کرکٹ ورلڈ کپ 2019: فائنل کھیلنا ہے تو ہمیں بڑی ٹیموں کو ہرانا ہوگا، امام الحق

امام الحق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ٹانٹن، سمرسٹ

پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں اپنا چوتھا میچ بدھ کے روز عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے خلاف ٹانٹن کے میدان میں کھیلنے والی ہے۔ اس سے قبل اسے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں سات وکٹوں سے شکست ہوئی تھی۔دوسرے میچ میں ٹیم نے عالمی نمبر ایک انگلینڈ کو ہرایا تھا لیکن سری لنکا کے خلاف میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا اور اسے ایک پوائنٹ پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔

امام الحق نے پیر کے روز ٹانٹن میں بی بی سی اردو کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ سب کو پتہ ہے کہ سری لنکا کے خلاف دو پوائنٹس بڑی اہمیت کے حامل تھے کیونکہ دیگر ٹیموں کی طرح سری لنکا کی ٹیم سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو خطرہ نہیں تھا لیکن جو ہوگیا اسے وااپس نہیں لایا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیے

Facebook پوسٹ نظرانداز کریں

مواد دستیاب نہیں ہے

Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.

Facebook پوسٹ کا اختتام

امام الحق نے کہا کہ اگر پاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنا ہے تو اسے بڑی ٹیموں کو ہرانا ہوگا کیونکہ جیت کا اصل مزا اسی وقت آتا ہے جب آپ بڑی ٹیموں کو ہراتے ہیں اور کھلاڑیوں کا مورال بھی بلند ہوتا ہے جیسا کہ پاکستانی ٹیم چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو ہرا کر فائنل میں پہنچی تھی۔

امام الحق کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں پانچ صفر کی شکست کبھی بھی ذہن میں نہیں رہے گی کیونکہ ورلڈ کپ میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ ٹیم کا مورال مختلف ہے اور کھلاڑیوں میں خود اعتمادی موجود ہے۔

امام الحق آسٹریلوی فاسٹ بولرز مچل اسٹارک کو خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ وہ ان کا سامنا کرنے کے لیے ُپرجوش ہیں۔

امام الحق کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے جوفرا آرچر اور مارک ووڈ بھی خطرناک بولرز تھے اسی طرح وہ جنوبی افریقہ میں ربادا اور اسٹین کو بھی کھیلے تھے جہاں کنڈیشنز زیادہ مشکل تھیں۔ کوئی بھی بولر ہو آپ اسے خطرہ نہیں کہہ سکتے البتہ آپ زیادہ تیار رہتے ہیں کیونکہ یہ ورلڈ کپ کی بہترین ٹیمیں ہیں۔

امام الحق کا کہنا ہے کہ وہ حریف بولرز کے خلاف تیاری اپنی قوت کے اعتبار سے کرتے ہیں اور اسی کے مطابق گراؤنڈ میں جا کرکارکردگی دکھائیں۔

امام الحق کا کہنا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں زیادہ تر کامیابی انہی ٹیموں کو مل رہی ہے جن کے پہلے تین بیٹسمین فارم میں ہیں اور اچھی کارکردگی دکھارہے ہیں۔ درحقیقت اس وقت ون ڈے کرکٹ میں پہلے تین بیٹسمینوں کا فارم میں ہونا اور ٹیم کے لیے اچھی بنیاد فراہم کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔

اکیس سالہ امام الحق دو بار انڈر19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامام الحق دو بار انڈر19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی طرف سے کھیل چکے ہیں

امام الحق کا ون ڈے انٹرنیشنل کا ریکارڈ خاصا متاثر کن ہے۔ وہ 30 میچوں میں چھ سنچریاں اور پانچ نصف سنچریاں بنا چکے ہیں اور ان کی بیٹنگ اوسط 57 سے زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود انہیں صرف اس لیے تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے کہ وہ چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے ہیں۔

امام الحق کا کہنا ہے کہ وہ بھی انسان ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ اس طرح کی باتوں سے انہیں تکلیف نہ پہنچے اور خاص طور پر اسوقت جب آپ کی کارکردگی بھی اچھی ہو لیکن پھر بھی آپ پر تنقید ہو۔ لیکن اسی چیز نے انہیں ذہنی طور پر بہت زیادہ مضبوط بنا دیا ہے۔

امام الحق کا کہنا ہے کہ ان کی توجہ صرف اور صرف کرکٹ اور خاص طور پر اس ورلڈ کپ پر ہے یہ ایونٹ ان کے لیے اور پوری ٹیم کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے۔ جہان تک ناقدین کا تعلق ہے تو وہ ساری زندگی بولتے رہیں گے۔ تنقید کو وہ قبول کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم اور ملک کے لیے کارکردگی دکھاتے رہیں۔