یہاں کوہلی کے سوا کوئی محفوظ نہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
یہ پاکستان کے دورہ انگلینڈ کا آخری ٹیسٹ تھا۔ سلمان بٹ نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔ لارڈز کی کنڈیشنز میں امتحان تھا انگلش بیٹنگ کا، اور اسے سامنا تھا اپنے کرئیر کے پرائم ٹائم والے محمد عامر کا۔
محمد عامر نے جب ابر آلود صبح میں لارڈز کی وکٹ پر ڈیوک گیند کی کاٹ کا مظاہرہ کیا تو انگلش بیٹنگ پہ پت جھڑ کا سماں طاری ہو گیا اور پچاس سے بھی کم اننگز ٹوٹل پہ نصف بساط سمٹ گئی۔
مزید پڑھیے
جوناتھن ٹروٹ مگر ڈٹے رہے اور دوسرا اینڈ سٹورٹ براڈ نے سنبھال لیا۔ لیکن شومئی قسمت کہ اسی بیچ سپاٹ فکسنگ سکینڈل کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ اگرچہ پاکستان کو میچ میں واضح برتری حاصل تھی مگر سپاٹ فکسنگ کے انکشاف نے پاکستانی کیمپ کا مورال ایسا ڈاون کیا کہ سٹیورٹ براڈ ہی 169 رنز کی اننگ کھیل گئے۔
اور چوتھے ہی روز پاکستان وہ میچ ایک اننگز اور 225 رنز سے ہار گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پچھلے ہفتے برمنگھم میں وراٹ کوہلی نے ایک یادگار اننگز کھیلی اور انڈین بیٹنگ لائن کا بھرم رکھ لیا۔ مگر دوسری ہی اننگز میں انڈین بیٹنگ پھر اپنا بھرم گنوا بیٹھی اور وراٹ کوہلی کے انفرادی دو سو رنز کے باوجود انڈیا شکست کھا گیا۔
یہ نفسیاتی شکست و ریخت تھی یا اوہام کا مخمصہ، کہ لارڈز ٹیسٹ کے لیے وراٹ کوہلی نے شیکھر دھون کو بینچ پہ بٹھا دیا۔ مگر اس کے باوجود لارڈز کی بارش نے کوہلی کے ارمان بہا دیے اور سلیکشن کی تبدیلی بجائے خود ان کے آڑے آ گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلی اننگز میں بھارت کا ٹیم ٹوٹل اس قدر کم تھا کہ بولنگ اٹیک کے بھی حواس منتشر ہو گئے۔ رہی سہی کسر بارش سے متاثرہ لارڈز کی وکٹ نے نکال دی اور ایشون کا جادو بھی ماند پڑ گیا۔
اس نفسیاتی شکست و ریخت کا سب سے برا نتیجہ یہ ہوا کہ کرس ووکس ہی انڈین بولنگ کے لیے پہاڑ سے ثابت ہو گئے۔ وراٹ کوہلی کی کپتانی بھی جواب دے گئی۔ عموما ایسی بحرانی صورت حال میں ایشیائی کپتان فوراً سپنرز کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن کوہلی کو وہاں سے بھی کوئی صدا نہ آئی۔
اس ٹور سے پہلے کئی مبصرین کو گمان تھا کہ کوہلی کی ٹیم جن عوامل کے زیر اثر انگلینڈ کا سامنا کرے گی اور جو روٹ جس تنگی داماں کا شکار تھے، یہ بعید نہیں تھا کہ انڈیا یہ سیریز جیت بھی جاتا تو کم از کم ڈرا تو ممکن ہی تھا۔
مگر اب تک جتنی کرکٹ اس سیریز میں کھیلی گئی، کوہلی کی ٹیم پہ یہ دھبہ لگتا جا رہا ہے کہ وہ صرف گھر کے ہی شیر ہیں۔ حالانکہ اس ٹور سے پہلے انڈین کوچ روی شاستری اس عزم کا اعادہ کر رہے تھے کہ اس ٹور پہ بھارتی ٹیم دنیا کی بہترین ’اوورسیز ریکارڈ‘ والی ٹیم بن کر سامنے آئے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹیسٹ کرکٹ کی تاثیر کے حوالے سے مباحث گو نئے نہیں ہیں مگر جونہی کوئی ایسا بے جوڑ نتیجہ سامنے آتا ہے، یہ مباحث مزید زور پکڑ جاتے ہیں۔
انڈیا کی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کی رینکنگ ہی نہیں، کوالٹی کے اعتبار سے بھی بہترین ٹیم ہے۔ مگر جب کنڈیشنز بدلتے ہی پرفارمنس یکسر بدل جائے تو صرف ٹیم ہی نہیں، انٹرنیشنل کرکٹ اور دوطرفہ سیریز کے معیارات اور مقاصد پہ بھی سوال اٹھنے لگتے ہیں۔
مگر یہ مباحث تو سمٹنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ فی الوقت کوہلی کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اس طرح کی آمرانہ اپروچ کے ساتھ کرکٹ ٹیم نہیں چلائی جا سکتی کہ جہاں سوائے ان کے، ہر پلیئر اسی عدم تحفظ کا شکار ہو کہ اگلے میچ میں وہ گراونڈ میں ہو گا یا بینچ پہ۔












