آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بال ٹیمپرنگ سکینڈل: سٹیو سمتھ آئی پی ایل میں بھی کپتانی نہیں کریں گے
جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران بال ٹیمپرنگ سکینڈل کے بعد سٹیو سمتھ نے انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم راجستھان رائلز کی کپتانی بھی چھوڑ دی ہے۔
اس حوالے سے آسٹریلوی کرکٹر سٹیو سمتھ کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ ٹیم اس سکینڈل سے قطع نظر آئی پی ایل کی تیاری کر سکے۔
سٹیو سمتھ کی جگہ اجنکیا ریحانے لیں گے۔
اس بارے میں مزید جانیے
انٹرنشینل کرکٹ کونسل جنوبی افریقہ کے خلاف جاری تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران بال ٹیمپرنگ کے سکینڈل کے بعد آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ پر پہلے ہی ایک میچ کی پابندی لگاچکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی سی سی نے سٹیو سمتھ پر ایک میچ کی پابندی کے علاوہ انھیں مکمل میچ فیس بطور جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
راسجتھان رائلز کے ہیڈ آف کرکٹ زوبن بروچہ نہ کہا ہے کہ ’کیپ ٹاؤن میں ہونے والے اس واقعے نے کرکٹ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم بی سی سی آئی (انڈین کرکٹ بورڈ) سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اس بارے میں ان کا موقف لیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم سٹیو کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔‘
خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف جاری تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران بال ٹیمپرنگ کے سکینڈل کے بعد آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ اس میچ کے لیے کپتانی سے اور ڈیوڈ وارنر نائب کپتانی سے دستبردار ہو گئے تھے۔
گذشتہ روز سمتھ نے کہا تھا کہ ٹیم کے 'لیڈرشپ گروپ' نے گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے منصوبے پر بات کی تھی جسے بلے باز کیمرون بینکروفٹ نے پایۂ تکیمل تک پہنچایا۔
اگر آسٹریلوی ٹیم کے کوچ کو ۔۔۔
دوسری جانب آسٹریلیا کے سابق کوچ جان بکنن نے کہا ہے کہ اگر آسٹریلوی ٹیم کے کوچ ڈیرن لیمن کھلاڑیوں کی جانب سے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے دوران بال کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے منصوبے سے آگاہ نہیں تھے تو یہ ’انتہائی غیر متوقع‘ ہے۔
جان بکنن جو 1999 سے 2007 کے درمیان آسٹریلوی ٹیم کی کوقنگ کر چکے ہیں کے خیال میں سٹیو سمتھ کی پوزیشن اب غیر مستحکم ہو گئی ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ ممکن ہے وہ منگل کو اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کے حوالے سے ’مکمل طور‘ پر لوگوں کو آگاہ کر دے۔
آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے سربراہ جیمز سدرلینڈ کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ آسٹریلینز کو جواب چاہیے۔‘