انڈیا کے سکولوں میں کرکٹ کیسے صنفی تفریق ختم کرنے میں مدد دے رہی ہے؟

- مصنف, ایلیسن ولکنز
- عہدہ, بی بی سی نیوز گلوبل ایجوکیشن
انڈیا میں ہزاروں بچے سکولوں میں کرکٹ سیکھ رہے ہیں۔ لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں کرکٹ جنون کے حد تک پسند کیا اور کھیلا جاتا ہے، کرکٹ سکھانے کی یہ کلاسز اس لیے نہیں ہیں کہ ان کے ذریعے ایک نیا وراٹ کوہلی ڈھونڈا جائے۔
کرکٹ سکھانے کی ان تربیتی کلاسوں کا مقصد صنفی تفریق کو مٹانا اور دونوں جنسوں میں برابری کو بڑھاوا دینا ہے۔
مغربی بنگال کے ایک سکول میں پڑھانے والی سمیتا کماری کہتی ہیں کہ انڈیا کی 80 آبادی دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے اور وہاں صنفی کردار اور معاشرے میں ان کے بارے میں چند مخصوص خیالات ہی ہوتے ہیں۔
جنسی تفریق کے حوالے سے مزید پڑھیے
'دیہات کے ماحول میں اگر دونوں جنسوں میں تفریق کی جائے تو وہ ان کی نشونما پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس میں لڑکیوں کے گھومنے پھرنے پر پابندیاں ہوتی ہیں اور کام کرنے کے حوالے سے بھی لڑکوں اور لڑکیوں میں فرق برتا جاتا ہے۔
لڑکے گھر سے باہر کام کرتے ہیں اور لڑکیاں چار دیواری کے اندر۔ اسی طرح اگر لڑکیاں کھیل میں دلچسپی رکھتی ہیں تو انھیں اس میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر لڑکے گھر کے کام کاج کرنے میں شوق دکھائیں تو معاشرہ اسے نیچی نظر سے دیکھتا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا میں برٹش کونسل کی جانب سے متعارف کیا گیا منصوبہ 'چینجنگ مووز چینجنگ مائنڈز' اسی حوالے سے کام کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے جس میں صنفی تفریق کو برابری کی سطح پر لانے کے لیے کرکٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

برٹش کونسل کے انڈیا میں سربراہ ایلن گیمل کہتے ہیں کہ کرکٹ انڈیا بھر میں بے حد پسند کیا جاتا ہے اور اس کی مدد سے ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ کام جو لڑکے کر سکیں وہ لڑکیاں نہیں کر سکتیں۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'یہ ہے تو بہت چھوٹی سی چیز لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے لوگوں کے رویے میں تبدیلی آئے گی اور وہ اس بارے میں شاید مختلف طرح سے سوچنے پر مجبور ہو جائیں۔'
سمیتا کماری اساتذہ کے اس گروپ سے تعلق رکھتی ہیں جنھوں نے اس منصوبے کے پائلٹ پروگرام میں حصہ لیا جس میں بچوں کو ایسا رقص سکھایا گیا جس میں کرکٹ کھیلنے کے انداز اور حرکات شامل تھے۔
شروعات میں ان کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا
انھوں نے کہا کہ بچوں نے کہا کہ وہ اس طریقہ کار سے مطمئن ہیں اور ایک لڑکے نے کہا کہ ہم لڑکیوں کے ساتھ کیسے رقص کر سکتے ہیں۔ سمیتا کے مطابق ایک اور لڑکے نے کہا کہ لڑکیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا ناممکن ہے۔

دوسری جانب لڑکیوں نے بھی ان سے کہا کہ وہ تو کرکٹ کھیلنا ہی نہیں جانتی۔ لیکن آہستہ آہستہ ان کے رویے میں تبدیلی آئی۔
سمیتا بتاتی ہیں کہ انھوں نے مسلسل بچوں کی رہنمائی کی اور ان سے بات چیت کرتی رہیں اور ساتھ ساتھ ان کے والدین سے بھی گفتگو کی۔
'اس کی وجہ سے آخر کار بچیاں کرکٹ کھیلنے پر راضی ہوئی اور لڑکوں نے رقص کرنا شروع کیا۔اس کے بعد پھر وہ بچے ہمارے سے اطمینان سے بات کرنے لگے اور اپنے مسائل کے بارے میں بھی بتانے لگے۔'
پائلٹ پروگرام کی کامیابی کے بعد اب اس پروگرام کو انڈیا بھر کے کئی سکولوں میں متعارف کرایا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ تین لاکھ بچے اس میں حصہ لیں گے۔

ایلن گیمل کہتے ہیں کہ 'ہم اس منصوبے کی مدد سے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ کھیل کی مدد سے آپ بچوں اور بچیوں کو ساتھ تربیت دے سکتے ہیں اور اس کی مدد سے صنفی تفریق کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے۔'
سمیتا کماری کا بھی یہی خیال ہے کہ برٹش کونسل کے منصوبے کی مدد سے یہ تفریق ختم کی جا سکتی ہے اور دونوں صنفی برابری کی سطح پر آ سکتے ہیں۔









