’ہیں تو چھ مگر ٹورنامنٹ صرف پاکستان اور انڈیا کا ہے‘

ایشیا کپ میں چھ ٹیمیں شریک ہیں لیکن ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ ٹورنامنٹ صرف پاکستان اور بھارت کے لیے ہی ہورہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایشیا کپ میں چھ ٹیمیں شریک ہیں لیکن ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ ٹورنامنٹ صرف پاکستان اور بھارت کے لیے ہی ہورہا ہے۔
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ایشیا کپ میں چھ ٹیمیں شریک ہیں لیکن ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ ٹورنامنٹ صرف پاکستان اور بھارت کے لیے ہی ہورہا ہے۔

ہر جانب انہی دو روایتی حریف ٹیموں کے چرچے ہیں اور انہی کے میچوں کا انتظار ہے۔

ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کا دو بار سامنا ہونے والا ہے اور اگر یہ دونوں ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئیں تو پھر تیسرا میچ بھی شائقین کا منتظر ہوگا۔

یہ پاکستان انڈیا میچز شائقین کو یقینی طور پر بہترین تفریح فراہم کرتے ہیں اور شائقین بڑی بے صبری سے ان میچوں کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ اسی کا اثر ہے کہ انیس ستمبر کو ان دونوں ٹیموں کے درمیان ہونے والے میچوں کی ٹکٹیں فروخت ہوچکی ہیں۔

پاکستان انڈیا کرکٹ کی شائقین کے نقطۂ نظر سے دلچسپی اپنی جگہ لیکن میدان میں اترنے والے کھلاڑیوں پر ان میچوں میں کتنا دباؤ ہوتا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے تاہم پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے خیال میں یہ پریشر میچز نوجوان کرکٹرز کو بہت کچھ سکھاتے ہیں۔

مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ جب نوجوان کرکٹرز دباؤ والے مواقعوں میں کھیلتے ہیں تو ان کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور یہ مواقع ان نوجوان کرکٹرز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ اور تجربہ فراہم کرتے ہیں کہ اس طرح کی صورتحال سےکیسے نمٹنا ہے۔

مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ آپ کو یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ سخت دباؤ میں کونسے کرکٹرز مقابلہ کرسکتے ہیں اور کونسے کرکٹرز دباؤ برداشت نہیں کرسکتے لہٰذا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پریشر میچز سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے میچوں میں کرکٹرز کے اعصاب اور کوالٹی کا امتحان ہوتا ہے۔ ’پاکستانی ٹیم زمبابوے میں شاندار پرفارمنس دے چکی ہے لیکن ایشیا کپ میں اس کے بیٹسمینوں کا امتحان ہوگا کہ وہ کلدیپ یادو اور چیہل کو کیسے کھیلتے ہیں۔‘

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پہلے تین چار بیٹسمینوں کا بھی امتحان ہے کیونکہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ میں چھکے مارنے کی صلاحیت فخر زمان کے علاوہ کسی دوسرے بیٹسمین میں بہت زیادہ نہیں ہے۔ پاکستانی بیٹنگ لائن پر ہر میچ میں تین سو رنز کرنے کا دباؤ موجود ہوگا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین بابراعظم کا کہنا ہے کہ انڈیا کے خلاف ہونے والے میچوں کو چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان دوطرفہ سیریز نہیں ہوتی ہیں اور یہ صرف آئی سی سی کے ٹورنامنٹس میں مدمقابل آتے ہیں لہٰذا جب بھی یہ دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آتی ہیں تو وہ اسے چیلنج سمجھتے ہیں۔

بابر اعطز کا کہنا ہے کہ وہ اس چیلنج سے ساتھ ہی لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور خود پر کسی قسم کا دباؤ محسوس نہیں کرتے اور کوشش کرتے ہیں کہ صورتحال کے مطابق اپنا نیچرل گیم کھیلیں۔