مقابلہ مزےدار اور پرجوش تو ہمیشہ رہا ہے، اور رہے گا لیکن اس جوش کے پیچھے نفرت ہو یہ ضروری نہیں۔ اپنی ٹیم کو سپورٹ کرتے ہوئے بھی دوسری ٹیم کی اچھائیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اور شاید ایسے کھیل کا مزہ اور بھی بڑھ جاتا ہے!









