آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فواد احمد کی پاکستان سپر لیگ ٹرافی کے ساتھ صوابی جانے کی خواہش
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شارجہ
پاکستانی نژاد آسٹریلوی لیگ سپنر فواد احمد دوبارہ پاکستان جانے کا سوچ کر بہت خوش ہیں اور کیوں نہ ہوں انھیں مشکل ترین حالات میں اپنا گھر بار چھوڑ کر آسٹریلیا میں سیاسی پناہ لینی پڑی تھی۔
اب حالات بہتر ہونے کے بعد وہ اپنے خاندان اور دوستوں سے نہ صرف ملنے کا پروگرام بنا رہے ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ پی ایس ایل کی ٹرافی کے ساتھ اپنے آبائی شہرصوابی بھی جائیں۔
33 سالہ فواد احمد پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
پی ایس ایل کے بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج سے نو سال پہلے وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ ایک این جی او سے بھی وابستہ تھے جو خواتین کی تعلیم پر زور دے رہی تھی لیکن اس دوران فواد احمد کو مبینہ طور پر سنگین نوعیت کی دھمکیاں ملنی شروع ہو گئیں اور انھیں پاکستان چھوڑنا پڑا۔
فواد احمد نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔
’وہ میری زندگی کا کٹھن ترین وقت تھا۔ اپنا ملک اور خاندان چھوڑ کر کسی دوسرے ملک جانا اور وہاں زندگی شروع کرنا آسان نہ تھا لیکن میرے پاس یہی ایک راستہ تھا جو جان سے ماردینے کی دھمکیاں ملنے کے بعد میں نے اختیار کیا۔مجھے آسٹریلیا سے پیشکش آئی تھی لہذا میں وہاں چلاگیا تھا۔‘
فواد احمد نے جب پاکستان چھوڑا تو انھوں نے صرف دس فرسٹ کلاس میچ کھیل رکھے تھے۔ انھوں نے آسٹریلوی کرکٹ میں قدم جمانے کے لیے سخت محنت کی اور فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے میں کامیاب ہو گئے۔
ان کی صلاحیتوں کا کھلے دل سےاعتراف کرنے والوں میں آسٹریلیا کے سابق لیگ سپنر سٹورٹ مک گل اور بیٹسمین ڈیمئن مارٹن بھی شامل تھے۔
فواد احمد نے سنہ 2013 میں انگلینڈ کے دورے میں تین ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی بین القوامی میچوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی لیکن اس کے بعد وہ مزید بین الاقوامی میچ نہ کھیل سکے جس پر وہ مایوس بھی ہوئے۔
’مایوسی اس لیے ہوئی کہ میں نے آسٹریلیا میں پانچ چھ سال بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔ میں نے شیلڈ کرکٹ میں اس عرصے میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ بگ بیش میں بھی سب سے زیادہ آؤٹ کیے لیکن میں اب بھی پر امید ہوں کہ پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز اور پھر عالمی کپ میں مجھے موقع مل سکتا ہے جس کی مجھے خوشی ہو گی لیکن اگر ایسا نہ ہوا تب بھی میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اعلیٰ معیار کی کرکٹ کھیلنے کا موقع فراہم کیا۔‘
فواد احمد نے محدود اوورز کی کرکٹ میں قسمت آزمائی کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کو بھی خیرباد کہہ دیا ہے۔
’ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلنے کا مقصد یہی ہے کہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکوں تاکہ ون ڈے میں موقع ملنے پر میرے اعتماد میں اضافہ ہو سکے۔ یہاں کی وکٹیں بیٹسمینوں کے لیے زیادہ ساز گار ہیں لہذا اگر میں یہاں اچھی کارکردگی دکھاؤں گا تو میرا مورال بھی بلند ہو گا۔‘
فواد احمد پاکستان سپرلیگ کھیل کر بہت خوشی محسوس کر رہے ہیں۔
’یہ تجربہ میرے لیے بہت ہی خوشگوار رہا ہے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا کامبی نیشن بہت اچھا ہے اورمیں اپنی بولنگ سے خوب لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ چاہے نیٹ پریکٹس ہو، وارم اپ میچ ہو یا فرنچائز کرکٹ مجھے ہر جگہ بولنگ میں مزا آتا ہے۔ سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ میں دوبارہ اپنے وطن جا کر کھیلوں گا۔ میرے کئی دوستوں نے مجھ سے کہا ہے کہ وہ کراچی آ کر میرا میچ دیکھیں گے اور مجھ سے ملاقات بھی کریں گے۔‘