ویسٹ انڈیز کے خلاف ورلڈ الیون کی قیادت شاہد آفریدی کریں گے

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشاہد آفریدی پاکستانی نمائندگی کرتے ہوئے 500 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیل چکے ہیں

آئی سی سی کے مطابق ورلڈ الیون کے کپتان اوئن مورگن کے زخمی ہونے کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی 20 میچ میں ورلڈ الیون کی قیادت شاہد آفریدی کریں گے۔

ورلڈ الیون اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 31 مئی کو ایک خیراتی میچ لندن کے تاریخی میدان لارڈز میں کھیلا جائے گا جس کا مقصد گذشتہ سال 2017 میں جزائر غرب الہند میں ارما اور مریا نامی سمندری طوفانوں سے کرکٹ سٹیڈیمز کو پہنچنے والے نقصانات کی تعمیر و مرمت کے لیے چندہ جمع کرنا ہے۔

انگلینڈ ‌کی ایک روزہ ٹیم کے کپتان اوئن مورگن انگلی فریکچر ہونے کے باعث اس مقابلے میں شرکت نہیں کر سکیں گے اور ان کی جگہ سابق پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی کپتانی کے فرائض سرانجام دیں گے۔

اوئن مورگن اتوار کو مڈل سیکس اور سمرسیٹ کے درمیان کاؤنٹی میچ کے دوران فیلڈنگ کرتے ہوئے زخمی ہوئے تھے۔

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ ایک اچھے مقصد کے لیے ورلڈ الیون ٹیم کی قیادت کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس کے علاوہ انگلش کرکٹرز سیم بلنگز، ٹائمل ملز اور سیم کرن کو بھی ورلڈ الیون کے سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

خیال رہے کہ لیگ سپننگ آل راؤنڈرز شاہد آفریدی پاکستانی نمائندگی کرتے ہوئے 500 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیل چکے ہیں اور عرصہ دراز تک تیز ترین سینچری بنانے کا ریکارڈ بھی ان کے نام رہا تھا۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہاردک پانڈیا کی جگہ محمد شامی کو ورلڈ الیون کے سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے

دوسری جانب ورلڈ الیون کے کوچ اینڈی فلاور کا کہنا ہے کہ ’میں ورلڈ الیون کے چیٹری ایونٹس میں پہلے بھی شرکت کرتا رہا ہوں، اور یہ ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ احساس اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اس میں شامل ہر شخص کی شمولیت کا مقصد ایک اچھا کام ہوتا ہے اور آپ کو اس کے دیگر کئی فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستانی اور انڈین کھلاڑی ایک ہی ڈریسنگ روم میں ہوں گے جو ہم عام طور پر نہیں دیکھتے۔‘

ورلڈ الیون کی ٹیم پاکستانی کھلاڑیوں شاہد آفریدی اور شعیب ملک کے علاوہ انڈین کرکٹرز محمد شامی اور دنیش کارتک اورافغانستان کے راشد خان بھی سکواڈ میں شامل ہیں۔