چیمپیئنز لیگ فٹبال: ٹوٹنہم ہاٹ سپرز کی آئیکس کے خلاف معجزانہ فتح، فائنل میں لیورپول سے سامنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوئیفا چیمپیئنز لیگ میں لیورپول کی بارسلونا کے خلاف معجزانہ فتح کے صرف 24 گھنٹے بعد دوسرے سیمی فائنل میں اس سے بھی زیادہ سنسنی خیز نتیجہ سامنے آیا جب انگلش کلب ٹوٹنہم ہاٹ سپرز نے آئیکس کے خلاف کم بیک کرتے ہوئے مجموعی طور پر تین، دو سے کامیابی حاصل کر کے فائنل میں جگہ بنا لی۔
ٹوٹنہم کے لوکاس مورا اپنی ٹیم کے مسیحا ثابت ہوئے جنھوں نے نہ صرف پہلے دو گول کر کے اپنی ٹیم کو جیت کی کرن دکھائی اور اس کے بعد کھیل ختم ہونے سے محض چند سیکنڈ قبل تیسرا گول کر کے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی اور ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرایا۔
اس سنسنی خیز جیت کے صلے میں ٹوٹنہم کی ٹیم یکم جون کو ہسپانوی شہر میڈرڈ کے وانڈا میٹروپولیٹانو میدان میں ہم وطن ٹیم لیورپول کا سامنا کرے گی۔
یہ 11 سال میں دوسرا موقع ہوگا جب دو برطانوی ٹیمیں یو سی ایل کا فائنل کھیلیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے قبل سنہ 2008 میں مانچسٹر یونائیٹڈ اور چیلسی کے درمیان ماسکو میں فائنل ہوا تھا جس میں یونائیٹڈ کی ٹیم نے جیت حاصل کی تھی۔
لیورپول کی ٹیم گذشتہ سال بھی فائنل تک پہنچی تھی جہاں انھیں ریال میڈرڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔
ناقابل یقین جیت
جب گذشتہ ہفتے ٹوٹنہم کے میدان پر دونوں ٹیموں نے سیمی فائنل کا پہلا مرحلہ کھیلا تھا تو آئیکس کی نوجوان ٹیم نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک صفر سے جیت حاصل کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس موقع پر لگ رہا تھا کہ ایمسٹرڈیم میں اپنے مقامی میدان پر کھیلتے ہوئے فتح کا تاج دوبارہ انھی کے سر پر جمے گا۔
میچ شروع ہونے کے بعد پہلے ہاف کے آغاز پر کپتان ڈی لائیٹ نے پانچویں منٹ میں گول کر کے ٹیم کو سبقت دلا دی اور مجموعی طور پر دو صفر کی برتری حاصل کر لی۔
آدھے گھنٹے کے کھیل کے بعد ہشام ذکیہ نے دوسرا گول داغ دیا جس سے مجموعی برتری تین صفر ہو گئی اور محسوس ہو رہا تھا کہ ٹوٹین ہم کا قصہ تمام ہو گیا ہے۔
لیکن دوسرے ہاف کے شروع ہوتے ہی برطانوی ٹیم نے تابڑ توڑ حملے شروع کیے اور چار منٹ کے وقفے سے دو گول کر کے نہ صرف میچ میں برابری حاصل کر لی بلکہ مجموعی طور پر سکور دو، تین کر دیا۔
کھیل کے آخری 25 منٹ میں دونوں ٹیموں کی جانب سے انتہائی مسحورکن فٹبال دیکھنے میں آئی اور بھرپور جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یکے بعد دیگرے حملوں کے باوجود گول نہ ہونے کی صورت میں لگا کہ شاید آئیکس کے کم عمر کھلاڑیوں پر مبنی ٹیم 1995 کے بعد پہلی بار یو سی ایل کا فائنل کھیل سکے گی لیکن لوکاس مورا نے ان خواب پر پانی پھیر دیا۔
کھیل ختم ہونے سے محض 20 سیکنڈ پہلے انھوں نے 16 گز کے فاصلے سے بائیں پیر سے کک لگائی اور اپنا نام ٹوٹنہم ہاٹ سپرز کی تاریخ میں امر کر لیا۔
اس جیت کی مزید خاص بات یہ تھی کہ ٹوٹنہم کے مرکزی کھلاڑی ہیری کین انجری کے باعث میچ میں شرکت نہیں کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیت کے بعد برطانوی ٹیم کے مینیجر ماریشیو پوچیٹینو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے دیکھے گئے۔
چیمپئینز لیگ کا پہلا سیمی فائنل: لیورپول بمقابلہ بارسلونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی فٹبال کلب لیورپول اور ہسپانوی کلب بارسلونا کے درمیان منگل کی شب کھیلے گئے چیمپینز لیگ کے سیمی فائنل کو کلب فٹبال کی تاریخ کے یاد گار ترین میچوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
لیورپول کے مداحوں کے لیے یہ میچ کسی فلم کی کہانی سے کم نہیں تھا۔
چیمپیئنز لیگ کا سیمی فائنل دو مراحل پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ دونوں میچ مدِمقابل ٹیموں کے ہوم گراؤنڈز پر کھیلے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اس مرتبہ پہلا میچ بارسلونا کے ہوم گراؤنڈ نوئی کیمپ میں کھیلا گیا جہاں میزبان ٹیم نے لیورپول کو 3-0 سے شکست دے کر ان کی لگاتار چیمپیئنز لیگ کا دوسرا فائنل کھیلنے کی امیدوں پر پانی پھیرنے کی پوری کوشش کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پھر آئی منگل کی شب اور سیمی فائنل کا دوسرا حصہ۔ اس وقت لیورپول کے اپنے مداح بھی شاید ان کی کامیابی کی امید نہ رکھتے مگر جیسے بالی وڈ فلم 'لگان' کے عامر خان میدان میں آئے اور لیورپول نے چار متواتر گول کر کے میچ جیت لیا۔
بارسلونا کی ٹیم کوئی گول نہ کر سکی اور یوں لیورپول نے مجموعی طور پر 4-3 کی سکور لائن سے کامیابی حاصل کر کے فائنل میں جگہ بنا لی۔
سنہ 2015 کے بعد سے بارسلونا چیمپیئنز لیگ کے فائنل تک نہیں پہنچی ہے جبکہ لیورپول مانچسٹر یونائیٹڈ کے بعد لگاتار دوسرے برس چیمپیئنز لیگ کا فائنل کھیلنے والی دوسری برطانوی ٹیم بن گئی ہے۔
لیورپول کے ہوم گراؤنڈ این فیلڈ میں کھیلے گئے اس سیمی فائنل کی تاریخی اعتبار سے خاص بات یہ بھی ہے کہ 1986 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی ٹیم نے اپنے مخالف کی تین گول کی برتری ختم کر کے فائنل تک رسائی حاصل کی ہو۔
اس سے قبل 1986 میں ایسا کرنے والی ٹیم خود بارسلونا تھی جب انھوں نے گوٹنبرگ کو ہرا دیا تھا۔
گذشتہ سال بارسلونا کو کوارٹر فائنل مرحلے میں بھی اطالوی ٹیم روما کے ہاتھوں 3-0 سے شکست ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ادھر سواریز، جو کہ لیورپول کو چھوڑ کر اب بارسلونا کے لیے کھیل رہے ہیں، اپنے پرانے مداحوں کے گلے شکوے ہی سنتے رہے۔
سواریز نے میچ کے بعد کہا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ہم کوئی سکول کے لڑکے کھیل رہے ہیں۔
سیمی فائنل کے پہلے میچ میں جب سواریز نے اپنی پرانی ٹیم کے خلاف گول کر کے جشن منایا تو ان پر کچھ عرصہ پہلے تک جان چھڑکنے والے مداحوں کو بالکل اچھا نہیں لگا۔
سواریز نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس بار لیورپول کے خلاف گول کرکے جشن نہیں منائیں گے مگر انھیں اس کا موقع ہی نہیں ملا۔
سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے کہا کہ سواریز نے اپنا وعدہ پورا کر دیا!

ماہرین کا ردِعمل
سابق انگلینڈ کپتان، ایلن شیرر
انھوں نے یہ کیسے کیا؟ لیورپول کے پاس خوداعتمادی، جیت کی بھوک، مانگ، اور جذبہ سب تھا۔۔۔ اور ساتھ میں گراؤنڈ میں ایسے شائقین جو پہلے ہی لمحے سے ان کو جتانا چاہتے تھے۔
لیورپول نے پہلے ہی لمحے سے بہت ہی درست ارادہ ظاہر کیا۔ اگر وہ ہارنے والے تھے تو انھوں نے پوری کوشش کر کے جانا تھا۔ آپ سوچیں سرگیو بزکٹس، لوئس سواریز، جرارڈ پیق، اور دنیا کے بہترین کھلاڑی میسی سب تھے مگر بارسلونا انھیں ہینڈل نہیں کر سکے۔
لیورپول کے سابق سٹرائیکر، مائیکل اوون
(این فیلڈ کی یورپی شاموں میں) یہ اگر بہترین نہیں تو کم از کم بہترین شاموں میں سے ایک تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ لیورپول کو اس سٹیڈیم پر کوئی نہیں ہرا سکتا۔‘
مانچسٹر یونائیٹڈ کے سابق کھلاڑی ریو فرڈینینڈ
میں ان کے حریف کلب کے لیے کھیلتا تھا مگر آپ اس کلب کی کارکردگی اور اس کے مداحوں کی عزت کرنے سے گریز نہیں کر سکتے۔ ہم میسی کو فائنل میں دیکھنے آئے تھے مگر لیورپول نے وہ ان کے ہاتھوں سے لے لیا۔








