چار ٹیموں کی ٹائٹل پر نظریں، آج زلمی اور گلیڈی ایٹرز مد مقابل

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان سپر لیگ کا سفر اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ جس میں مقابلہ پلے آف کے لیے کوالیفائی کرنے والی چار ٹیموں کے درمیان ہے۔

پاکستان سپر لیگ کا کوالیفائر میچ پوائنٹس ٹیبل کی دو سرفہرست ٹیموں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان بدھ کے روز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔ اس میچ کی فاتح ٹیم فائنل میں پہنچ جائے گی۔

جمعرات کے روز پوائنٹس ٹیبل پر تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والی اسلام آباد یونائٹڈ اور کراچی کنگز کی ٹیمیں پہے ایلیمنیٹر میں مدمقابل ہوں گی۔

جمعہ کے روز دوسرے ایلیمنیٹر میں کوالیفائر ہارنے والی ٹیم کا مقابلہ پہلے ایلیمنیٹر کی فاتح ٹیم سے ہوگا۔

پاکستان سپر لیگ کا فائنل اتوار کی شب کھیلا جائے گا۔

پشاور زلمی بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سات، سات میچز جیت کر چودہ پوائنٹس حاصل کیے تاہم بہتر رن اوسط کی بنیاد پر زلمی کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر پہلے نمبر پر رہی ہے۔

مزید پڑھیے

پشاور زلمی نے2017 میں پاکستان سپر لیگ جیتی ہے جب لاہور میں کھیلے گئے فائنل میں اس نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دی تھی ُاس فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو اپنے چار اہم غیرملکی کرکٹرز کی خدمات حاصل نہیں تھیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم 2017 کے علاوہ 2016 میں بھی فائنل کھیلی تھی لیکن اس میں اسے اسلام آباد یونائٹڈ نے شکست دی تھی۔

پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سخت حریف ثابت ہوئے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان کھیلے گئے مجموعی بارہ میچوں میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے چھ میچز جیتے ہیں پانچ میں پشاور زلمی کی ٹیم فاتح رہی ہے جبکہ ایک میچ نامکمل رہا ہے۔ دونوں کے درمیان چند میچز انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز ثابت ہوئے ہیں۔

پہلی پی ایس ایل کے کوالیفائر میں کوئٹہ نے پشاور کو صرف ایک رن سے ہرایا تھا۔

دوسری پی ایس ایل کے کوالیفائر میں بھی کوئٹہ نے ڈرامائی انداز میں صرف ایک رن سے کامیابی حاصل کی تھی۔

تیسری پی ایس ایل کے ایلیمنیٹرمیں بھی نتیجہ صرف ایک رن سے سامنے آیا تھا لیکن اس بار جیت پشاور زلمی کو حاصل ہوئی تھی۔

اس پی ایس ایل میں دونوں کے درمیان کھیلے گئے دونوں میچز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے جیتے ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قیادت سرفراز احمد کررہے ہیں اور اس کی بیٹنگ لائن میں شین واٹسن ۔ رائلے روسو۔ احمد شہزاد ۔ڈوئن براوو اور عمراکمل قابل ذکر ہیں۔

شین واٹسن اس پی ایس ایل میں ابتک سب سے زیادہ 352رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں۔

پشاور زلمی کی امیدیں کامران اکمل، امام الحق، مصباح الحق، پولارڈ اور عمرامین سے وابستہ ہیں۔

بولنگ میں پشاور زلمی حسن علی، وہاب ریاض، ٹائمل ملز، ڈاسن اور ثمین گل کی موجودگی میں زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ کرس جورڈن بھی انگلینڈ کی نمائندگی کرنے کے بعد زلمی کے اسکواڈ میں واپس آگئے ہیں۔

حسن علی اس پی ایس ایل میں اب تک سب سے زیادہ 21 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

اسلام آباد یونائٹڈ بمقابلہ کراچی کنگز

پاکستان سپر لیگ میں ان دونوں ٹیموں نے دس دس پوائنٹس حاصل کیے ہیں لیکن بہتر رن اوسط کی وجہ سے اسلام آباد یونائٹڈ کی تیسری پوزیشن رہی ہے۔

اسلام آباد یونائٹڈ دو بار پی ایس ایل جیت چکی ہے تاہم اس بار اس کی کارکردگی ملی جلی رہی ہے ۔

مصباح الحق کے جانے کے بعد کپتانی فاسٹ بولر محمد سمیع کے سپرد کی گئی ہے لیکن ان کے فٹ نہ ہونے کے سبب چند میچوں میں شاداب خان نے قیادت کی ذمہ داری نبھائی ہے۔

اسلام آباد یونائٹڈ بیٹنگ میں لیوک رانکی، کیمرون ڈیل پورٹ اور آصف علی پر انحصار کرتی آئی ہے ۔اب اسے انگلینڈ کے اوپنر الیکس ہیلز کی خدمات بھی حاصل ہوچکی ہیں جنہیں ان فٹ ای این بیل کی جگہ لیا گیا ہے۔

اسلام آباد یونائٹڈ کی بولنگ محمد سمیع، فہیم اشرف رومان رئیس، سمت پٹیل اور شاداب خان پر مشتمل ہے۔

فہیم اشرف نے اس پی ایس ایل میں عمدہ بولنگ کرتے ہوئے اب تک 19 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

کراچی کنگز بھی اس پی ایس ایل میں ملی جلی کارکردگی دکھاتے ہوئے پلے آف تک آئی ہے۔ اس کی بیٹنگ لائن میں بابراعظم، کالن منرو، کالن انگرم اور لونگ اسٹون جیسے بیٹسمین موجود ہیں۔ انگرم اس پی ایس ایل کی سب سے بڑی انفرادی اننگز 127 کوئٹہ کے خلاف کھیل چکے ہیں۔بابراعظم تین نصف سنچریاں بناچکے ہیں لیکن کالن منرو کی مایوس کن بیٹنگ کراچی کنگز کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو سات اننگز میں صرف تریسٹھ رنز بناپائے ہیں۔

بولنگ میں محمد عامر، عثمان شنواری اور عماد وسیم کا تجربہ اپنی جگہ لیکن اس ایونٹ میں نوجوان اسپنر عمرخان متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دس میچوں میں تیرہ وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔