آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرافی سوہنی ہے یا کوجی، سانوں کی!
پاکستان کرکٹ بورڈ اور کرکٹ کے عالمی نگراں ادارے آئی سی سی کی ایک دوسرے سے نوک جھونک کی ایک تازہ ترین قسط میں پی سی بی نے آئی سی سی کی ایک ٹوئٹ کا جواب دیا ہے کہ یقیناً پاکستانی کرکٹ کے مداح اس سے بہت خوش ہوئے ہوں گے۔
کہانی کچھ اس طرح ہے کہ اس ہفتے متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور آسٹریلیا کے خلاف دو میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی گئی۔ سیریز کی افتتاحی تقریب میں جب ٹرافی پیش کی گئی تو اس ٹرافی کے ڈیزائن کا کافی مذاق اڑایا گیا۔
اور مذاق اڑانا بھی شاید کوئی ناجائز نہیں تھا۔ ٹرافی کے ڈیزائن پر جو کچھ برا بھلا لوگوں نے کہا، اس پر ہمارے ساتھی عابد حسین نے بھی کہانی لکھی۔ پڑھیے 'اس ٹرافی کی کیا تُک تھی؟'
ٹرافی کا مذاق اڑانے میں کرکٹ کے عالمی نگراں ادارے آئی سی سی بھی پیچھے نہ رہی۔ آئی سی سی نے ایک بار تو اس کے بارے کہا کہ اس ٹرافی نے بسکٹ کھانے کا مطلب ہی تبدیل کر دیا ہے۔
پھر آئی سی سی نے چیمپیئنز ٹرافی کی ایک تصویر ساتھ میں لگا کر کہا کہ وہ ٹرافی جس کے بارے میں آپ کو لڑکی کہے کہ اس کی خیر ہے۔
پی سی پی میں شاید داخلی طور پر یہ پوچھا جا رہا ہوگا کہ ارے وہ کون سا افسر ہے جس نے اس کی منظوری دے دی؟
مگر جب سرفراز اور اس کی ٹیم نے پاکستان کی لاج رکھی اور آسٹریلیا کو دونوں میچوں میں خوب دھویا تو پی سی بی کا بھی حوصلہ بلند ہو گیا ہوگا۔
جب پاکستان نے یہ سیریز جیت لی تو پی سی بی نے آئی سی سی کو ٹیگ کر کے کہا کہ ٹرافی کے ڈیزائن کی کس کو فکر ہے! ہیں تو دونوں ہی ہماری!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یعنی پی سی بی کی ترجیحات درست ہیں۔ میچ جیتنے ہیں، ٹرافی سوہنی ہے یا کوجی، سانوں کی!