پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ ٹی ٹونٹی سیریز: آبائی گھر سے خالی ہاتھ لوٹنا مکی آرتھر کے لئے خاصا مایوس کن ہو گا!

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
پہلی بار جب آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ہوا تو شعیب ملک پاکستان کے کپتان تھے۔ حسنِ اتفاق کہ وہ ورلڈ کپ جنوبی افریقہ میں ہی منعقد ہوا اور پاکستانی ٹیم شعیب ملک کی ہی کپتانی میں اس ورلڈ کپ کا فائنل بھی کھیلی۔
پچھلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی کارکردگی اگرچہ متاثر کُن نہ تھی تاہم اس کے بعد سے اب تک پاکستان کا ریکارڈ بے نظیر رہا ہےاور اسی عمدہ کارکردگی کی بدولت ایک طویل عرصے سے سرفراز کی ٹیم نمبر ون رینکنگ پہ قبضہ جمائے بیٹھی ہے۔
کسی بھی فارمیٹ میں مسلسل فتوحات کا ایسا ریکارڈ کبھی پاکستان کے نام نہیں رہا جو سرفراز کی کپتانی میں اس ٹی ٹونٹی ٹیم نے اپنے نام کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی ٹیم نے متواتر اتنی سیریز نہیں جیتیں جتنی سرفراز کے حصے میں آئیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اس نشاطِ ثانیہ میں مرکزی کردار بلاشبہ سرفراز احمد کا رہا ہے۔ اور پی ایس ایل کا بھی کہ جس نے پاکستان کو جدید ٹی ٹونٹی کھیلنے والے کرکٹرز دیے جو اس ٹیم کو نمبرون رینکنگ تک لے کر گئے۔
اس ٹیم کی سب سے بڑی طاقت اس کا بولنگ یونٹ ہے جس میں بے مثال ورائٹی موجود ہے۔ لیفٹ آرم سپنر، لیگ سپنر، میڈیم پیسرز، آل راونڈرز۔۔۔۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جن سے ایک وننگ ٹی ٹونٹی کمبینیشن بنتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنوبی افریقہ کے دورے سے پاکستان کبھی بھی بہت خوشگوار یادیں لے کر نہیں لوٹا اور اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ٹیسٹ سیریز کا جو نتیجہ آیا، اسے حسبِ توقع نہ بھی کہا جائے تو حسبِ خدشات کہا ہی جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ون ڈے سیریز میں شروع سے ہی پاکستان کا پلہ بھاری ہو گیا تھا اور جنوبی افریقہ کی ٹیم زبوں حال دکھائی دے رہی تھی لیکن سرفراز احمد کا ایک جملہ پاکستان کے لئے قسمت کا گھاؤ بن گیا۔ پھر تیسرے میچ میں اگر بارش نہ ہوتی تو شاید قسمت نتیجے پہ کچھ اور طرح اثر انداز ہوتی۔
لیکن چوتھے ون ڈے میں پاکستان نے جس طرح کی واضح برتری دکھائی، بعید نہیں تھا کہ پانچویں میچ میں بھی کچھ ویسا ہی دیکھنے کو ملتا۔ مگر بظاہر تو ’چوکرز‘ کا ٹیگ جنوبی افریقہ پہ ہے مگر اس روز یہ ٹیگ پاکستان نے اپنا لیا۔
اب جبکہ اس طویل دورے کی آخری سیریز شروع ہونے کو ہے تو مکی آرتھر کا ڈریسنگ روم شدید خواہش رکھتا ہو گا کہ وہ کم از کم ایک ٹرافی تو لے کر ہی آئیں۔
آخر اپنے آبائی گھر سے خالی ہاتھ لوٹنا مکی آرتھر کے لئے بھی خاصا مایوس کن ہو گا!
اس دورے میں پہلی بار اب یہ موقع آیا ہے کہ اعداد و شمار ہی نہیں، سکواڈز پہ بھی نظر ڈالی جائے تو پاکستان کا پلہ کافی بھاری نظر آتا ہے۔ جنوبی افریقہ اس فارمیٹ کی رینکنگ میں بھی پاکستان سے خاصا نیچے ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب جنوبی افریقی ڈریسنگ روم کے سر پہ ورلڈ کپ کی تیاری کا بھوت بھی سوار ہے۔ اسی لیے ون ڈے کے بعد ٹی ٹونٹی سکواڈ میں بھی کئی نئے چہرے نظر آ رہے ہیں۔
لیکن کیا ان نئے چہروں میں سے کوئی ایسا تو نہیں ہو گا جو مکی آرتھر کو حیران، پریشان کر ڈالے؟
بعینہ پاکستان کی ٹی ٹونٹی ٹیم کے لئے بھی پچھلے ڈھائی سال میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ وہ سرفراز احمد کے بغیر میدان میں اترے گی۔ ویسے تو شعیب ملک ٹی ٹونٹی کے کامیاب ترین کپتانوں میں سے ہیں لیکن بہرطور ان کی اپروچ اور ٹیمپرامنٹ سرفراز سے کہیں مختلف ہیں۔
ایسے میں دیکھنا یہ ہو گا کہ سرفراز کی عدم موجودگی اس ٹیم پہ کیا اثر ڈالتی ہے۔ اور پھر شعیب ملک اس ٹیم کو ایسے کسی ممکنہ اثر سے کیسے نکالتے ہیں۔
ستارے تو سبھی پاکستان کے حق میں نظر آتے ہیں لیکن کرکٹ میں بہت کچھ چانس پہ ہی رہتا ہے۔ سو یہ خدشہ بہرحال اپنی جگہ ہے کہ کہیں مکی آرتھر کو اپنے آبائی گھر سے مایوس نہ لوٹنا پڑ جائے۔











