سنچورین: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 27 رنز سے شکست دے دی

،تصویر کا ذریعہGallo Images
سنچورین میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 27 رنز سے شکست دے دی ہے۔
169 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 141 رنز بنا سکی۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے کرس مورس نے پانچ چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 55 رنز جبکہ ہینڈرک ڈوسن نے دو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 41 رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے محمد عامر نے تین، شاداب خان اور فہیم اشرف نے دو، دو جبکہ عماد ویسم اور شاہیں آفریدی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے پہلے پاکستان نے اننگز کے آخری اوور میں شاداب خان کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت مقررہ 20 اووروں میں نو وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔
پاکستان کی طرف سے کوئی بھی بلے باز 30 کا ہندسے تک بھی نہ پہنچ سکا اور اوپنر نیچے وکٹیں گرتی رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنوبی افریقی بولروں نے آغاز میں کچھ سکور دینے کے بعد جلد ہی میچ واپسی کی اور مہمان ٹیم کو سنبھلنے نہ دیا۔
پاکستانی اننگز
پاکستان کی جانب سے فخر زمان اور بابر اعظم نے اننگز کا آغاز کیا تو بابر اعظم نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 11 گیندوں پر 23 رنز بنائے لیکن وہ زیادہ دیر نہ رک سکے اور مورس کی گیند پر کیچ دے بیٹھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم ان کے جانے کے بعد فخر زمان کچھ اسی انداز میں اننگز کو آگے بڑھاتے رہے لیکن وہ بھی 17 گیندوں پر 17 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
آؤٹ ہونے والے تیسرے بلے باز محمد رضوان تھے جنھیں اس میچ میں اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کا موقع دیا گیا۔ انھوں نے 26 رنز کی اننگز کھیلی۔
کپتان شعیب ملک آؤٹ ہونے والے چوتھے بلے باز تھے جنھیں کافی سوچ بچار کے بعد تھرڈ امپائر کی جانب سے رن آؤٹ قرار دیا گیا۔ ان کے فوراً ہی بعد حسین طلعت بھی اگلے اوور میں وکٹوں کے پیچھے کیچ دے کر پویلین لوٹ گئے۔ آصف علی بھی دو چھکوں کی مدد سے 25 رنز ہی بنا سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تین ٹیسٹ میچوں میں وائٹ واش کے بعد پانچ میں سے صرف دو ایک روزہ میچوں میں کامیابی، کپتان سرفراز پر چار میچوں کی پابندی کے بعد ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سریز میں بھی شکست۔ ناکامی کی یہ داستان پاکستان میں شائقین کرکٹ کے لیے یقیناً کافی تکلیف دہ ثابت ہو گی۔
لندن میں کرکٹ ورلڈ کپ 2019 سے قبل یہ دورہ اس بڑے ٹورنامنٹ کی تیاری کے لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا تھا لیکن اس میں ناکامی در ناکامی کے بعد ٹیم کا حوصلہ اور اعتماد کس سطح پر ہیں اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔








