آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بال ٹیمپرنگ سکینڈل: سٹیو سمتھ پر ایک میچ کی پابندی اور مکمل میچ فیس کا جرمانہ
انٹرنشینل کرکٹ کونسل نے جنوبی افریقہ کے خلاف جاری تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران بال ٹیمپرنگ کے سکینڈل کے بعد آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ پر ایک میچ کی پابندی لگا دی ہے۔
آئی سی سی نے سٹیو سمتھ پر ایک میچ کی پابندی کے علاوہ انھیں مکمل میچ فیس بطور جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس پابندی کے بعد اب سٹیو سمتھ جنوبی افریقہ کے خلاف چوتھے ٹیسٹ میچ میں نہیں کھیل پائیں گے۔
سٹیو سمتھ کے علاوہ بال ٹیمپرنگ سکینڈل میں ملوث کیمرون بینکروفٹ کو میچ فیس کا 75 فیصد بطور جرمانہ ادا کرنا ہو گا اور انھیں تین ڈیمیرٹ پوائنٹس بھی دیے گئے ہیں۔
اس بارے میں مزید جانیے
خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف جاری تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران بال ٹیمپرنگ کے سکینڈل کے بعد آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ اس میچ کے لیے کپتانی سے اور ڈیوڈ وارنر نائب کپتانی سے دستبردار ہو گئے تھے۔
گذشتہ روز سمتھ نے کہا تھا کہ ٹیم کے 'لیڈرشپ گروپ' نے گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے منصوبے پر بات کی تھی جسے بلے باز کیمرون بینکروفٹ نے پایۂ تکیمل تک پہنچایا۔
آئی سی سی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سٹیو سمتھ نے تسلیم کیا کہ ان کا جو طرز عمل تھا وہ کھیل کی روح کے خلاف تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف اگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا ہے کہ ’بطور کپتان سٹیو سمتھ کو اپنے کھلاڑیوں کے عمل کی مکمل ذمہ داری لینا ہو گی،اور انھیں معطل کرنا مناسب ہے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ روز جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کیمرون بینکروفٹ کو ٹی وی کیمروں نے ایک پیلے رنگ کی ٹیپ گیند پر رگڑتے ہوئے عکس بند کیا تھا جس کے بعد یہ بھی دیکھا گیا کہ انھوں نے یہ ٹیپ امپائروں سے چھپانے کے لیے اپنی پتلون میں ڈال لی۔
اتوار کو میچ کا چوتھا دن ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ جیمز سدرلینڈ نے کہا: 'یہ میچ جاری رہنا چاہیے۔ اس دوران ہم اس معاملے کی اس تندہی سے تفتیش کریں گے جس کا یہ مستحق ہے۔
'کرکٹ آسٹریلیا اور آسٹریلوی تماشائی ملک کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں سے ایک خاص معیار کے طرزِ عمل کی توقع رکھتے ہیں، اور اس موقع پر یہ معیار برقرار نہیں رکھا گیا۔
'ہماری طرح تمام آسٹریلوی جوابات چاہتے ہیں اور ہم ترجیحی بنیادوں آپ کو باخبر رکھیں گے۔'
اس واقعے کے بعد سمتھ نے کہا تھا کہ یہ 'بڑی غلطی' تھی لیکن وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔
آسٹریلیا کے سپورٹس کمیشن نے سمتھ کو فوری طور پر کپتانی سے دستبردار ہونے کا کہا ہے، بمع ٹیم کے ان ارکان یا تربیتی عملے کے جنھیں اس منصوبے کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔'
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم میلکم ٹرن بل نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کیا ہے۔ انھوں نے کہا: 'مجھے صدمہ پہنچا ہے اور میں جنوبی افریقہ سے آنے والے خبر سے مایوس ہوا ہوں۔'
انھوں نے کہا: 'یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ آسٹریلین کرکٹ ٹیم دھوکہ دہی میں ملوث رہی ہے۔ ہمارے کرکٹر ہمارے رول ماڈل ہیں اور کرکٹ سے ایمانداری منسوب ہے۔ ہماری ٹیم اس طرح کی دھوکہ دہی میں کیسے شامل ہوئی؟ یہ ناقابلِ یقین ہے۔'
سابق آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک نے کہا: 'یہ آسٹریلوی کرکٹ کے لیے انتہائی برا دن ہے۔' انھوں نے اسے سوچی سمجھی دھوکہ بازی قرار دیا اور اس بات کی مذمت کی کہ اس مقصد کے لیے ایک ناآموز کھلاڑی بینکروفٹ کا انتخاب کیا گیا۔