کرکٹ ورلڈ کپ 2019: جنوبی افریقہ کو 104 رنز سے شکست دے کر عالمی کپ میں انگلینڈ کا پراعتماد آغاز

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لندن میں 12ویں ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں میزبان انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کو 104 رنز کے واضح فرق سے شکست دے کر اس ٹورنامنٹ میں اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

اس ٹورنامنٹ کے شروع ہونے سے قبل پانچویں مرتبہ عالمی کپ کی میزبانی کرنے والے ملک انگلینڈ کی ٹیم کو ’فیورٹ‘ قرار دیا جا رہا تھا جس کا بھرپور مظاہرہ انھوں نے پہلے ہی میچ میں کر دیا۔

جنوبی افریقہ نے اس میچ میں ٹاس جیت کر انگلینڈ کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی اور انگلینڈ نے آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 311 رنز سکور کیے۔

انگلینڈ کے 311 رنز کے جواب میں جنوبی افریقہ کی بیٹنگ مکمل طور پر ناکام نظر آئی اور ان کے لیے پچاس اوور پورے کرنا بھی دشوار ہو گیا۔ جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم چالیسویں اوور میں 207 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

سٹوک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسٹوک نے بیٹنگ اور بالنگ میں بھی اچھی کارکردگی دکھائی

جنوبی افریقہ کی بیٹنگ جو شروع ہی میں لڑکھڑا گئی تھی اننگز کے کسی بھی مرحلے پر اپنے قدم نہ جما سکی اور ووکٹیں گرنے کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔

وکٹیں گرنے کی رم جھم انگلش کھلاڑیوں کی نپی تلی بالنگ کے علاوہ شاندار فلیڈنگ کی وجہ سے بھی جاری رہی۔

بلا خوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ سٹوک نے باونڈری پر پھلکوائیو کا جو کیچ پکڑا اس نے عالمی کپ میں فیلڈنگ کا نیا معیار قائم کر دیا ہے جسے دوسری ٹیموں کے لیے برقرار رکھنا شاید آسان نہ ہو۔

گو انگلش اننگز کے دوران جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے بھی بہت معیاری فیلڈنگ کی تھی اور کئی ایک اچھے کیچ پکڑے لیکن سٹوک کا کیچ یقیناً غیر معمولی تھا۔

میچ کے 35ویں اوور کی پہلی گیند پر عادل رشید کی گیند پر پھلکوائیو نے اچھی شاٹ لگائی تھی جسے سٹوک نے حیرت انگیز طور پر ہوا میں جست لگا کر پکڑ لیا۔

جنوبی افریقہ کے اوپنگ بلے باز ہاشم آملہ کھیل کے شروع میں ہیلمٹ پر گیند لگنے سے پویلین میں چلے گئے تھے ڈر ڈسن کے آؤٹ ہونے کے بعد کھیلنے آئے۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

جنوبی افریقی اننگز کے چوتھے اوور میں فاسٹ بولر جوفرا آرچر نے ایک تیز گیند کرائی جو ہاشم آملہ کے ہیلمٹ پر لگی اور اس کے نتیجے میں وہ میدان سے باہر چلے گئے۔

اس کے بعد آٹھویں اوور میں جوفرا آرچر نے آئڈن مارکرام کو جو روٹ کے ہاتھوں کیچ کرا دیے وہ 11 رنز بنا سکے۔

اس کے دو اوورز بعد آرچر نے ایک اور تیز گیند کرائی جسے جنوبی افریقہ کے کپتان سنبھال نہ سکے اور باؤنڈری پر معین علی کے ہاتھوں پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

وان ڈر ڈسن کا قسمت نے ساتھ دیا اور 14ویں اوور میں معین علی کی گیند پر کیپر بٹلر نے ان کا کیچ چھوڑ دیا۔

اننگز کے 18ویں اوور میں کوئنٹن ڈی کاک نے پراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی نصف سنچری 58 گیندوں پر مکمل کر لی۔

وان ڈر ڈسن کے ساتھ 85 رنز کی شراکت قائم کرنے کے بعد وہ لیام پلنکیٹ کی گیند پر اپنے شاٹ کو کنٹرول نہ کر سکے اور 68 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

تین اوورز بعد جے پی ڈومنی بھی معین علی کی گیند پر غیر ذمے دارانہ شاٹ کھیل کر باؤنڈری پر آؤٹ ہو گئے اور اس کے اگلے پی اوور میں نئے آنے والے پریٹورئیس بھی ایک رن بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجنوبی افریقہ کپتان فاف ڈو پلیسی پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے

انگلینڈ کی اننگز

اس سے قبل جب جنوبی افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی نے ٹاس جیت کر میزبان ٹیم کو پہلے بلے بازی کی دعوت دی تو جیسن رائے اور جونی بیئرسٹو نے اننگز شروع کی۔

جنوبی افریقہ نے پہلا اوور کرانے کے لیے سپنر عمران طاہر کا انتخاب کیا جنھوں نے دوسری ہی گیند پر جانی بیئرسٹو کو صفر پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کروا دیا۔

بیئرسٹو کی وکٹ گرنے کے باوجود انگلش بلے بازوں نے پراعتماد انداز اپنایا اور وہ چھ رنز فی اوور کی اوسط سے کھیل جاری رکھا۔

جیسن رائے اور جو روٹ نے دوسری وکٹ کے لیے سو رنز کی شراکت قائم کی اور اس دوران اپنی نصف سنچریاں بھی مکمل کیں۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبین سٹوکس نے بھی 45 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کر لی اور 89 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے

تاہم نصف سنچری بنانے کے فوراً بعد پہلے جیسن رائے اور اگلے ہی اوور میں جو روٹ کیچ آؤٹ ہو گئے۔

تین وکٹوں کے گرنے کے بعد کپتان مورگن اور بین سٹوکس نے بھی پراعتماد انداز جاری رکھا اور مورگن نے تین چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری مکمل کر لی۔

اس کے فوراً بعد بین سٹوکس نے بھی 45 گیندوں پر نصف سنچری بنا لی۔

مورگن اور سٹوکس نے سو رنز کی شراکت مکمل کی لیکن 37ویں اوور میں فاف ڈو پلیسی نے عمران طاہر کو دوبارہ بولنگ کے لیے بلایا اور انھوں نے کپتان مؤرگن کو 51 رنز پر کیچ آؤٹ کر دیا۔

جب جوز بٹلر اور بین سٹوکس بیٹنگ کر رہے تھے تو لگ رہا تھا کہ آخری دس اوورز میں انگلینڈ کی ٹیم 350 سے زیادہ سکور کر پائے گی لیکن جنوبی افریقہ کے بولرز نے اچھا کم بیک کیا۔

42ویں اوور میں انگلینڈ کو بڑا نقصان اس وقت ہوا جب ان کے ان فارم بلے باز جوز بٹلر لنگی نگیڈی کی گیند پر 18 رنز بنا کر بولڈ ہو گئے۔

اس کے دو اوورز بعد ہی 44ویں اوور میں نگیڈی نے معین علی کو آؤٹ کر دیا جن کا کپتان فاف ڈو پلیسی نے باؤنڈری پر نہایت عمدہ کیچ لیا۔

اس کے بعد ربادا نے 13 رنز پر کرس ووکس کو آؤٹ کر کے اپنی دوسری وکٹ حاصل کر لی۔

انگلینڈ کے آٹھویں آؤٹ ہونے والے کھلاڑی بین سٹوکس تھے جو 49ویں اوور میں 89 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے لنگی نگیڈی نے تین، عمران طاہر اور ربادا نے دو، دو اور فیفلکوایو نے ایک وکٹ حاصل کی ہے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن18ویں اوور میں رائے اور روٹ کی سو رنز کی شراکت مکمل ہوئی

آئی سی سی کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر موجود انگلش ٹیم کی قیادت اوئن مورگن کر رہے ہیں جبکہ عالمی نمبر تین جنوبی افریقہ کی قیادت فاف ڈوپلیسی کے ہاتھ میں ہے۔

جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر ڈیل سٹین زخمی ہونے کی وجہ سے پہلے میچ میں شرکت نہیں کر رہے اور جنوبی افریقی کپتان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی ٹیم ک لیے ’بہت بڑا دھچکا‘ ہے۔

جنوبی افریقہ نے اپنا پہلا ورلڈ کپ 1992 میں کھیلا۔ اس کے بعد سے یہ دونوں ٹیمیں چھ دفعہ مدمقابل آئی ہیں جس میں کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملا ہے اور دونوں ٹیموں نے تین تین میچ جیتے ہیں۔

لیکن یہ دونوں ٹیمیں بدقسمتی سے اب تک ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

جنوبی افریقہ نے اب تک کسی بھی ورلڈ کپ فائنل تک رسائی حاصل نہیں کی جبکہ انگلینڈ نے ریکارڈ تین دفعہ ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنائی لیکن وہ کبھی فائنل نہیں جیت سکا۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعمران طاہر نے ورلڈ کپ 2019 کی پہلی وکٹ حاصل کی ہے

انگلینڈ کی جانب سے اوئن مورگن کے علاوہ جیسن رائے، جانی بیرسٹو، جو رووٹ ، جاس بٹلر، بین سٹوکس، معین علی، کرس ووکس، عادل راشد، جوفرا آرچر اور لیئم پلنکٹ ٹیم میں شامل ہیں۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم میں کپتان فاف ڈو پلسی کے علاوہ ہاشم آملہ، کوئنٹن ڈی کاک، آئڈن مارکرام، راسی وان ڈر ڈاسن، جے پی ڈومنی، اینڈیل فیفلکوایوفیفلکوایو، ڈوائن پریٹوریئس، خاگیسو راباڈا ، لنگی نگیڈی اور عمران طاہر پر مشتمل ہے۔

ورلڈ کپ 2019 میں دفاعی چیمپئین آسٹریلیا، افغانستان، بنگلہ دیش، انڈیا، نیوزی لینڈ، پاکستان، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز حصہ لے رہی ہیں۔

یہ تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے کے لیے انگلینڈ اور ویلز کے 11 میدانوں میں مدِمقابل ہوں گی۔ جیتنے والی چار ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی جبکہ عالمی کپ کا فائنل 14 جولائی کو لارڈز میں کھیلا جائے گا۔

عالمی کپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان مقابلوں کی آٹھ لاکھ ٹکٹوں میں سے 95 فیصد فروخت ہو چکی ہیں اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹکٹ حاصل کرنے والے شائقین میں سے ایک تہائی لوگ کرکٹ کے نئے چاہنے والے ہیں۔