ٹرافی اٹھائیے؟ سرخ کاپی اٹھائیے

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

لیگ کرکٹ میں عمومی تاثر یہ ہے کہ فرنچائز خریدنا بھی ریس کے گھوڑوں پہ بازی لگانے جیسا ہی ہے۔ جتنا بڑا نام، اتنی بھاری رقم، اتنی ہی میڈیا ہائپ اور ویسی ہی کمرشل ویلیو۔ فرنچائز مالکان چونکہ کرکٹرز نہیں ہوتے، اس لیے ان کو گمان ہوتا ہے کہ کمرشل ویلیو ہی کمرشل پرافٹ پیدا کر سکتی ہے۔

مثلا لاہور قلندرز اور کراچی کنگز نے اس سیزن میں بھی سراسر کمرشل ویلیو کو ہی محور حیات سمجھے رکھا۔ اس سے یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹیم کا ایک ’ماحول‘ سا بن جاتا ہے، گویا ڈنکہ بجنے لگتا ہے۔

لیکن جونہی ٹورنامنٹ شروع ہوتا ہے تو ساری کی ساری کمرشل ویلیو صرف شرٹ کے لوگوز تک سمٹ جاتی ہے اور کرکٹنگ ویلیو کی جانچ شروع ہو جاتی ہے۔ تب یہ بے معنی رہ جاتا ہے کہ کس نے کتنے پیسے خرچ کئے۔ وہ ڈنکہ اچانک عنقا ہونے لگتا ہے اور وہ ’ماحول‘ یکایک سرد ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ مقابلہ صرف گیند اور بلے کا رہ جاتا ہے۔

اب تک کے تینوں سیزنز میں اسلام آباد یونائیٹڈ کا سفر دیکھیں تو حیرت اس بات پہ ہوتی ہے کہ کبھی بھی اس فرنچائز نے کمرشل ویلیو پر زیادہ دھیان نہیں دیا۔ بطور برانڈ یہ مزاج کی دھیمی رہی ہے۔ اس کے میڈیا پارٹنرز بھی اسی کی طرح نیم مزاج سے ہیں۔ اسی لیے تینوں سیزنز کے ڈرافٹس سے لے کر فائنل میچ تک، کبھی بھی ان کو واضح فیوریٹس نہیں سمجھا گیا۔

فرنچائز کرکٹ مینجمنٹ کی پیچیدگیاں اپنی جگہ مگر پی ایس ایل کی فرنچائز مینجمنٹ میں کچھ درد کرکٹ سے سوا بھی ہوتے ہیں۔ کچھ روز پہلے معین خان پی سی بی سے نالاں دکھائی دیے کہ ایسے پلیئرز ڈرافٹ ہی کیوں کیے جاتے ہیں جو پاکستان آنے کو تیار نہیں ہوتے۔ حیرت یہ ہوئی کہ جب پچھلے سال بھی یہ معاملہ پی سی بی نے فرنچائزز اور پلیئرز کی صوابدید اور فریقین کی مرضی پہ چھوڑ دیا تھا تو اس بار انھوں نے پیٹرسن کو ڈرافٹ ہی کیوں کیا۔

اس بار جب ڈرافٹ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے شین واٹسن اور ڈوین سمتھ کو ریلیز کیا تو یہ کمرشل ہی نہیں، کرکٹنگ نقطۂ نگاہ سے بھی غلط چال دکھائی دے رہی تھی۔ لیکن جب ناک آوٹ مراحل قریب آئے تو یہی فیصلہ اسلام آباد کی سب سے بڑی قوت بن گیا۔ سو واٹسن اور سمتھ کے پاکستان نہ آنے کا خسارہ کوئٹہ اور پشاور کو بھگتنا پڑا، اسلام آباد کا یونٹ مکمل رہا۔ اگر تب یہ مشکل فیصلہ نہ کیا جاتا تو شاید ڈین جونز بھی معین خان کی جگہ کھڑے وہی کچھ کہہ رہے ہوتے۔

ثانیا، فرنچائز کرکٹ میں ٹیم بنانے کے لیے بڑے سٹارز ضروری سمجھے جاتے ہیں اور مینیجمنٹ سٹاف کو ثانوی اہمیت دی جاتی ہے۔ لیکن اسلام آباد نے ٹیم بنانے کے لئے اس کا الٹ طریقہ نہ صرف اپنایا بلکہ درست بھی ثابت کیا۔ گراؤنڈ میں اچھی ٹیم بنانے سے پہلے آفس میں اچھی ٹیم بنائی گئی۔ نتیجتاً گراونڈ میں ٹیم خودبخود اچھی بن گئی۔ مینیجرز سے بولنگ کوچ تک اور ہیڈ کوچ سے کپتان کے انتخاب تک سبھی فیصلے کمرشل ملاوٹ سے محفوظ رہے۔

ٹی 20 نے کرکٹ کو باسکٹ بال جیسی ریاضیاتی سائنس بنا دیا ہے۔ کچھ روز پہلے جب پوسٹ میچ تقریب میں مصباح سے پوچھا گیا کہ ڈین جونز اپنی سرخ کاپی میں کیا لکھتے رہتے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ کھیل میں کپتان کو بیرونی امداد بھی درکار ہوتی ہے۔ ڈین جونز کی سرخ کاپی وہ بیرونی امداد ہے جو انھیں یہ بتاتی ہے کہ کس بلے باز کے لیے کون سا بولر تگڑا رہے گا۔

ویسے یہ عین ممکن تھا کہ عماد وسیم اور شاہد آفریدی زخمی نہ ہوتے تو فائنل میں دوسری ٹیم شاید پشاور زلمی نہ ہوتی۔ کراچی کی بدقسمتی یہ رہی کہ ناک آوٹ مراحل میں انھیں قیادت کی بے یقینی نے گھیرے رکھا۔ جب گراونڈ میں اترنے سے صرف چار گھنٹے پہلے کپتان کا تعین کیا جا رہا ہو تو جیت کے لئے جادو کی چھڑی ہی ڈھونڈنا پڑتی ہے۔

ٹھیک اسی طرح اسلام آباد کو بھی دشواری کا سامنا رہا۔ شروع کے میچوں میں مصباح ان فٹ رہے۔ وہ فٹ ہوئے تو نائب کپتان رمان رئیس انجرڈ ہو گئے۔ ایسے میں جب دوبارہ مصباح کی چوٹ سامنے آئی تو یہ نیم بحرانی صورت حال تھی۔ ایسے میں کسی بھی فرنچائز کا اعتماد ڈگمگا جاتا لیکن یونائیٹڈ کا شروع سے فوکس کرکٹنگ ویلیو اور سرخ کاپی ہی تھے، اس لیے دشواری کسی بحران میں بدلنے سے پہلے ہی سہل ہو گئی۔

ان چار ہفتوں میں کافی اتھل پتھل ہوئی۔ بڑے بڑے برج گر گئے۔ ہاٹ فیورٹس پہلے راونڈ سے باہر ہوئے۔ بہت سی توقعات نظر کا دھوکہ نکلیں۔ لیکن اسلام آباد یونائیٹڈ کی توجہ اپنے مقصد سے بالکل نہیں بٹی۔

نہ انھیں ناک آوٹ تک رسائی کے لیے کسی کے ہارنے کا انتظار کرنا پڑا اور نہ ہی ٹرافی اٹھانے کے لئے کسی اور کے گرنے کا۔