’اس ٹرافی کی کیا تُک تھی؟‘

    • مصنف, عابد حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

دنیا بھر میں ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں میں فاتح کھلاڑی یا ٹیمیں انعامی رقم اور شہرت حاصل کرنے کے لیے تو اپنا زور لگاتے ہی ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ ان کی لگن جیتنے والی ٹرافی حاصل کرنے کی ہوتی ہے۔

ٹرافیوں کی شہرت اور مخصوص ڈیزائن انھیں شائقین میں یادگار بناتے ہیں۔ وہ فیفا فٹبال ورلڈ کپ ہو جس میں دو انسانی شبیہ کرہ ارض کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں، یا ومبلڈن گرینڈ سلیم میں دی جانے والی سنہری ٹرافی، یا پھر 1992 کے ورلڈ کپ میں دی جانے والی خوبصورت کرسٹل بال ٹرافی جو پاکستان کے نصیب میں آئی تھی۔

عمومی طور پر ان ٹرافیوں کا ڈیزائن کچھ ملتا جلتا ہی ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی ان میں کھیلوں میں استعمال ہونے والی اشیا کو شامل بھی کر لیا جاتا ہے جیسے ٹینس کے ریکٹ ہوں یا کرکٹ کے بلے یا گیند۔

لیکن کیا آپ نے کبھی ایسی ٹرافی کے بارے میں سوچا ہے جس میں جیتنے والے کے نصیب میں 'نمکین بسکٹ' آئے؟

اگر نہیں تو اب دیکھیے کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جب منگل کو پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچوں میں جیتنے والی ٹیم کو دی جانے والی ٹرافی کی رونمائی کی تو اس کے نام اور ڈیزائن، دونوں نے ہی سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔

'برائٹو ٹک ٹی ٹوئنٹی کپ' کے نام سے بنائی گئی اس ٹرافی کے ڈیزائن میں مرکزی حیثیت اس بڑے سے بسکٹ کی ہے جو وکٹوں اور گیند کے اوپر موجود ہے۔

جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹویٹ کے ذریعے اس ٹرافی کی رونمائی کی تصاویر جاری کیں تو تنقیدی اور طنز پر مبنی تبصروں کی بھرمار ہو گئی۔

نمکین ذائقے والے 'ٹک' نامی بسکٹ پاکستان میں نہایت مقبول ہیں اور اکثر انھیں چائے کے ساتھ کھایا جاتا ہے اور اشتہاروں کے مطابق یہ بسکٹ 'ہلکی پھلکی بھوک' مٹانے کے لیے بہت موثر ہیں۔

اس انوکھے ڈیزائن کی ٹرافی کی تصویر سامنے آنے پر عالمی کرکٹ کونسل سے بھی نہ رہا گیا اور انھوں نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے انگریزی محاورے ’ٹیکنگ دا بسکٹ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرافی اس محاورے کی نئی شکل ہے۔

آئی سی سی والے اس ٹرافی سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے ایک اور ٹویٹ کی جس میں ٹک ٹرافی کا موازنہ گذشتہ سال ہونے والی چیمپئینز ٹرافی سے کیا جو پاکستان نے جیتی تھی۔

آئی سی سی کی جانب سے کی گئی ٹویٹ پر جیو سے منسلک کھیلوں کے صحافی فیضان لاکھانی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ٹرافی جیسی بھی ہو، کھیلوں کی عالمی تنظیم کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح سے مذاق اڑائیں۔

فیضان لاکھانی کی ٹویٹ پر صارف احمد خواجہ نے ٹویٹ میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ 'ڈیئر آئی سی سی، آپ کی ہماری بسکٹ والی ٹرافی کا مذاق اڑانے کی جرات کیسے ہوئی؟'

ایک آسٹریلوی صارف نے اس ٹرافی پر تبصرہ کیا کہ تاریخ میں اس سے زیادہ عجیب و غریب ٹرافی نہیں ہو سکتی۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے صاحبزادے اور کرکٹ کے شوقین حیدر عباسی نے بھی اس ٹرافی کی رونمائی پر تبصرہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ٹک کیا بسکٹ ہے یا کریکر؟

ایک اور صارف اسد ناصر نے بھی ٹک کے اشتہار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ امید ہے کہ دونوں ٹیمیں اس سیریز کو 'ہلکا' نہیں لیں گی۔

شبیر سید نامی صارف نے اپنے خیال کا اظہار کیا کہ اگر ٹک والے اگلے سال ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے ٹرافی ڈیزائن کریں گے تو وہ کیسی ہوگی؟

صارف حسنین نے بھی فوٹو شاپ کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اس ٹرافی کو چائے کے کپ میں بدل دیا۔

ادھر ایک اور صارف شمائلہ نے ٹویٹ کی کہ اس کی کیا تُک تھی؟

ٹینس کے عالمی نمبر ایک کھلاڑی رافیل نڈال اپنی جیتنے والی ٹرافیوں کے ساتھ انھیں کھاتے ہوئے تصاویر لینے کے لیے مشہور ہیں اور ظاہر تھا کہ سوشل میڈیا کے منچلے ایسے موقع کہاں جانے دیتے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوئی ایسی مضحکہ خیز ٹرافی ڈیزائن کی ہو۔

آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں جیتنے والی ٹرافی برائٹو پینٹ بنانے والی کمپنی کی جانب سے تھی اور ان کی ٹرافی میں بھی انھی کے نام کا حروف تہجی شامل تھا جس پر سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

یاد رہے کہ تین ٹی 20 میچوں کی سیریز کا پہلا میچ ابوظہبی کے میدان پر بدھ کی شب پاکستانی وقت کے مطابق نو بجے شروع ہوگا۔

پاکستان نے آسٹریلیا کو حال ہی میں زمبابوے میں ہونے والے سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے فائنل میں شکست دی تھی جبکہ 2016 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد سے پاکستان نے کھیلے جانے والے 27 میچوں میں سے صرف چار میں شکست کھائی ہے۔