یاسر شاہ کی عمدہ بولنگ، نیوزی لینڈ کی ٹیم فالو آن پر مجبور

یاسر شاہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیاسر شاہ نے اپنے کریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 41 رنز کے عوض آٹھ وکٹیں حاصل کیں

دبئی میں کھیلے جانے والے دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن پاکستان کے خلاف فالو آن کا شکار ہونے کے بعد کھیل کے اختتام پر نیوزی لینڈ نے دو وکٹوں کے نقصان پر 131 رنز بنا لیے۔

جب کھیل ختم ہوا تو کریز پر ٹام لیتھم اور راس ٹیلر موجود تھے اور نیوزی لینڈ کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے مزید 197 رنز درکار تھے۔

دوسری اننگز میں نیوزی لینڈ کے آؤٹ ہونے والے پہلے بلے باز جیت راول تھے جو یاسر شاہ کی گیند پر سٹمپ ہوئے۔

دوسری وکٹ کے لیے کین ولیمسن اور لیتھم نے 56 رنز کی شراکت قائم کی۔ اس پارٹنر شپ کا خاتمہ بھی یاسر شاہ نے ہی کیا جنھوں نے ولیمسن کو سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ کروایا۔ انھوں نے 30 رنز بنائے۔

یہ اس میچ میں یاسر کی 10ویں وکٹ تھی۔

اس سے قبل پاکستان کے پہلی اننگز کے 418 رنز کے جواب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 90 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گئی تھی اور یوں پاکستان کو پہلی اننگز میں 328 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔

نیوزی لینڈ کے بلے باز پاکستانی لیگ سپنر یاسر شاہ کو کھیلنے میں ناکام رہے جنھوں نے 41 رنز کے عوض آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ یہ ان کے ٹیسٹ کریئر کی بہترین بولنگ ہے۔

پیر کی صبح نیوزی لینڈ نے بغیر کسی نقصان کے 24 رنز سے اننگز شروع کی تو جیت راول اور ٹام لیتھم نے سکور 50 رنز تک پہنچا دیا۔ تاہم اس موقع پر یاسر شاہ نے جیت کو بولڈ کر کے پاکستان کو پہلی کامیابی دلوا دی۔

نیوزی لینڈ کے آؤٹ ہونے والے دوسرے کھلاری ٹام لیتھم تھے جو 22 رنز بنانے کے بعد یاسر شاہ کی ہی گیند پر امام الحق کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ اس وقت نیوزی لینڈ کا سکور 61 تھا۔

اسی سکور پر یاسر نے راس ٹیلر اور ہنری نکولس کو بھی بولڈ کیا۔ وہ کوئی رن نہ بنا سکے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

کھانے کے وقفے کے فوراً بعد بی جے واٹلنگ رن آؤٹ ہوئے تو نیوزی لینڈ کی ٹیم کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ نیوزی لینڈ کے آؤٹ ہونے والے پانچویں کھلاڑی تھے۔

حسن علی نے 69 کے مجموعی سکور پر کولن ڈی گرینڈہوم کو ایل بی ڈبلیو کر کے پاکستان کو چھٹی کامیابی دلوائی۔

سکور میں تین رنز کے اضافے کے بعد یاسر شاہ نے اش سوڈھی کو سرفراز کے ہاتھوں کیچ کروا کے انفرادی طور پر پانچویں اور ٹیم کے لیے ساتویں وکٹ لی۔

اسی اوور میں یاسر نے نیل ویگنر کو ایل بی ڈبلیو کر کے پاکستان کو آٹھویں کامیابی دلوائی۔

یاسر شاہ نے ہی اعجاز پٹیل کو بھی ایل بی ڈبلیو کیا۔ یہ اس اننگز میں ان کی ساتویں وکٹ تھی۔ اگلی ہی گیند پر ٹرینٹ بولٹ کو سٹمپ کروا کر یاسر نے نیوزی لینڈ کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔

خیال رہے کہ اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور اتوار کو کھیل کے دوسرے دن کے آخری سیشن میں اپنی پہلی اننگز پانچ وکٹوں کے نقصان پر 418 رنز بنا کر ڈیکلیئر کر دی تھی۔

پاکستانی اننگز کی خاص بات حارث سہیل اور بابر اعظم کی سنچریاں تھیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

یہ حارث کے ٹیسٹ کریئر کی دوسری جبکہ بابر کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی۔ حارث 147 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے جبکہ بابر نے ناقابلِ شکست 127 رنز بنائے۔

اتوار کو ان دونوں پاکستانی بلے بازوں نے بہت سست رفتاری سے بلے بازی کی جس پر انھیں مبصرین کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

حارث سہیل نے سنچری مکمل کرنے کے لیے 300 سے زیادہ گیندیں کھیلیں جبکہ بابر اعظم نے بھی 127 رنز 263 گیندیں کھیل کر بنائے۔

بابر اعظم اور حارث سہیل

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشنبابر اعظم اور حارث سہیل کو اپنی سست رفتار بلے بازی پر مبصرین کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا

اس میچ کے لیے دونوں ٹیموں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور وہی ٹیم دبئی میں بھی آمنے سامنے ہے جو پہلے ٹیسٹ میں ابوظہبی میں تھی۔

اس میچ سے قبل پاکستان کے کوچ مکی آرتھر نے امید ظاہر کی کہ چوتھی اننگز کے بھوت سے دامن چھڑا کر پاکستانی کھلاڑی دوسرے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہر کریں گے اور بہتر شاٹس کا انتخاب کریں گے۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کے کوچ گیری سٹیڈ نے کہا ہے کہ ابوظہبی کی شکست کے بعد پاکستانی ٹیم ان کے لیے دبئی میں زیادہ مشکلات پیدا کرے گی۔

خیال رہے کہ ابوظہبی میں پاکستان نے سب سے کم رنز سے شکست کا اپنا ریکارڈ بنایا تو نیوزی لینڈ نے سب سے کم رنز سے جیت کا اپنا ریکارڈ بہتر کیا۔ ویسے سب سے کم رنز یعنی ایک رن سے جیت کا ریکارڈ ویسٹ انڈیز کا ہے جو اس نے سنہ 1993 میں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ میں قائم کیا تھا۔

پاکستان ٹیم: امام الحق، محمد حفیظ، اظہر علی، حارث سہیل، بابر اعظم، اسد شفیق، سرفراز احمد (کپتان)، حسن علی، بلال آصف، محمد عباس اور یاسر شاہ

نیوزی لینڈ ٹیم: جیت راول، ٹام لیتھم، کین ولیمسن (کپتان)، راس ٹیلر، بی جے ویٹلنگ، ہنری نکلولس، کولن ڈی گرینڈہوم، اش سوڈھی، نیل ویگنر، ٹرینٹ بولٹ اور اعجاز پٹیل